ممبئی ۔ 18؍ نومبر 2023 (:) ملک کے مو جودہ حالات کے پیش نظر ہر مسلمان مرد و عورت کے ناموں کا ووٹر لسٹ میں اندراج اور ووٹر آئی ڈی کارڈ کا ہو نا ضروری ہے ،ووٹر آئی ڈی کارڈ صرف ووٹ ڈالنے کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ حکومت کی نظر میں ہندوستانی شہری ہونے کا ایک اہم ثبوت ہے ۔ جمعیۃ علماء مہا راشٹراپنی سابقہ روایت کے مطابق عوام الناس کواس با ت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتی ہے! کہ الیکشن کمیشن آف انڈیاکی ہدایت پر پورے مہا راشٹر میں ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کا اندراج ، غلط نام وپتہ کی درستگی ،نام منتقل کرنے ،اور منسوخ کرنے کی خصوصی مہم شروع ہے ۔ان خیا لات کا اظہار آج یہاں دفتر جمعیۃ علماء مہا راشٹر واقع زین العابدین بلڈنگ بھنڈی بازار میں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے اخبارات کے لئے جاری اپنے ایک صحافتی بیان میں کیا ۔
مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ اس خصوصی مہم کے ذریعہ سبھی شہریوں کو ووٹر بنانے کا عزم کیا گیا ہے تاکہ کوئی شہری اپنے حق رائے دہی کے استعمال کرنے سے محروم نہ رہے ۔اس جمہوری ملک میں حق رائے دہی کی بڑی اہمیت ہےحق رائے دہی کے لئے ووٹر لسٹ میں نام کا اندراج ہونا ضروری ہے ۔اس لئےجن کی عمر 18 سال ہو چکی ہے اور ابھی تک ووٹر لسٹ میں ان کے ناموں کا اندراج نہیں ہے ،ایسے ہی بہت سے لوگوں کا نام ، ولدیت ،پتہ وغیرہ غلط درج ہو گیا ہے یاشناختی کارڈ کھو گیا یا خراب ہوگیا ہے، یا شادی ہوئی ہے اور بہوئیں گھر میں آئی ہیں اور ابھی تک ان کا شناختی کارڈ نہیں بنا ہے ۔ایسے تمام لوگ اپنے دستاویزات مثلاآدھار کارڈ ،راشن کارڈ، لائٹ بل و دیگر سرکاری کاغذات کے ساتھ حکومت کی طرف سے بنائے ہوئے سینٹروںمیں پہونچ کر ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کا اندراج اور درستگی کا کام کروالیں ،یا ووٹر ہیلپ لائن ایپ ڈائون لوڈ کرکے خود کر لیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کی آخری تاریخ 9؍ دسمبر 2023 مقرر کی گئی ہے، اس دوران ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج اور تصحیح(Correction )کا کام کیا جائے گا۔اگر کوئی دقت پیش آئے تواپنے قریبی بی ایل اوسے رابطہ کریں۔ مولانا ندیم صدیقی نے عوام الناس خصوصا دینی ملی اداروں ،تنظیموں، سیا سی سماجی کارکنوں اور جمعیۃ علماء کے ضلعی ،شہری ،مقامی ذمہ داروں سے ہمدردانہ اپیل کی ہے کہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس مہم کابھر پور فائدہ اٹھا ئیں،اس کے لئے قوم کے باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے آس پاس سیدھے سادھے اور بے فکر لوگوں کا جائزہ لیں کہ آیا ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہے یا نہیں اگر شامل نہیں ہے تو ان کی مدد کریں تاکہ ان کا نام وو ٹر لسٹ میں شامل ہو سکیں اس سلسلے میں کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کو دست تعاون دراز کرنا چاہیے۔ علماء کرام اور ائمہ مساجد سے بھی درخواست ہے کہ جمعہ کے بیانات میں اس جانب عوام کی توجہ مبذول کرائیں۔












