
حیدرآباد27نومبر: صدر کانگریس ملک ارجن گھڑ گے نے تلنگانہ میں معلق اسمبلی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس دو تہائی اکثریت کے ذریعہ اپنے طور پر حکومت بنائے گی۔ انہوں نے ایک تلگو نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام بی آر ایس کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ عوام نے تبدیلی کے لیے ذہن بنا لیا ہے ۔یہ کہتے ہوئے کہ ریاست کے عوام کی مکمل حمایت کانگریس کو حاصل ہے ،انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی طرح یہاں پر بھی کانگریس اپنی ضمانتوں کو پورا کرے گی۔ وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ کی طرز حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گھر گے نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ آمرانہ طرز حکمرانی رکھتے ہیں اور وہ خود کو مجاہد ازادی سمجھ رہے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ انہوں نے تلنگانہ کو کسی ملک سے آزادی دلائی ہے جب کہ انہوں نے تلنگانہ کے نام پر بہت کچھ حاصل کر لیا ہے حالانکہ تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دلانے کے لیے کئی افراد نے قربانیاں دی ہیں۔چندر شیکھر راؤ کو دو مرتبہ وزیر اعلی بننے کا موقع ملا وزیر اعلی بننے کے باوجود بھی جو کام کرنا تھا انہوں نے نہیں کیا کالیشورم پروجیکٹ کی تعمیر میں بد عنوانیوں کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر کانگریس نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تعمیر میں رقم کا غلط استعمال کیا گیا ہے ۔ سی اے جی نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی ہے ۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ چندر شیکھر راؤ قابل اعتماد نہیں ہیں اسی لیے عوام ان کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس کی جانب سے نافذ کردہ ضمانتوں پر کامیابی سے عمل کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے اس بات کی جھوٹی تشہیر کی جا رہی ہے کہ پڑوسی ریاست میں کانگریس حکومت ضمانتوں پر عمل نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی آر ایس نے انتخابی وعدوں کو پورا کیا ہے ۔ کانگریس پر کام نہ کرنے کے الزامات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی اور پھر آزادی کے بعد ملک کی ترقی میں کانگریس کا اہم رول رہا ہے کانگریس ریاستوں میں وزیر اعلی کی تبدیلی سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صدر کانگریس نے دو ٹوک انداز میں سوال کیا کہ کیا کرناٹک، ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں وزرائے اعلی تبدیل کیے گئے ہیں۔ ریاست میں انتخابی نتائج کے بعد وزیر اعلی کے انتخاب سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ ہائی کمان، راہل گاندھی،سونیا گاندھی اور دیگر سینئر رہنما کریں گے ۔ اس میں مقامی ارکان اسمبلی کی رائے بھی لی جائے گی جو وزیر اعلی کا نام تجویز کریں گے ۔ اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں دو لاکھ ملازمتیں مخلوعہ ہیں جن کو پر کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے صدر تلنگانہ کانگریس پر ٹکٹوں کو فروخت کرنے کے الزام کو مسترد کر دیا اور کہا کہ پارٹی کی الیکشن کمیٹی اس کا فیصلہ کرتی ہے ۔ انہوں نے اسے جھوٹا پروپگنڈہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اگر رشوت خور ہوتی تو طویل عرصہ تک اس کی بقا ممکن نہیں ہوتی۔ انہوں نے مودی اور کے سی آر کو دوست بھی قرار دیا۔صدر کانگریس نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بہتر حکمرانی اور منصفانہ حکومت کے لیے کانگریس کو اپنے ووٹ کے ذریعہ ایک موقع دیں۔
دریں اثناء کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی نے کہا ہے کہ تلنگانہ میں عصمت دری اور کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بھونگیر میں روڈ شو میں حصہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ دو مرتبہ عوام نے بی آرایس کو حکومت دی تاہم عوام کیلئے کچھ نہیں کیاگیا۔کانگریس کو ایک موقع دیا گیا تو ہم ترقی دکھائیں گے ۔یہ کہتے ہوئے کہ بی آر ایس حکومت سے غریبوں کو کچھ نہیں مل رہا ہے ،انہوں نے کہاکہ قرض معافی نہ ہونے سے کسان پریشان ہیں۔تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود نوجوانوں کی خواہشات پوری نہیں ہوئیں کیونکہ بی آر ایس کے وزراء اور ایم ایل ایز نے فارم ہاؤس بنائے ۔ریاست میں کانگریس اقتدار میں آنے پر 6 ضمانتوں کو نافذ کیاجائے گا۔اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ تلنگانہ کے لیے نوجوانوں نے قربانیاں دیں،انہوں نے کہاکہ حکومت نے تمام کو مایوس کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس عوام کی حکمرانی لائے گی۔بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔مکان کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپئے دیئے جائیں گے ۔خواتین کے لیے ہر ماہ 2 ہزار 500روپئے دیئے جائیں گے ، ساتھ ہی ان کو بس میں مفت سفرکی سہولت فراہم کی جائے گی۔کانگریس حکومت ہر گھر کو 200یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرے گی۔کسانوں کے قرض کی معافی کی جائے گی۔ غریب کو 4 ہزار پنشن دیاجائے گا۔اقتدار میں آنے کے بعد ریاست میں ملازمتوں کو پُرکرنے اعلامیہ جاری کیاجائے گا۔












