سماج میں جب جرائم بڑھنے لگتے ہیں تو
( سید مجاہدحسین)
معاشرہ کے لوگوں کاخوف میں مبتلا ہونا فطری بات ہے ،لیکن انہیں اس خوف سے باہر نکالنا یا محفوظ رکھنا انتظامیہ اور پولس کا کام ہوتا ہے کہ وہ مجرموں کی جلد پکڑ دھکڑ کرے اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کرے ،لیکن دیکھا گیا ہے کہ دہلی میں پچھلے پانچ ماہ قبل ہوئے ایک لڑکی کے دردناک قتل میں ملوث مجرم کی گرفتاری اب تک نہیں ہو سکی تھی !۔آج جب اس کی گرفتاری عمل میں آئی تو اس نے قتل کے جرم سے پردہ اٹھا یا، جس نے پولس کے ہوش اڑا دئے ۔بتایا جاتاہے کہ لڑکا اور لڑکی دونو ں لیو ان رلیشن میں ممبئی میں رہتے تھے ،اور وہ لڑکی کو شادی کا جھانسا دے کر دہلی لے آیا تھا ،لیکن جب لڑکے نے شادی کرنے سے انکا ر کردیا تو دونوں میں تکراربڑھنے لگی۔کہا جاتا ہے کہ دونوںکے درمیان اکثرجھگڑا بھی ہوتا تھا لیکن ایک دن اتنی گرما گرمی ہو گئی کہ لڑکے نے اپنی دوست کا قتل ہی کر دیا ،یہی نہیں ، اس نے قتل کرنے کے بعد اس ڈرسے کہ لاش سے بدبو نہ آنے لگے ،اس کے پینتیس ٹکڑے کر کے فرج میں رکھ دیا ،بعد میں اس کو ٹھکانے لگانے کیلئے کچھ ٹکڑے ایک تھیلی میں لے کر جاتا اور سنسنان جنگل میں پھینک آتا تھا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قتل کی بھنک پولس کو کئی دن تک نہیں لگی ،جب لڑکی کے گھر والے اسے ڈھونڈتے ہوئے اس کے ٹھکانے پر پہنچے تو ان کی رہائش پر تالا لگا ہوا ملا۔تب انہوںنے پولس کو اطلاع دی۔اب پانچ مہینے بعد پولس کو ملزم ہاتھ لگا ہے جس سے مزید کئی اہم انکشافات سامنے آنے باقی ہیں۔ظاہر ہے ایسے معاملے بے حد سنگین ہوتے ہیں لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی سامنے نہیں آتے اور وہ راز ہی رہ جاتے ہیں۔پانچ ماہ قبل ہوئے اس دلدوز اور دردناک قتل کے بعد پولس اور انتظامیہ کے کام کے طور طریقوں پر سوال بھی اٹھ رہے ہیں ۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ دہلی پولس جو خود کو نہایت مستعد بتاتی ہے اس کو اس قتل کی کبھی بھنک تک نہیں لگی یہاں تک کہ ملزم اس کی گرفت سے باہر رہا !۔ا سے تو سراسر پولس کی ناکامی نا کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ؟۔
کیونکہ اگر اس دوران ملزم ملک سے باہر چلا جاتا تو پھرپولس کیا کرتی ، کیا اس کوگرفتار کرنا آسان ہوتا؟۔حالیہ دنوں میں دیکھا جارہا ہے کہ نوجوانوں میں تو اس طرح کے گھنائونے جرم کا رجحان زیادہ بڑھا ہے ، لیکن اس کے ساتھ پولس کے کام کا طور طریقہ بھی کم پریشان کرنے والا اور فکر انگیز نہیں ! بلکہ حکومتوں کا رویہ بھی مجرموں کے ساتھ کم چونکانے والا نہیں ۔ نوجوانوں میں اس طرح کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے اور ان میں پولس اور قانون کا کوئی خوف کیوں نہیں ہے یہ سوال منہ پھاڑے کھڑا ہے۔جس آفتاب نامی لڑکے نے اپنی دوست کا مبینہ طور پر قتل کیا شاید اس کا کبھی کرمنل ریکارڈ نہیں رہا ہوگا،اور نا ہی وہ مجرمانہ ذہنیت کا ہوگا!۔ایسے لڑکوں کوقتل جیساقدم اٹھانے کی نوبت کیوں آجاتی ہے ،کسی کو اس طرح کے سنگین نوعیت کے واقعات کی کوئی بھنک کیوں نہیں لگ پاتی؟،یہ سوچنے والا پہلو ہے۔کیا یہ سب قانون کی گرفت کے خوف کی کمی کی وجہ سے ہے ،یا اس کے پیچھے اور کچھ بات ہے !۔ سماج میں اس طرح کی ذہنیت کیوں پائوں پسار رہی ہے یہ سوال زیادہ اہم ہے ۔ایسا کیا ہے کہ اب مجرمانہ سوچ عام نوجوانوں کو اپنی گرفت میں تیزی سے لے رہی ہے ؟کیا اس کے پیچھے پولس کی کمزور تحقیقات ،کمزور کورٹ ٹرائل اوران میں تاخیر بڑی وجہ تو نہیں ہیں؟ جس کا فائدہ انہیں پہنچ رہا ہے! ۔کیا کہیں پولس تحقیقات میں لچیلا پن ایسے واقعات کو بڑھنے کا سبب تو نہیں بن رہے ہیں! اس طرف سوچنا ضروری ہے۔ایسا کیوں ہوتاہے کہ پکڑے جانے کے باوجود ملزمان میں پولس یا قانون کا کوئی خوف نہیں ہوتا اور وہ بے خوفی اور فخر سے اپنے کرتوت کو بیان کرتے ہیں اور بعد میں وہ عدالت سے چھوٹ بھی جاتے ہیں !۔
یقینایہ ایک بیہودہ سوچ ہے،جو سماج میں لڑکیوں کے تحفظ اور مہذب سماج کی بنیاد رکھنے میں حائل نظر آرہی ہیں ۔اس طرح کے واقعات پر تب تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی نہیں چھوڑی جاتی ،ان کو جیل میں بند کر کے رکھنے میں سختی نہیں برتی جاتی،انہیں پیرول میں باہر آنے سے نہیں روکا جاتا ۔جب مجرموں کی حمایت کی جائے گی،ان کے حوصلوں کو بڑھایا جارتا رہے گا ، گھنائونے واقعات ہی جنم لیںگے ۔ہمارے سامنے کئی مثالیں ایسی ہیں جو یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ سماج دشمن اور غنڈہ گردی کرنے والے طبقہ کے ساتھ کس طرح موجودہ حکومت میں نرمی برتی گئی ہے ! جس کی وجہ سے سماج خوف سے آزاد نہیں ہو پارہا ہے! ۔اس خیال کو کسی بھی طرح سے درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا ،نا ہی سراہا جاسکتا ہے، کہ جیلوں سے مجرموں کو معافی دے کر چھوڑ دیا جائے یا ان کو بہانے سے پیرول دے دیا جائے ۔بلقیس کیس کے گیارہ مجرموں کی گجرات میں رہائی ،قاتل اور زانی گرمیت رام رحیم کا پیرول پر باہر آ جانا ،چھائولہ میں ایک دوشیزہ کے قاتلوں کو بری کردیا جانا یا پھرسابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی ہوجانا یہ کچھ ایسے معاملات ہیں جو انصاف کے عمل میں حائل ہیں اور قانون کو ٹھینگا دکھاتے ہیں ،ان سے پورا سماج بے چین ہے۔جب تک مجرموں کے ساتھ سختی نہیں برتی جائے گی ،پولس کا رول بہتر نہیں ہوگا ، سماج کو گھنائونے جرائم سے پاک رکھنا ممکن نہیںہوگا۔
( سید مجاہدحسین)












