شاذیہ زریں
7078702997
لامہ اقبال کو حکیم اُلامّت، امامِ ادب اور شاعرِ مشرق جیسے القاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور انہیں مفکر و فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔کیا شاعرِ مشرق سے مراد ایسے شاعر سے ہے جو بعض دیگر شعرا ءکی طرح مشرق کی ہر چیز اور ہر رسم و رواج کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اور مغربی ممالک کے ہر فعل و عمل سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ مگر کلامِ اقبال کا مطالعہ کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح نہ تو مشرق کے دل دادہ اور ثنا خواں ہیں اور نہ مغرب سے حددرجہ بیزار۔ اقبال کے کلام اور ان کے افکار و نظریات کو سمجھنے کےلئے عہدِ اقبال کے تاریخی پس منظر سے واقفیت ضروری ہے۔ دراصل اقبال سے قبل اور ان کے عہد میں پورا ایشیا روبہ زوال تھا۔ سیاسی اور مادی تنزلی کے علاوہ اخلاقی قدریں بھی بڑی تیزی سے دم توڑتی جا رہی تھیں۔ توہم پرستی اپنے عروج پر تھی ۔ دیگر اقوام کی بہ نسبت مسلمانوں کی حالت کچھ زیادہ ہی ناگفتہ بہ تھی۔ اقبال نے نہ صرف اُنہیں اچھی طرح محسوس کیا بلکہ وہ اُن مسائل اور اُن کے تدارک کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ انہیں جس قدر مشرق کے حالات و مسائل سے واقفیت تھی اُسی قدر وہ مغرب کے علم و حکمت اور تہذیب و تمدّن پربھی نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مشرق میں عملی اور روحانی انحطاط اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد مسلمان ہی نہیں بلکہ ایشیاکی تمام قومیں نہایت پسماندہ اور بے روح سی ہو گئی ہیں۔ اس کے ساتھ اُنہیں مغربی جمہوریت کے تصوّر کی بے مائیگی کا شدید احساس بھی ہونے لگا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایشیا ئی قوموں کی روح کو بیدار کرنے اور انہیں فکرِ مغرب کے مہلک نتائج سے باخبر کرنے کی کوشش اپنے کلام کے ذریعہ مسلسل کرتے رہے ہیں۔ جس کی واضح مثال ان کی نظم ”خضرِ راہ“ ہے۔ انہوں نے اس نظم کے ذریعہ مسلمانوں کوان کے تابناک ماضی کی یاد دلاتے ہوئے حال کو بھی بہتر بتانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ سعیِ پیہم اور مسلسل جدوجہد کے ذریعہ سوئی ہوئے روحِ عصر کو اس طرح بیدار کرتے ہیں
اے تری چشمِ جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش
کشتیِ مسکین وجانِ پاک و دیوارِ یتیم
علمِ موسیٰ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش
زندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش
ہو رہا ہے ایشیا کا خرقئہ دیرنیہ چاک
نوجواں اقوامِ نَو دولت کے ہیں پَیرایہ پوش
آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
اقبال کی بعض نظمیں پڑھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے شاعر ہیں اور ان کی زیادہ تر نگارشات مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کے لئے ہی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ جہاں مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے وہیں تمام ایشیائی قوموں کو بھی عملِ پیہم اور جدو جہد کے ذریعہ پستی کے غار سے نکالنے کی طرف بھی متوجہ کیا ہے۔ اقبال صرف مسلمانوں اور ایشیائی قوموں ہی کے نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کے سچّے اور دردمند شاعر ہیں۔
اقبال جہاں مغرب کے مادیت پرستانہ مزاج سے بدظن نظر آتے ہیں وہیں وہ اپنی ایک مشہور نظم ”پیامِ مشرق“ کے ذریعہ مشرق کی اُن قدروں پر بھی کاری ضرب لگانے سے نہیں ہچکچاتے جو مخرّبِ اخلاق ہوں یا رہبانیت کی طرف مائل کر کے فکر و عمل سے بیگانہ کر دیں۔ انہوں نے اِسی نظم کے ذریعہ مغربی مفکّروں ،ادباء،شعراءاور دانشوروں کے کمالات کا کھلے ذہن سے اعتراف بھی کیا ہے اور مشرق و مغرب کی خرابیوں کو بھی بڑی بے باکی سے واضح کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ملا حظہ فرمائیے
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا، وہا ں بے ذوق ہے صہبا
اِس علامتی شعر کے بعد اقبال کی ایک تمثیلی نظم ” شعاعِ امید“ کے یہ دو شعر بھی ملاحظہ فرمائیے جس میں انہوں نے مشرق و مغرب کا مُوازنہ کرتے ہوئے دونوں کی خوبیوں اور خامیوں کی طرف اِس طرح متوجہ کیا ہے
اک شور ہے مغرب میں اُجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دُھویں سے ہے سِہ پوش
مشرق نہیں گو لذّتِ نظّارہ سے محروم
لیکن صفت عالم لا ہُوت ہے خاموش
دراصل اقبال مشرق کی اُس رہبانیت اور اس تصوف کو شریعت کے منافی تصور کرتے تھے جسے ایک عرصہ سے مشرق کی روحانیت میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی رہی تھی اور جس کے اثرات کے سبب اہلِ مشرق تقدیر کے حصار میںمحصور ہو کر عمل اور جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگے تھے۔ ان کے نزدیک اندرونی، باطنی اور انفرادی رہبانیت و تصوّف کے ذریعہ سماج کو اُتنا نقصان نہیں پہنچتا جس قدر اجتماعی رہبانیت و تصوف سے ۔وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر ذاتی یا انفرادی رہبانیت و تصوف پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جائے تو بھی نفس و آفاق کو اپنے قابو میں نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کو شاعرِ مشرق اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ مشرقیت کے بوسیدہ و بے سود اور از کار رفتہ تصور سے نجات دلانے، ہر طرح کے جمود و تعطّل کو توڑنے اور بے حسی و بے عملی کو دورکرنے کی ترغیب دے کر جہاد کو انفرادی اور قومی و ملّی زندگی کے لئے ضروری سمجھتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ مشرق کی خوابیدہ وبے حس قوموں کی رگ و پَے میں حمیت و خودی اور عملِ پیہم کی حرارت کو بھرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی نہیں انہوں نے مشرق کی خشک روحانیت کو یقین و عمل سے تازگی عطا کرنے نیز مشرق و مغرب کی صالح قدوںکے اشتراک وہم آہنگی سے زُبوںحال ایشیا کو سنوارنے نیز مشرق کی درماندہ اقوام کے اجسام میں حیات افروز لہو بھر کر اسے گرمانے کی سعی کی ہے۔












