• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ دن 6 دسمبر

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 5, 2023
0 0
A A
ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ دن 6 دسمبر
Share on FacebookShare on Twitter
آج 6 دسمبر ہے، یعنی وہی ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ دن جب 1992 میں تاریخی بابری مسجد کو ہندوتوا طاقتوں کے ذریعہ شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو آج 30 سال گزر چکے ہیں، لیکن مسلمانوں اور سیکولر ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں اس کا زخم اب بھی تازہ ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2019 میں اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوؤں کو بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس وقت جسٹس رنجن گوگوئی، چیف جسٹس آف انڈیا تھے جنہوں نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں سے بابری مسجد کی زمین چھین کر رام مندر کی تعمیر کے لئے ہندؤوں کے حوالے کردی تھی۔
اس کے بعد مرکز نے تعمیراتی فیصلے لینے کے لئے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا قائم کیا تھا۔ ٹرسٹ کی نگرانی میں مندر کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ رام للا کی مورتی مندر کے اندر نصب ہوگی۔ مندر کا سنگ بنیاد وزیراعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2020 کو رکھا تھا۔ لیکن تاریخ کے صفحات میں 6 دسمبر 1992 ایک سیاہ داغ کی مانند درج ہو چکا ہے جو ہمیشہ دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا رہے گا۔ 6 دسمبر کو ہر سال ایک طرف مسلم اور سیکولر طبقہ "یومِ سیاہ” کے طور پر مناتا ہے، تو دوسری طرف ہندوتوا طبقہ "وجئے دیوس” (یومِ فتح) کی شکل میں. 6/دسمبر ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ ترین دن ہے جو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی بھولنا چاہئے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اس سیاہ تاریخ سے باخبر رکھنا ہماری ذمہ داری میں شامل ہونا چاہیے ورنہ گردشِ زمانہ کی گرد و غبار تلے سلطنت مغلیہ کی عظیم نشانی، تاریخ ہند کا ایک ناقابل فراموش باب "بابری مسجد” اور اس میں صبح وشام دی گئی اذانوں کی گونج اور محراب و منبر سے بلند ہونے والی توحید و رسالت کی صدائیں دب کر رہ جائیں گی. جبکہ مساجد کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر دو اور دو چار کی طرح بالکل واضح ہے، اور جمہور امت کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ جس مقام پر ایک مرتبہ مسجد تعمیر کر دی گئی، وہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی ، آج کی نوجوان نسل جو سنہ 2000 کے آس پاس یا اُس کے بعد پیدا ہوئی ہے، وہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ ان کے والدین کی جوانی کے دور میں ایل کے اڈوانی کا سیاسی کردار کیا تھا؟ اگر صاف لفظوں میں کہا جائے تو انہوں نے پورے ملک میں فرقہ پرستی کا ایسا زہر گھولا جس میں کئی ایسے اقدامات شامل ہیں جن کی وجہ سے ملک کے مسلمانوں کا لہو اور فرقہ وارانہ فسادات کے زخم آج بھی تازہ ہیں. یہ الگ بات ہے کہ اب اڈوانی جی حاشیہ پر ہیں لیکن اپنی اس گھناؤنے یاترا اور ہندو مسلم منافرت کی بدولت ایل کے اڈوانی جی نے رام جنم بھومی کی تحریک عروج پر پہنچا دی تھی جس کی بنا پر بی جے پی کے سب سے قدآور رہنماء بن کر ابھرے تھے۔
 حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی جن تین ایجنڈوں کے سہارے انتخابات میں ووٹ مانگتی تھی، ان میں سے دو ایجنڈے پورے ہوچکے ہیں، (1) جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت دفعہ 370 کو ختم کرنا (2) بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر شامل تھا۔ اب تیسرا ایجنڈا ملک میں یونیفارم سول کورڈ کا نفاذ باقی رہ جاتا ہے۔ جس کے لئے ہر روز نت نئے بیانات دیئے جا رہے ہیں. ان میں سے بابری مسجد قضیہ نے خاص طور پر بی جے پی کو زبردست سیاسی فائدہ پہنچایا، جس کی بدولت مرکز میں حکومت سازی کے علاوہ اکثر صوبوں میں حکمرانی ہاتھ آئی. ہمیں اپنی نسلوں کو بتانا ہوگا کہ 16ویں صدی عیسوی میں ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں رام کوٹ پہاڑی پر تین گنبدوں والی یہ قدیم مسجد شہنشاہ بابر کے دور میں اودھ کے حاکم میر باقی اصفہانی نے 1528ء میں تعمیر کرائی تھی۔ جو ریاست اتر پردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔ جہاں شروع ہی سے نماز پنج گانہ اور نماز جمعہ ہوا کرتے تھے ، عدالتی کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ 1858ء سے 1870ء تک اس مسجد کے امام و خطیب مولانا محمد اصغر تھے۔ سنہ 1870ء تا 1900ء کی درمیانی مدت میں مولوی عبدالرشید نے امامت کے فرائض انجام دیے، 1901ء سے 1930ء کے عرصے میں یہ خدمت مولوی عبدالقادر کے سپرد رہی، اور 1930ء سے 1939ء مسجد کے قرق ہونے کی تاریخ تک مولوی عبدالغفار کی اقتداء میں مسلمان اس مسجد میں نماز پنج وقتہ اور جمعہ ادا کرتے تھے۔
آئیے بابری مسجد کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالتے جائیں. 1528 ایودھیا میں میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر کرائی۔ 1949 ۔ خفیہ طور سے بابری مسجد میں رام کی مورتی رکھ دی گئیں۔1959۔ نرموہی اکھاڑے کی طرف سے متنازعہ مقام کے تعلق سے ٹرانسفر کی عرضی داخل کی ۔ بعد ازیں 1961 میں یو پی سنی سنٹرل بورڈ نے بھی بابری مسجد پر قبضہ کی عرضی داخل کی۔ 1986۔ متنازعہ مقام کو ہندو عقیدت مندوں کے لئے کھول دیا گیا۔ اسی سال بابری مسجد ایکشن کمیٹی تشکیل ہوئی۔ 1990۔ لال کرشن اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا کا آغاز کیا، جس میں ایک ٹویوٹا گاڑی کو رتھ کی شکل دی گئی تھی ۔ اڈوانی کی رتھ یاترا ملک کی 8 ریاستوں سے گزری یہ یاترا سومناتھ سے نکل کر ایودھیا جانا طے پائی تھی۔ یاترا جس شہر سے بھی گزرتی وہاں بی جے پی اور سنگھ کے کارکنان گھنٹیاں بجا کر، تالیاں پیٹ کر اور جذباتی نعرے لگا کر اسکا استقبال کرتے۔ جذباتی ہندو، رتھ کی مٹی سے تلک کرتے اور جذبات کے اظہار کے طور پر خون کا عطیہ پیش کرتے۔ یاترا نے متعدد مقامات پر فسادات بھڑکائے جس سے ہزاروں معصوم لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس لیے اسے خونی یاترا بھی کہا جاتا ہے۔ رام چندر گوہا نے اسے ’’مذہبی، متشدد، بھڑکاؤ اور مسلم مخالف‘‘ یاترا قرار دیا۔ اڈوانی کی تقریریں بابر اور رام ان ہی دو ناموں کے گرد گھومتیں۔ اڈوانی جہاں بھی جاتے انہیں ہتھیار تحفے میں دیے جاتے ۔ اڈوانی کو تحفے میں اتنے ہتھیار ملے کہ پرمود مہاجن نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان ہتھیاروں کی مدد سے ہم ایک دن میں رام جنم بھومی آزاد کروا سکتے ہیں۔ آخر کار 23 اگست کو بہار کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے اڈوانی کی یاترا کو بہار کے سمستی پور میں روکا اور اڈوانی کو حراست میں لے لیا۔ اس طرح اس خونی یاترا کا خاتمہ ہوا۔ 1991 ۔ رتھ یاترا کی لہر سے بی جے پی اتر پردیش کے اقتدار میں آگئی۔ اسی سال مندر تعمیر کے لئے ملک بھر سے اینٹیں بھیجی گئیں۔ 6 دسمبر 1992۔ ایودھیا پہنچ کر ہزاروں کار سیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد جگہ جگہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ پولس نے لاٹھی چار ج کیا اور فائرنگ میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی۔ جلد بازی میں ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤنے مسجد کی از سر نو تعمیر کا وعدہ کیا۔ 16 دسمبر 1992 ۔ بابری مسجد انہدام کے لئے ذمہ دار صورت حال کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن تشکیل دی گئی۔1994۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں بابری مسجد انہدام کے تعلق سے مقدمہ کا آغاز ہوا۔ 4 مئی 2001 ۔ خصوصی جج ایس کے شکلا نے بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی سمیت 13 رہنماؤں کو سازش کے الزام سے بری کر دیا۔ یکم جنوری 2002 ۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک ایودھیا کمیشن کا قیام کیا جس کا مقصد تنازعہ کو حل کرنا اور ہندو و مسلمانوں سے بات کرنا تھا۔
یکم اپریل 2002 ۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر مالکانہ حق کے تعلق سے الہ آباد ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے سماعت کاآغاز کیا۔ 5 مارچ 2003 ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کرنے کا حکم دیا تاکہ مندر یا مسجد کے حوالے سے ثبوت مل سکیں۔
22 اگست 2003 ۔ محکمہ آثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسجد کے نیچے 10 ویں صدی کے مندر کے باقیات کا اشارہ وہاں ملتا ہے۔ اس رپورٹ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے چیلنج کیا۔ ستمبر 2003 ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسجد انہدام کے لئے اکسانے والے 7 ہندو رہنماؤ ں کو پیشی پر بلایا جائے۔جولائی 2009 ۔ لبراہن کمیشن نے کمیشن تشکیل کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔ 26 جولائی 2010۔ معاملہ کی سماعت کر رہے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھا اور تمام فریقین سے آپسی رضامندی سے حل نکالنے کی صلاح دی۔ لیکن کوئی فریق آگے نہیں آیا۔ 28 ستمبر 2010 ۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے متنازعہ معاملہ میں فیصلہ دینے سے روکنے والی عرضی خارج کردی جس کے بعد فیصلہ کی راہ ہموار ہوئی۔ 30 ستمبر 2010 ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس کے تحت متنازعہ زمین کو تین حصو ں میں تقسیم کر تے ہوئے ایک حصہ رام مندر، دوسرا سنی وقف بورڈ اور تیسرا نرموہی اکھاڑے کو دے دیا ۔9 مئی 2011 ۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔21 مارچ 2017 ۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کو آپسی رضامندی سے حل کرنے کی صلاح دی۔19 اپریل 2017 ۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے کا حکم سنایا۔16 نومبر 2017۔ ہندو گرو شر ی شری روی شنکر نے معاملہ کو حل کرنے کی کوشش شروع کی اور اس ضمن میں انہوں نے کئی فریقوں سے ملاقات بھی کی۔ فروری 2018۔ باقاعدگی سے سماعت کی اپیل خارج کر دی گئی۔ 8 فروری کو سنی وقف بورڈ کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل راجیو دھون نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ سماعت کریں لیکن بنچ نے ان کی اپیل مسترد کر دیا۔
27 ستمبر 2018۔ ’مسجد اسلام کا لازمی جز نہیں‘ معاملہ کو بڑی بینچ کے سامنے بھیجنے سے انکار۔ عدالت نے 1994 کے اسماعیل فاروقی بنام یونین آف انڈیا معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ ’مسجد اسلام کا لازمی جز نہیں‘۔ اس کو چیلنج کرنے والی عرضی کو سپریم کوٹ مسترد کر دیا لیکن یہ بھی واضح کیا کہ وہ فیصلہ مخصوص صورت حال میں زمین کو تحویل میں لینے کے لئے دیا گیا تھا اور اس کا اثر کسی دوسرے معاملہ پر نہیں ہوگا۔ 29 اکتوبر 2018۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ کی جلد سماعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ کو جنوری 2019 تک کے لئے ملتوی کر دیا۔
8 مارچ 2019۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو ثالثی کے لئے بھیجا۔ پینل سے 8 ہفتوں میں کارروائی ختم کرنے کو کہا گیا۔اگست 2019: ثالثی پینل حل تلاش کرنے میں ناکام رہا. یکم اگست کو ثالثی پینل نے رپورٹ پیش کی۔ 2 اگست کو سپریم کورٹ نے کہا کہ ثالثی پینل اس کیس کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس معاملہ کی روزانہ سماعت 6 اگست سے سپریم کورٹ میں شروع ہوئی۔ 16 اکتوبر 2019۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد معاملہ کی سماعت مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ رکھا گیا۔9 نومبر 2019۔ سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ سنایا گیا کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کے لئے اراضی ٹرسٹ کو سونپ دی جائے اور حکومت اس ٹرسٹ کو تشکیل دے۔ اس کے علاوہ متبادل کے طور پر سنی وقف بورڈ کو کسی دوسرے مقام پر مسجد تعمیر کے لئے زمین دی جائے۔ مسجد کا تو پتہ نہیں مگر خبروں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 22 جنوری کو اتر پردیش کے ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔ پی ایم مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ میں بہت خوش قسمت محسوس کرتا ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اپنی زندگی میں، میں اس تاریخی موقع کا مشاہدہ کروں گا۔” انہوں نے بتایا کہ رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا کے عہدیدار مجھ سے میری رہائش گاہ پر ملنے آئے تھے۔ انہوں نے مجھے رام مندر کے افتتاح کے موقع پر ایودھیا آنے کی دعوت دی ہے۔ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے چمپت رائے نے تصدیق کی کہ رام مورتی 22 جنوری کو مندر میں نصب کی جائے گی اور پی ایم مودی نے ان کی دعوت قبول کر لی ہے۔ ٹرسٹ نے تقریب کے لئے 136 سناتن روایات کے 25,000 سے زیادہ ہندو مذہبی رہنماؤں کو مدعو کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تقریب میں شرکت کرنے والے 25,000 سنتوں کے علاوہ 10,000″خصوصی مہمان” بھی ہوں گے. بھارتی انجینئرنگ کمپنی لارسن اینڈ ٹوبرو 70 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے کمپلیکس کے اندر 2.67 ایکڑ کی جگہ پر مندر تعمیر کر رہی ہے، مندر کی تعمیر کا دوسرا اور آخری مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر 15 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اس کے لیے تمام تر عطیات 4 کروڑ بھارتیوں نے دیے ہیں جس کی کل مالیت 30 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ابتدائی مہینوں میں روزانہ ایک لاکھ عقیدت مندوں کے مندر میں آنے کی امکان ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ مندر کے کھلنے سے مئی 2024 تک ہونے والے عام انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے امکانات میں مزید اضافہ متوقع ہے جہاں نریندر مودی تیسری مرتبہ مدت کے لیے کوشش کریں گے۔
بی جے پی کے نظریاتی سرپرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ملک بھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ اس موقع کو منانے کے لیے ملک کے تمام مندروں میں پروگرام منعقد کریں۔***
محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
فون نمبر :=9933598528
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    مارچ 26, 2026
    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر  وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    مارچ 26, 2026
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist