شعیب رضا فاطمی
تین ریاستوں میں بی جی پی کی کامیابی کے بعد نرہندر مودی کا لہجہ ہی نہیں ان کے جملوں میں بھی خود اعتمادی کا عنصر اب زیادہ نظر آنے لگا ہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ بڑ بولے پن اور خود اعتمادی میں فرق ہوتا ہے ۔اور انڈیا الائنس کے قیام کے بعد سے نریندر مودی کے چہرے پر ہوائیاں اڑ نے لگی تھیں ۔اور اسی کے نتیجہ میں موصوف نے انڈیا الائنس کو گھمنڈیا الائنس کہنا شروع کر د یا تھا ۔لیکن اب جب تین ریاستوں میں ان کو کامیابی ملی ہے تو ایک بار پھر ان کا اعتماد لوٹ آیا ہے ۔ اور اسی لئے چھتیس گڈھ ،راجستھان اور مدھیہ پردیش میں نئے چہروں کو وزیر اعلی بنانے کے اپنے فیصلے کو اپنا کارنامہ بتاتے ہوئے انہوں نے ایک عوامی جلسے میں فرمایا کہ۔
"کسی بھی شعبے میں اگر کوئی نام بڑا بن گیا ، کسی نے اپنی برانڈنگ کردی، تو باقی لوگوں پر توجہ نہیں جاتی، خواہ وہ کتنے ہی باصلاحیت کیوں نہ ہوں، کتنا بھی اچھا کام کیوں نہ کرتے ہوں، اس کی وجہ سے نئے لوگوں کی صلاحیت اور افادیت کی بحث نہیں ہوپائی۔”
بات یقینا معقول ہے لیکن یہ جملہ کس کے منہ سے ادا ہو رہا ہے یہ اس سے بھی اہم ہے ۔نریندر مودی پر آج سب سے بڑا الزام ہی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی برانڈنگ کے چکر میں بی جے پی اور اس کے نظریات کو طاق پر رکھدیا ہے ۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج پوری بھارت سرکار کے وزرا میں سوائے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کے کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔خدشہ تو یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کے بعد بی جے پی میں کوئی ایسا نام نہیں جسے پورے ملک میں یکساں مقبولیت حاصل ہو ۔کہا تو یہانتک جاتا ہے کہ اب آر ایس ایس بھی نریندر مودی کی ذاتی مقبولیت کی شاکی ہے اور اسے یہ بھی ڈر ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح کہیں بی جے پی پر بھی شخصیت پروری کا الزام نہ لگنے لگے ۔ویسے بھی آر ایس ایس اپنے نظریات کی وجہ سے جانی جاتی ہے ۔اس الزام میں بھی صداقت ہے کہ خود نریندر مودی نے جنوبی بھارت سے بی جے پی کی ہوا اکھاڑ دی اور اب بی جے پی صرف ہندی پٹی تک سمٹ کر رہ گئی ۔ملک سے لے کر بیرون ملک تک کے سیاسی مبصرین نہایت شدو مد سے بھارت کے دونوں حصوں پر الگ الگ بات کر رہے ہیں اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ بھارت کا جنوبی حصہ جو جاہلیت ،غریبی ،بے روزگاری اور مذہبی منافرت سے بھرا ہوا ہے نریندر مودی اسی علاقہ میں مقبول ہیں ،جبکہ ملک کا جنوبی حصہ جہاں کئی ریاستوں میں 100فیصد تعلیم ہے جدید ،ٹکنا لوجی کی یونیورسٹیاں ہیں ،مذہب کو لوگ پرسنل چیز سمجھتے ہیں ،اندھی تقلید نہیں کرتے وہاں دور دور تک بی جے پی اور اس کے اندھ بھکتوں کا نام و نشان نہیں ۔
اور یہ جو باتیں کی جا رہی ہیں یقینا اس میں سچائی بھی ہے ۔شمالی ہندوستان میں مذہبی جنون کو نت نئے طریقہ سے بھڑکانے کے لئے بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔اب تو پارلیامنٹ میں جب بی جے پی کا کوئی وزیر اپنی وزارت کی کارکردگی بتانے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی تقریر کا پچھتر فیصد حصہ یہ وضاحت کرنے میں گذر جاتا ہے کہ اس کی کارکردگی کے دائرے میں کتنے مندر آئے ،اور کتنے پجاریوں کو اس نے فائدہ پہنچایا ۔بی جے پی کے ایک وزیر یا یہ کہیں کہ واحد وزیر ٹرانسپورٹ گذشتہ روز پارلیامنٹ میں کھڑے ہو کر اپنی کار کردگی بیان کرتے وقت یہ بھول گئے کہ وہ سنسد میں کھڑے ہیں ۔ان کی آدھے گھنٹے سے زیادہ کی تقریر میں صرف تمام ملک کے تیرتھ استھلوں کاذکر تھا،بودھ اور جین مندروں سمیت گرودواروں کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے بہتر سڑکیں بنا کر ہندو اور ان سے ملتی جلتی مذاہب و پنتھ کی عبادت گاہوں کو بہترین سڑکوں کے نیٹ ورک میں لے کر ملک کی اکثریتی آبادی کا مندروں تک پہنچنا آسان کر د یا ہے ۔وزیر موچوف جب اپنا یہ کارنامہ پیش کر رہے تھے تو بادی النظر میں ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ پارلیا منٹ میں نہیں بلکہ سنگھ کے ناگپور دفتر میں کھڑے ہوکر موہن بھاگوت جی کو اپنا رپورٹ کارڈ سنا رہے ہوں ۔حالانکہ موصوف کو بی جے پی کا سب سے سیکولر نیتا مانا جاتا ہے اور کافی دنوں سے یہ بات چل رہی ہے کہ اگر کبھی نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانا پڑے تو بی جے پی کے لیڈروں میں موصوف ایسے لیڈر ہیں جن کو پورا ملک قبول کر لیگا ۔لیکن کل جب پارلیامنٹ میں وہ اپنی کارکردگی سنا رہے تھے تو ایسا لگا کہ وہ بھی ہندو سرکٹ ،بودھ سرکٹ اور جین سرکٹ سے باہر نہیں نکل سکتے ۔اپنی پوری رپورٹ میں انہوں نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں ،درگاہوں کا کہیں ذکر نہیں کیا کہ آخر ان پر بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں زائرین ہرسال جاتے ہیں اور انہیں بھی حق ہے کہ وہ اچھی سڑکوں پر چل کر جائیں ۔
اب ایک طرف تو وزیر آعظم یہ کہتے ہیں کہ برانڈنگ سے انہیں پرہیز ہے اور اس سے بہت سے اہم لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ۔تو کیا یہ برانڈنگ نہیں کہ آپ کا وزیر ٹرانسپورٹ ایوان میں کھڑا ہوکر صرف اکٹریتی مذہب کی عبادت گاہوں کی برانڈنگ کرے ۔کیا وزیر اعظم کو خود یہ شوبھا دیتا ہے کہ وہ ملک کے وز یر اعظم ہونے کے باوجود چند کارپوریٹ گھرانے کی برانڈنگ کریں ۔
وزیر اعظم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب ملک کے عام لوگ بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ آپ کو اب اپنے ہی پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ڈر لگنے لگا ہے اس لئے آپ مارگ درشک منڈل کا سائز بڑا کرتے جا رہے ہیں ۔لیکن آخر آپ کی عمر بھی تو بڑھ رہی ہے اور جانا تو آپ کو بھی اسی مارگ درشک منڈل میں ہی ہے ۔کیونکہ گلوبل سطح پر جو برانڈنگ آپ نے اپنے لئے کی ہے اس کی مثال نہ اس کے پہلے کوئی ہے نہ اس کے بعد ہوگی ۔اور اس کی عمر بہت لمبی نہیں ہوتی کیونکہ مارکیٹنگ کسی ایک کی اجارہ داری نہیں ہوتی ۔یہ بھی ایک طرح سے مارکیٹنگ ہی ہے کہ تینوں ریاستوں میں جن بی جے پی کی لیڈر شپ کی سرکردگی میں کا میابی ملی اسے ہی آپ نے اس خوف سے حاشیہ پر ڈالدیا کہ یہ اونچے عہفے کا دعویدار نہ ہو جائے ۔اور اس کی جگہ ایسے نو آموز کو عہدہ دے دیا جسے آپ جو چاہے کہہ بھی سکتے ہیں اور منوا بھی سکتے ہیں ۔
ReplyForward |












