• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 27, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

سیاست میں برانڈنگ کی روایت

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 17, 2023
0 0
A A
سیاست میں برانڈنگ کی روایت
Share on FacebookShare on Twitter

شعیب رضا فاطمی
تین ریاستوں میں بی جی پی کی کامیابی کے بعد نرہندر مودی کا لہجہ ہی نہیں ان کے جملوں میں بھی خود اعتمادی کا عنصر اب زیادہ نظر آنے لگا ہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ بڑ بولے پن اور خود اعتمادی میں فرق ہوتا ہے ۔اور انڈیا الائنس کے قیام کے بعد سے نریندر مودی کے چہرے پر ہوائیاں اڑ نے لگی تھیں ۔اور اسی کے نتیجہ میں موصوف نے انڈیا الائنس کو گھمنڈیا الائنس کہنا شروع کر د یا تھا ۔لیکن اب جب تین ریاستوں میں ان کو  کامیابی ملی ہے تو ایک بار پھر ان کا اعتماد لوٹ آیا ہے ۔ اور اسی لئے چھتیس گڈھ ،راجستھان اور مدھیہ پردیش میں نئے چہروں کو وزیر اعلی بنانے  کے اپنے فیصلے کو اپنا کارنامہ بتاتے ہوئے انہوں نے ایک عوامی جلسے میں فرمایا کہ۔
"کسی بھی شعبے میں اگر کوئی نام بڑا بن گیا ، کسی نے اپنی برانڈنگ کردی، تو باقی لوگوں پر توجہ نہیں جاتی، خواہ وہ کتنے ہی باصلاحیت کیوں نہ ہوں، کتنا بھی اچھا کام کیوں نہ کرتے ہوں، اس کی وجہ سے نئے لوگوں کی صلاحیت اور افادیت کی بحث نہیں ہوپائی۔”
بات یقینا معقول ہے لیکن یہ جملہ کس کے منہ سے ادا ہو رہا ہے یہ اس سے بھی اہم ہے ۔نریندر مودی پر آج سب سے بڑا الزام ہی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی برانڈنگ کے چکر میں بی جے پی اور اس کے نظریات کو طاق پر رکھدیا ہے ۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج پوری بھارت سرکار کے وزرا میں سوائے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کے کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔خدشہ تو یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کے بعد بی جے پی میں کوئی ایسا نام نہیں جسے پورے ملک میں یکساں مقبولیت حاصل ہو ۔کہا تو یہانتک جاتا ہے کہ اب آر ایس ایس بھی نریندر مودی کی ذاتی مقبولیت کی شاکی ہے اور اسے یہ بھی ڈر ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح کہیں بی جے پی پر بھی شخصیت پروری کا الزام نہ لگنے لگے ۔ویسے بھی آر ایس ایس اپنے نظریات کی وجہ سے جانی جاتی ہے ۔اس الزام میں بھی صداقت ہے کہ خود نریندر مودی نے جنوبی بھارت سے بی جے پی کی ہوا اکھاڑ دی اور اب بی جے پی صرف ہندی پٹی تک سمٹ کر رہ گئی ۔ملک سے لے کر بیرون ملک تک کے سیاسی مبصرین نہایت شدو مد سے بھارت کے دونوں حصوں پر الگ الگ بات کر رہے ہیں اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ بھارت کا جنوبی حصہ جو جاہلیت ،غریبی ،بے روزگاری اور مذہبی منافرت سے بھرا ہوا ہے نریندر مودی اسی علاقہ میں مقبول ہیں ،جبکہ ملک کا جنوبی حصہ جہاں کئی ریاستوں میں 100فیصد  تعلیم ہے جدید  ،ٹکنا لوجی کی یونیورسٹیاں ہیں ،مذہب کو لوگ پرسنل چیز سمجھتے ہیں ،اندھی تقلید نہیں کرتے وہاں دور دور تک بی جے پی اور اس کے اندھ بھکتوں کا نام و نشان نہیں ۔
اور یہ جو باتیں کی جا رہی ہیں یقینا اس میں سچائی بھی ہے ۔شمالی ہندوستان میں مذہبی جنون کو نت نئے طریقہ سے بھڑکانے کے لئے بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔اب تو پارلیامنٹ میں جب بی جے پی کا کوئی وزیر اپنی وزارت کی کارکردگی بتانے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی تقریر کا پچھتر فیصد حصہ یہ وضاحت کرنے میں گذر جاتا ہے کہ اس کی کارکردگی کے دائرے میں کتنے مندر آئے ،اور کتنے پجاریوں کو اس نے فائدہ پہنچایا ۔بی جے پی کے ایک وزیر یا یہ کہیں کہ واحد وزیر ٹرانسپورٹ گذشتہ روز پارلیامنٹ میں کھڑے ہو کر اپنی کار کردگی بیان کرتے وقت یہ بھول گئے کہ وہ سنسد میں کھڑے ہیں ۔ان کی آدھے گھنٹے سے زیادہ کی تقریر میں صرف تمام ملک کے تیرتھ استھلوں کاذکر تھا،بودھ اور جین مندروں سمیت گرودواروں کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے بہتر سڑکیں بنا کر ہندو اور ان سے ملتی جلتی مذاہب و پنتھ کی عبادت گاہوں کو بہترین سڑکوں کے نیٹ ورک میں لے کر ملک کی اکثریتی آبادی کا مندروں تک پہنچنا آسان کر د یا ہے ۔وزیر موچوف جب اپنا یہ کارنامہ پیش کر رہے تھے تو بادی النظر میں ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ پارلیا منٹ میں نہیں بلکہ سنگھ کے ناگپور دفتر میں کھڑے ہوکر موہن بھاگوت جی کو اپنا رپورٹ کارڈ سنا رہے ہوں ۔حالانکہ موصوف کو بی جے پی کا سب سے سیکولر نیتا مانا جاتا ہے اور کافی دنوں سے یہ بات چل رہی ہے کہ اگر کبھی نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانا پڑے تو بی جے پی کے لیڈروں میں موصوف ایسے لیڈر ہیں جن کو پورا ملک قبول کر لیگا ۔لیکن کل جب پارلیامنٹ میں وہ اپنی کارکردگی سنا رہے تھے تو ایسا لگا کہ وہ بھی ہندو سرکٹ ،بودھ سرکٹ اور جین سرکٹ سے باہر نہیں نکل سکتے ۔اپنی پوری رپورٹ میں انہوں نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں ،درگاہوں کا کہیں ذکر نہیں کیا کہ آخر ان پر بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں  زائرین ہرسال جاتے ہیں اور انہیں بھی حق ہے کہ وہ اچھی سڑکوں پر چل کر جائیں ۔
اب ایک طرف تو وزیر آعظم یہ کہتے ہیں کہ برانڈنگ سے انہیں پرہیز ہے اور اس سے بہت سے اہم لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ۔تو کیا یہ برانڈنگ نہیں کہ آپ کا وزیر ٹرانسپورٹ ایوان میں کھڑا ہوکر صرف اکٹریتی مذہب کی عبادت گاہوں کی برانڈنگ کرے ۔کیا وزیر اعظم کو خود یہ شوبھا دیتا ہے کہ وہ ملک کے وز یر اعظم ہونے کے باوجود چند کارپوریٹ گھرانے کی برانڈنگ کریں ۔
وزیر اعظم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب ملک کے عام لوگ بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ آپ کو اب اپنے ہی پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ڈر لگنے لگا ہے اس لئے آپ مارگ درشک منڈل کا سائز بڑا کرتے جا رہے ہیں ۔لیکن آخر آپ کی عمر بھی تو بڑھ رہی ہے اور جانا تو آپ کو بھی اسی مارگ درشک منڈل میں ہی ہے ۔کیونکہ گلوبل سطح پر جو برانڈنگ آپ نے اپنے لئے کی ہے اس کی مثال نہ اس کے پہلے کوئی ہے نہ اس کے بعد ہوگی ۔اور اس کی عمر بہت لمبی نہیں ہوتی کیونکہ مارکیٹنگ کسی ایک کی اجارہ داری نہیں ہوتی ۔یہ بھی ایک طرح سے مارکیٹنگ ہی ہے کہ تینوں  ریاستوں میں جن بی جے پی کی لیڈر شپ کی سرکردگی میں کا میابی ملی اسے ہی آپ نے اس خوف سے حاشیہ پر ڈالدیا کہ یہ اونچے عہفے کا دعویدار نہ ہو جائے ۔اور اس کی جگہ ایسے نو آموز کو عہدہ دے دیا جسے آپ جو چاہے کہہ بھی سکتے ہیں اور منوا بھی سکتے ہیں ۔

ReplyForward

Add reaction
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    مارچ 26, 2026
    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر  وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    مارچ 26, 2026
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist