برف میں پھر آگ… ؟
کافی عرصہ بعد کشمیر میں ایک بار پھر گولیوں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔گذشتہ جمعے 22 دسمبر 2023 کو جموں کشمیر کے جنوب مغربی ضلع راجوری میں دہشت گردوں نے دو فوجی گاڑیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں تین فوجی ہلاک ہو گئے ۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد فوج نے دھڑ پکڑ کا سلسلہ شروع ہوا جس میں درجنوں مقامی نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کے لئے فوج ان کے گھروں سے اٹھا لے گئی ۔اور پھر دوسرے ہی روز تین مقامی نوجوانوں کی لاشیں فوجی کیمپ کے قریب پائی گئیں۔محمد شوکت، سفیر حسین اور شبیر احمد نامی یہ تینوں نوجوان اُن کئی نوجوانوں میں شامل ہیں جنھیں فوج نے جھڑپ کے فوراً بعد حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں سے 25 سالہ شوکت کی اسی سال کے آغاز میں شادی ہوئی تھی۔اب اس واقعہ کے بعد اس پورے علاقہ میں حالات بے حد کشیدہ ہیں ۔حالانکہ فوج کا یہ کہنا ہے کہ ان تین نوجوان لاشوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں لیکن اسی دوران واقعے کے حوالے سے ایک مختصر ویڈیو بھی وائرل ہوگئی تھی، جس میں فوجی اہلکاروں کو تینوں نوجوانوں کو لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئے اور انھیں برہنہ کرکے ان کے زخموں پر مرچ چھڑکتے دیکھا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے، تاہم سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے انڈیا کے ایک نیوز پورٹل ’د وائر‘ میں شائع ہوئے ایک مضمون میں لکھا ہے: ’ایسے حالات میں کون ویڈیو بنائے گا، ظاہر ہے اس ویڈیو کو جان بوجھ کر لیک کیا گیا تاکہ لوگوں تک ایک سخت پیغام پہنچایا جائے دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے نہایت قریب واقع راجوری اور پونچھ اضلاع میں دو دہائیوں تک حالات پرسکون رہنے کے بعد 2020 سے ہی عسکریت پسندوں کے حملوں میں دوبارہ تیزی آگئی ہے، تاہم چار برس کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے جب فوج پر جھڑپ کے بعد عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔حکام نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ راجوری اور اس کے پڑوسی ضلع پونچھ میں افواہوں کو روکنے کے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت کو معطل کیا گیا ہے۔راجوری میں ایک گاوٴں کے سرپنچ فاروق انقلابی کہتے ہیں کہ حراستی ہلاکتوں کے بعد نوجوانوں میں بہت غصہ پایا جاتا ہے۔ ’سب کہتے ہیں کہ اس ظلم کی بجائے اچھا ہے ہم سب مر جائیں۔‘تحقیقات کی یقین دہانی ، معاوضوں کے اعلان اور فوج سے تعاون کی اپیل پر انقلابی کہتے ہیں : ’انصاف کا صرف اعلان نہیں ہونا چاہیے،بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے ۔ اور سب کو دکھنا چاہئے کہ ہاں انصاف ہوگیا۔‘جنوب ایشیائی امور کے ماہر اور معروف صحافی ظفرچودھری بھی راجوری کے ہی باسی ہیں۔ انھوں نے حراستی ہلاکتوں پر اپنے ردعمل میں ایکس پر لکھا: ’جموں کشمیر میں اس سال عکسریت پسندی سے متعلق تشدد کی کل وارداتوں میں سے نصف راجوری اور پونچھ میں رونما ہوئی ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ اس شفٹ کا مطلب کیا ہے؟ جو کچھ کل ہوا وہ ہم سب کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ لیکن حکام اور اداروں کے ردعمل کا رُخ خاص طور پر قصورواروں اور ان کے سہولت کاروں کی طرف ہونا چاہئیے۔ ایسی لڑائیوں میں غلطی سے ہونے والا ہر جانی نقصان دشمن کے عزائم کی مدد کرسکتا ہے۔ 1990 میں کشمیر میں جو کچھ ہوا اُس سے سبق سیکھنا ہوگا۔
ایک ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے راجوری اور پونچھ کی آبادی تقریباً چار لاکھ ہے۔ پونچھ میں مسلم آبادی کا تناسب 90 فی صد ہے جبکہ راجوری میں یہ تناسب 58 فی صد ہے۔ ان خطوں میں رہنے والے بیشتر لوگوں کے رشتہ دار پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر میں رہتے ہیں۔ ان دونوں خطوں کو یہاں وادئِ پیرپنچال کہتے ہیں جبکہ پاکستانی جانب والے ان کے باقی خطوں کو نیلم ویلی کہتے ہیں۔دونوں کے درمیان 200 کلومیٹر طویل اور 30 کلومیٹر چوڑی ایل او سی ہے، جو دنیا کی سب سے خطرناک سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔ پوری ایل او سی کی کل لمبائی 700 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ پونچھ راجوری کے علاوہ پورے شمالی کشمیر پر محیط ہے۔پاکستان اور بھارت کے لیے راجوری اور پونچھ کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے ۔اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساوٴتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق پاکستان کے پہلے برٹش آرمی چیف لیفٹنٹ جنرل ڈگلس گریسی نے پاکستانی حکومت پر1947 میں ہی زور دیا تھا کہ، ’اگر راجوری اور پونچھ ہاتھ سے گیا تو بھارت کی فوج ہمیشہ آپ کے سر پر مسلط رہے گی۔‘
اسی پورٹل کے مطابق 1947 کی جنگ کے دوران جب اقوام متحدہ نے دونوں ملکوں کو فوجی محاصرے ہٹانے کا حکم دیا تو جواہر لعل نہرو فوجی کمانڈروں سے بار بار کہتے رہے کہ ’پونچھ پر کنٹرول بنائے رکھیں اور بغاوت کچلنے میں تیزی کریں۔‘پونچھ اور راجوری خطوں کی اہمیت کا تذکرہ گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھی ہوا۔ جہاں وزیرداخلہ امیت شاہ نے کشمیر کے حالات کے لیے جواہر لعل نہرو کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے سوال پر اقوام متحدہ کا رُخ کرنا بہت بڑی غلطی تھی۔ اس دعوے کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ اور رکن پارلیمان فاروق عبداللہ نے پارلیمنٹ میں ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’نہرو اگر پاکستان کو اقوام متحدہ میں نہ الجھاتے تو ہمارے پاس راجوری اور پونچھ نہیں ہوتا۔اب ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس خطہ کی کیا اہمیت ہے ۔اور اس سب کے باوجود اگر ہماری طرف سے شدت پسندی کے جواب میں بھی شدت پسندی ہی روا رکھی جائیگی تو یہ کسی بھی صورت سے مفید نہیں ہو سکتا ۔
کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ سے ایک برس کے اندر جموں کشمیر میں انتخاب کے حکم سے بھی شدت پسندوں کے حوصلہ پست ہو رہے ہیں اور دراندازی کی کوشش میں تیزی آئی ہے ۔حالانکہ پاکستان کی اقتصادی حالت اتنی خستہ ہے کہ اسے سر اٹھانے کی بھی ہمت نہیں کرنی چاہئے لیکن ہمیں بھی اس امر کا خیال رکھنا ہوگا کہ نوجوانوں میں بد دلی نہ پھیلے ۔ورنہ وادی میں حالات ایک بار پھر بے قابو ہو سکتے ہیں ۔
(شعیب رضا فاطمی)












