(سید مجاہد حسین)
پچھلے دنوں گجرات میں ایک ندی پر بنے پل کے ٹوٹ جانے کے دردناک حادثہ کی شدت کو گجرات انتظامیہ کی جانب سے جس طرح سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کی لیپا پوتی کرنے اور تمام غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ہوئیں وہ شاید اب زیادہ دن نہیں ٹک پائیں گی ،کیونکہ ا ب کیس عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں عدالت نے گجرات حکومت سے باز پرس شروع کردی ہے اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے ایک امید یہ بندھی ہے کہ اب متاثرین کو انصاف مل سکے گا تو دوسری جانب لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔لیکن کیا اس سرزنش سے خاطی افسران کو کوئی سزا مل سکے گی اس سوال کا جواب ابھی ملنے میں وقت لگے گا۔البتہ عدالت میں اس کیس کی پرتیں اب کھل رہی ہیں جس سے حادثہ کی کئی اصل وجوہات اور اس کے قصورواروں اور ذمہ داروں کے ناموں کی طویل فہرست سامنے آنے کی امید ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر کل سماعت کرتے ہوئے جس طرح سے گجرات انتظامیہ کو لتاڑ لگائی ہے اوراس میں روز اول سے ہونے والی مبینہ گھپلے بازی اور دھاندلیوں پر انتظامیہ سے سوالا ت کئے ہیں وہ اپنے آپ میں کافی اہم ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے نہ صرف پل کی مرمت کا ٹھیکہ دینے کے طریقہ پر تنقید اور تلخ تبصرے کئے ہیں وہ کافی معنے رکھتے ہیں ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اروند کمار نے ریاست کے اعلیٰ بیوروکریٹ اور چیف سکریٹری سے سب سے پہلے یہی پوچھا کہ ’’پبلک پل کی مرمت کے کام کا ٹینڈر کیوں نہیں نکالا گیا؟ بولیاں کیوں نہیں بلائی گئیں؟اور اتنے اہم کام کا معاہدہ صرف ڈیڑھ صفحات میں کیسے مکمل ہوا؟ کیا ریاست کی سخاوت اجنتا کمپنی کو بغیر کسی ٹینڈر کے دے دی گئی؟‘‘۔خیال رہے کہ اس معاملہ کا عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے 6 محکموں سے جواب طلب کیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ پل کی مرمت کے لئے موربی میونسپلٹی نے اوریوا گروپ کو 15 سال کا معاہدہ دیا تھا، جو گھڑیوں کے اجنتا برانڈ کیلئے معروف و مشہور ہے۔برطانوی دور میں تعمیر شدہ پل کے گرنے سے 130 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اکتوبر کے اواخر میں پولس نے 9 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں موربی پل کا انتظام کرنے والے اوریوا گروپ کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ پل کی دیکھ بھال اور آپریشن میں ملوث کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جاسکا ۔اس معاملے میں ہائی کورٹ نے 7 نومبر کو کہا تھا کہ اس نے پل گرنے سے متعلق ایک خبر کا از خود نوٹس لیا ہے اور اسے ایک پی آئی ایل کے طور پر درج کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا’’جواب دہندگان ایک اور دو (چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری) اگلے پیر تک اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں ‘‘۔بہر کیف ، عدالت کے دخل کے بعد اب لوگوں کو انصاف کا امکان نظر آرہا ہے لیکن سر دست جو سوال منہ پھاڑے کھڑے ہیں ان کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے !۔سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں بڑے افسروں سے کوئی پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی یا ان کے نام ایف آئی آر میں کیوں شامل نہیں کئے گئے ؟ نگر پالیکا کے چیف سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا گیا؟کیا ادھوری شکایت سے اس طرح سے متاثرین کو کوئی انصاف مل پائے گا ،کیا اس سے بڑی مچھلیوں کو بھاگنے اور بچ نکلنے کا موقع نہیں مل جائے گا؟اس لئے تمام پہلوئوں کی نہ صرف جانچ ہو بلکہ جن اصل قصورواروں کو بچایا جارہا ہے انہیں بھی گرفتار کیا جانا زیادہ ضروری ہے ۔موربی پل حادثہ کے زخم آسانی سے مندمل ہونے والے نہیں ہیں ،وہ اپنے آپ میں لاپروائی تھی ،جس میں لوگوں کی جانوں سے کھلواڑ ہوا ۔افسروں نے ایک ڈیڑھ سو سالہ پرانے پل کے رکھ رکھائو میںوہ سنجیدگی نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی بلکہ نچلے درجہ کے عملے کو حادثہ کے لئے ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا! ۔عدالت نے گجرات سرکار کو جس طرح سے پھٹکار لگائی ہے اوراس کا یہ پوچھنا کہ نگر پالیکا کے چیف کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی ، بڑی دھاندلیوں اور کرپشن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی لگتا ہے کہ بڑی مچھلیوں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
بہر حال ،گجرات حکومت کی پہلے لاپروائی ، اس کے بعد اس کا ڈھیٹ رویہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے اس کی نگاہ میں لوگوں کی جانوں کی اہمیت کتنی ہے اورپورے سسٹم میں کتنی خامیاں ہیں!۔ عدالت سے درخواست ہے کہ وہ قصور واروں کے ناموں کو سامنے لائے اورکسی کو بچ نکلنے میں کامیاب نہ ہونے دے۔امید ہے کہ اس معاملے میں متاثرین کو ضرور انصاف ملے گا ۔












