نئی دہلی: 28دسمبر /سماج نیوز سروس ۔اکتوبر میں قطر کی ایک عدالت نے بحریہ کے آٹھ سابق اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی ،کے لئے یہ خوش خبری آئی ہے کہ اب ان کو کم سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، ہندوستانی حکومت نے آج سہ پہر کو کہا کہ سزا میں اس تخفیف کے بارے میں تفصیلات کا ابھی انتظار ہے تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ سزائے موت کو سزائے قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔اور جب فیصلے کی کاپی حکومت کو ملیگی تب سب کچھ واضح ہو جائے گا ۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ اگلے اقدامات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے قانونی ٹیم کے ساتھ ساتھ اہل خانہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے”۔ "ہم شروع سے ہی ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اور قانونی مدد بھی جاری رکھیں گے۔ ہم اس معاملے کو قطری حکام کے ساتھ بھی اٹھاتے رہیں گے۔”گرفتار اہلکاروں میں پورنندو تیواری، سوگناکر پاکالا، امت ناگپال، سنجیو گپتا، جو کمانڈر ہیں، نوتیج سنگھ گل، بیرندر کمار ورما، اور سوربھ وشیشت، جو کیپٹن ہیں۔ جبکہ آٹھویں کا نام سیلر راگیش گوپا کمار ہیں ۔حالانکہ ان کے خلاف الزامات کو کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔لیکن ذرائع سے ملی خبروں کے مطابق ان سب پر اسرائیل کے لئے جاسوسی کا الزام ہے ۔ان میں سے بہت سے اعلیٰ فوجی اہلکار ہیں جو کبھی ہندوستانی جنگی جہازوں کی کمانڈ کرتے تھے، اور قطر کی مسلح افواج کو تربیت اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے والی ایک نجی فرم کے لیے کام کر رہے تھے۔ان آٹھوں فوجیوں کے اہل خانہ نے این ڈی ٹی وی سے بات کی اور جاسوسی کے الزامات کو صاف طور پر مسترد کیا۔ایک سوال کے جواب میں ان کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ سرائیل کے لیے جاسوسی میں ملوث نہیں تھے”۔ وہ قطری بحریہ کی تعمیر ،تشکیل نو اور اس ملک کی سلامتی کے لیے گئے تھے۔ وہ کبھی جاسوسی نہیں کر سکتے تھے۔ الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ہے…”اس معاملے میں اگلے اقدامات ابھی واضح نہیں ہیں لیکن، 2015 کے معاہدے کی شرائط کے تحت، قطر میں سزا یافتہ ہندوستانی قیدیوں کو ان کی سزا کا بقیہ حصہ پورا کرنے کے لیے ہندوستان واپس لایا جا سکتا ہے”۔ ہندوستان میں سزا پانے والے قطری شہریوں کے لیے بھی ایسا ہی انتظام ہے۔آٹھوں افراد گزشتہ سال اگست سے جیل میں ہیں اور مارچ میں مختصر ٹرائل کے بعد 26 اکتوبر کو انہیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی قید اور مقدمے کی سماعت کے دوران متعدد بار ضمانت مسترد کی گئی۔اور اسی وجہ سے بھارت کی طرف سے قطر کی عدالت میں فوری طور پر اپیل دائر کی گئی اور گزشتہ ماہ قطری عدالت نے اس اپیل کو قبول کر لیا۔ جب گرفتار کیا گیا تو یہ آٹھوں دہرہ گلوبل ٹیکنالوجیز اینڈ کنسلٹنسی سروسز کے لیے کام کر رہے تھے۔سزائے موت میں تبدیلی وزیر اعظم نریندر مودی کی دبئی میں CoP28 سربراہی اجلاس کے موقع پر قطری حکمران شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے۔گفتگو کی تفصیلات کبھی منظر عام پر نہیں لائی گئیں، لیکن قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اس ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا ۔












