• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 3, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

دنیا کی نظر میں ہم مسلمان مگر اللہ کی نظر میں کیا؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 16, 2022
0 0
A A
دنیا کی نظر میں ہم مسلمان مگر اللہ کی نظر میں کیا؟
Share on FacebookShare on Twitter

فہیم حیدر ندوی

892060039500

مسلمان ہونے کا مطلب تو ہر ایک مسلمان جانتا ہے کہ مسلمان اسے کہتے جو اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکموں کے تابع کردیتا ہے شریعت الہی کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے قر آن کی پابندی سے تلاوت کرتا ہے قرآن کے احکامات کو سمجھتا اور اپنی زندگی کو قر آن کی رہنمائی میں گزا رتا ہے نماز ‘روزہ ‘زکوة جیسی اہم عبادات کو ادا کرتا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ اس کی زندگی کا ہر فیصلہ اللہ و رسول ﷺ کے احکام کے مطابق گزرتا ہے کمال کی بات تو یہ ہے کہ ہر ایک مسلمان اس بات کی جانکاری ضرور رکھتا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے لیکن جب مسلمان ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کا محاسبہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ نام تو مسلمان ہے لیکن کام غیروں والا ہے مسلمان ہونے کی صفت مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی ہے نہ تو ہمیں قر آن صحیح سے پڑھنا آتا ہے نہ ہم اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہیں نہ ہمیں صحیح سے نماز پڑھنا آتا ہیںنہ ہمیں دیگردینی عبادات کو ادا کرنا آتا ہے اور نہ ادا کرنے کی فکر ہوتی ہیں ہم ایسے مسلمان بن گئے ہیں جنہیں حرام و حلال میں فر ق کرنا نہیں آتا ہے جن کی زندگی صرف دنیا وی معیار پر مبنی ہو گئی ہیںلیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمان ہونے کی صفت ہم میںنہیں ہونے کے با وجود دنیا تو ہمیں مسلمان سمجھتی ہے ہم سب بھی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم مسلمان نہیں ہوتے ہے مسلمان ہونے کا مطلب ہم نے صرف زبان سے کلمہ پڑھنا سمجھ لیاہے مسلمان ہونا صرف مسلم گھرانے میں پیدا ہونا نہیں ہوتا ہے مسلمان ہونا صرف جمعہ کی نماز پڑھنا نہیں ہوتا ہے مسلمان ہونا صرف رمضان کے روزے رکھنا نہیں ہوتا ہے مسلمان ہونا صرف سال ‘مہینہ یا ہفتہ کے چند عبادات ادا کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ مسلمان تو غیر مسلمان کے لئے بھی مشعل راہ ثابت ہوتا ہے مسلمان ہونا تو زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی ہونا ہے مسلمان ہونا تو باطل کے لئے خوف ہے مسلمان ہونا توشیاطین کو چیلنج کرنا ہے مسلمان ہونا تو حق و باطل کے ما بین فرق کرنا ہے مسلمان ہونا تو جنت کی بشارت ہے مسلمان ہونا توجہنم سے نجات ہے مسلمان ہونا تو اللہ ا و ر اس کے سول ﷺکو راضی کرنا ہے مسلمان ہوناتو آخرت کی کامیابی ہے مسلمان ہونا تودنیا کی بھی کامیابی ہے مسلمان ہونا تو بہترین امت ہونا ہے مسلمان ہونا تو اشرف المخلوقات ہونا ہے مسلمان ہونا تو صحیح کاموں کا حکم دینا اور غلط کاموں سے روکنا ہے مسلمان ہونا مطلب صرف اور صر ف کامیاب ہونا ہے دنیا و آخرت دونوں میں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمان ہونے کا مطلب کامیاب ہو ناہے تو پھر مسلمان ناکام کیوں ہے؟ مسلمان ذلیل کیوں ہے؟پوری دنیا میں مسلمانوں کو پریشان کیوں کیا جا رہا ہے؟نہ ہمیں دنیا میں کامیابی نصیب ہوئی ہیں اور نہ ہم نے آخرت کی تیاری کی ہے نہ ہمیں دنیا معزز سمجھتی ہے اور نہ ہم اللہ کی نظر میں معزز ہے آخر ایسا کیوں ہے ؟اس سوال کا جواب جب ہم تلاش کرتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یہ ہم سمجھتے ہیں ہمارے گھروں کی ‘ بہن ‘بہو ‘بیٹی بیوی ‘ ماںباپ وغیرہ سمجھتے ہیں ہمارا مسلم سماج سمجھتا ہے ساری دنیا سمجھتی ہے لیکن کیا ہم اللہ کی نظر میں بھی مسلمان ہیں ؟ کیا ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں بھی مسلمان ہیں کیا ہمارا عمل اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ ہم مسلمان ہیںآئیے اپنا محاسبہ کرتے ہیں سب سے پہلے تو ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ آخر میں ایک سچا پکا ایمان والا مسلمان کسے کہتے ہیںاس کی کیا کیا صفات ہوتی ہیں؟ قرآن وحدیث کے مطابق ایک مسلمان کی تعریف کیا ہوسکتی ہے؟ مسلمانوں کی صفات کے بارے میںقرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد گرامی ہے جس کا ترجمہ ہے ( ” تم انسانوں کی بہترین جماعت ہو‘جو لوگوں کے نفع کی خاطر پیدا کی گئی“)۔مزید ارشاد باری تعالی ہے جس کا ترجمہ ہے (”تم اچھی باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہوں“)۔ ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے جس کا ترجمہ ہے(” اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک امت وسط بنا یا ہے کہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہواور رسول تم پر گواہ ہو “)۔ان آیات کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان تو بہترین امت ہوتا ہے مسلمان تولوگوں کو نفع پہو نچا تا ہے مسلمان تو لوگوں کو اچھی باتوں کال حکم دیتا ہے مسلمان تو لوگوں کو برائی سے روکتا ہے مسلمان دنیا کے لوگوں پر گواہ ہے اور رسولﷺ مسلمانوں پر گواہ ہے یہ مسلمانوں کی صفت ہے مسلمان کو دیکھ کر غیر مسلمان کااسلام کی طرف رغبت بڑھتا ہے اس لئے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم مسلمانوں کے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے صرف اتنا کہہ کر ہم نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم مسلمان ہیںاور ہم نے خدا کو اور اس کے دین کو مان لیا ہے بلکہ جب ہم نے خدا کو اپنا مالک حقیقی یعنی خدا اور اس کے بھیجے ہوئے دین اسلام کو اپنا دین مان لیا ہے تو ہم سب کو باشعور ہونا چاہیے اور ان ذمہ داریوں کو سمجھنا اور سیکھنا چاہیے جن کی قر آن و حدیث رہنمائی کرتی ہیں اور پھر اسے ادا کرنے کی فکر ہونی چاہیے وہ ذمہ داریاں صرف یہی نہیں کہ آپ خدا پر ‘اس کے فرشتوں پر ‘اس کی کتابوں پر‘اس کے رسولوں پر‘اور یوم آخرت پر ایمان لائیں‘وہ صرف اتنی ہی نہیںکہ آپ نماز پڑھیں‘روزہ رکھیں‘حج کریں‘اور زکوة وغیرہ معاملات میں اسلام کے مقر ر ضابطے پر عمل کریں بلکہ ان سب کے علاوہ ایک بڑی ذمہ داری یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ دنیا کے سامنے اس حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں جس پرہم اور آپ ایمان لائیںہیں۔ہمارا ایمان ہیں کہ ایک مسلمان کے ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوتا ہے ایک مسلمان کا غیر مسلمان پڑوسی بھی مسلمان سے محفوظ ہوتا ہے کیا یے صفات ہم مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں ؟ آج ایک مسلمان کے اعمال سے دوسرا مسلمان پریشان ہے پھر اس صورت میںغیر مسلمان تک اسلام کی حقیقت اور اس کی تبلیغ کیسے ممکن ہو سکتی ہے آج کا مسلمان اچھا کھاتا ہے اچھا پہنتا ہے بڑی بیماری سے محفوظ بھی ہے کسی کا محتاج بھی نہیں ہے لیکن اچھا کھانا اچھا پہننا وغیرہ کے باوجود ایک اچھا سچا مسلمان نہیں ہے کیونکہ طریقہ اسلام پر نہیں ہے غیروں کے طریقے پر ہے چاہے گھر کی عورتیں ہو چاہے گھر کے مرد ہو سب کے سب غیر ذمہ دارانہ زندگی گزربسر کر رہے ہیںاور مزے کی بات تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو غلط بھی نہیں سمجھ رہے ہیں یہ ایک بہت ہی افسوس اور قابل توجہ بات ہے اس اہم بات کی طرف توجہ دلانا ہماری ذمہ داری ہے آج گھر کے قوام یعنی مرد حضرات اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر گھر کا کوئی لڑکا یا لڑکی کسی بھی طرح کے گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے ہم قوام سے اللہ تبارک و تعالی سوال کرے گا چاہے قوام کوئی بھی ہو۔جتنے بھی گناہ سر زد ہوںگے ان سب کے گناہ کی پہلی ذمہ داری قوام پر ڈالی جائے گی کیونکہ اللہ نے ہمیں قوام بنا یا ہے۔آج کے مسلمان مرد و خواتین کو دنیا کی کامیابی کے تمام اسباب معلوم ہیں لیکن آخرت کی کامیابی کے اسباب معلوم تو دور اس کی فکر تک نہیں ہے مر د بھی گھر سے باہر گھر کی عورتیں بھی گھر سے باہر گھر کے بچے بھی گھر سے باہر جب ہماری زندگی گھر سے باہر سڑک یابازاروںکی زینت بنے گی تو اچھائی نہیں بلکہ برائی ہمارے اندر آئے گی اور جب برائی آئے گی تو ہم مسلمان نہیں کہلا ئیں گے۔ہماری زندگی کا معیار دیکھے صبح چائے کی دکان پر‘ شام بھی چائے کی دکان پر ‘گھر میںموبائل وٹیلی ویژن پر‘ بے جا و لا یعنی گفتگوں میں لا محدود وقت خرچ کر گھنٹوں گھر سے باہر وقت کی بربادی مگر گھر کی ماں ‘بہن ‘بیٹی ‘بیٹا‘بیوی وغیرہ پر دین کی محنت کرنے کے لئے وقت نہیں نکلتا ہے اتنی مشغولیت آج ہم مسلمانوں کے پاس ہیں یعنی دنیاوی کامیابی کے لئے وقت ہی وقت ہے ہماری روزانہ کی روٹین میں دین کو چھوڑ کر دنیا کی کامیابی کے تمام اسباب شامل ہے ا پنے آپ سے محنت و جستجوں کرکے دنیا کی تمام تعلیمات سے لیکر کامیابی تک کی فکر لیکر روزانہ ہم مشغول رہتے ہیں یہ تو ہم عام مسلمانوں کا حال ہے خود تونیکی کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ہے مگر مساجد اور مدارس میں خدمات انجام دینے والے مصلحین حضرات کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں اور تنقید بھی مثبت نہیں منفی کرتے ہیںہماری تنقید بھی تنگ ہوتی ہے مساجد و مدارس کے خدمات انجام دینے والے مصلحین حضرات کے لئے ہماری نظر اتنی تنگ کیوں ہیں؟ نہ ہم بذات خود مساجد و مدارس کی خدمات دینے کے اہل ہوتے ہیں اور نہ ہماری سوچ ان مصلحین حضرات کے لئے مثبت ہوتی ہے ہماری تنخواہ تو لاکھوں میں بھی ہو تو کم ہے لیکن مساجد و مدارس حضرات کے لئے دو ہزار یا چار ہزار یا زیادہ سے زیادہ دس ہزار بہت بہت زیادہ ہیں اور اس پر بھی دنیا و ما فیھا کی تما م پابندیاں عا ئد کر دی جاتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے کوئی امام نہیں اساتذہ نہیں اسلام کے داعی نہیں بلکہ ایک غلام یا مزدور اجرت پر رکھی ہے ایک داعی اسلام کے لئے دنیا کی تمام پابندیاں اور ہم بالکل آزاد ہوتے ہیں ہمارے لئے کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے مساجد یا مدارس کی کمیٹی میں ان مصلحین حضرات کی فکر کرنے والے ممبران خود کو ان مصلحین حضرات سے اعلی سمجھ بیٹھے ہیںان کمیٹیوں میں دینی تعلیم سے جڑے ہوئے معزز اور نیک حضرات کو جگہ نہیں دی جاتی ہے بلکہ ان کمیٹیوں میں شہر یا اطراف کے با حیثیت و مالدار اشخاص کو جگہ دی جاتی ہے اس لئے مساجد و مدارس کے اندر سے بھی اثر و رسوخ ختم ہوتا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے پریشان اور پریشان کئے جانے کی وجہ اصلیہ بھی یہی ہے اللہ کے نزدیک محبوب ترین لوگ وہ ہیں جو کسی کی پریشانی دور کر دیتا ہے جو کسی کو خوش کر دیتا ہے جو کسی کا قر ص ادا کر دیتا ہے جو کسی بھوکے کی بھوک کو مٹا دیتا ہے یے تومسلمانوں کے کرنے کے اعمال ہے آج کا مسلمان جب مساجد و مدارس کے مصلحین حضرات کو خوش کرنے کی فکر نہیں کرتا ہے تو ایک عام مسلمان کو کیسے خوش کر سکتا ہے آج کامسلمان مساجد و مدارس کے لئے سر کٹانے کو تیار ہے اسلام کے لئے مرمٹنے کو تیار ہے لیکن اللہ کے اسلام اور اس کے احکام کی بقا و تحفظ کے لئے اس کو سیکھنے کے لئے سر جھکانے یا وقت لگانے کے لئے تیار نہیں ہے آج کا مسلمان اپنے بچوں کو اسکول نہیں جانے کی وجہ سے مارتا پیٹتا اور ڈانٹتا ہے لیکن اگر بچہ مسجد یا مدرسہ نہیں جاتا ہے قرآن و دین نہیں سیکھتا ہے تو ایک مسلمان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے آج کے مسلمان کا بچہ انگلش بولتا اور پڑھتا ہے تو ہم مسلمان بہت خوش ہوتے ہیں لیکن قر آن پڑھنا نہیں آتا ہے مسلمان گھر کے بچہ بچی سے لیکر بڑی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں حتی کہ والدین و گارجین حضرات نک بھی قر آن پڑھنا نہیں جانتے ہیں دین بھی نہیں جانتے ہیں تو آج کے مسلمان کو کوئی فر ق نہیں پڑتا ہے آج کا ہر ایک مسلمان اپنے بچوں کو دنیا کی تما م طاقتوں اور کامیابیوں سے تعارف کر واتا ہے متا ثر کر واتا ہے لیکن اللہ کی رحمت طاقت اور قوت سے متاثر نہیں کر واتا ہے آج کا مسلمان دنیا کے تمام جھوٹے قصے اپنے بچوں کو سناتا اور بتا تا ہے لیکن انبیاءاور صحابہ و صحابیات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے سچے واقعات کبھی نہیں سنا تا ہے آج کے مسلمان کا بچہ بچی فلمی ایکٹرس کی نقل کرتا ہے تو ہم مسلمان بہت خوش ہوتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی سنتوں کی نقل‘ صحابہ اور صحابیات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی نقل کرنے کی ترغیب نہیں دلاتے ہیں بلکہ مذاک بناتے ہیںافسوس صد افسوس ۔آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم اللہ کی نظر میں مسلمان ہے یا نہیں اگر ہم نیک عمل کرتے ہیں تو ما شا ءاللہ ورنہ ہمیں ایک مسلمان قوام بننا ہے ایک مسلمان گارجین بننا ہے جو اپنے ہل و عیال کے ساتھ ساتھ باطل کے لئے بھی مشعل راہ ثابت ہوسکیں تب ہم کامیاب ہیں اور پکے سچے مسلمان ہیں ہمیں اپنے مصلحین حضرات کی عزت کرنی ہے اپنے آپ کو قر آ ن و حدیث کی روشنی میںسچا پکا مسلمان بنانے کی ضرورت ہے اللہ ہم سب کو نیک بنائیں اور اپنی نظر میں لفظ مسلمان کا مصداق بنائیں۔آمین
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔
شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماںنامود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی مسلم موجود
وجود میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہے جنہیں دیکھ کے شر مائے یہود
یو توسید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist