شعیب رضا فاطمی
کیا اب یہ مان لیا جائے کہ انڈیا اتحاد لاکھ کو شش کر لے 2024میں نریندر مودی کا حلف لینا اسی طرح طئے ہے جیس طرح ہر صبح سورج کا مشرق سے نکلنا اور شام کو مغرب میں ڈوبنا ۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ رام مندر کے افتتاحی تقریب کی تیاریوں اور سرکار کے ذریعہ اسے بین الریاستی جشن بنا دینا بتایا جا رہا ہے ۔
اس سلسلے میں گودی میڈیا تو اپنا فرض ادا کر ہی رہی ہے لیکن اب کئی سوشل میڈیا والے ایسے لوگ جو دعوی کرتے تھے کہ انہیں صحافت کی لاج بچانی ہے ،وہ بھی اس موضوع پر مباحثہ کروا رہے ہیں کہ انڈیا میں شامل پارٹیاں اور خاص طور پر کانگریس رام مندر کے افتتاحی پروگرام میں شریک ہونگے یا نہیں ؟اور نہیں ہونگے تو کیوں نہیں ہونگے ،کیا رام سے ان کی عقیدت نہیں ہے ؟کیا انہیں اس مندر کی تعمیر سے تکلیف ہے ؟وغیرہ وغیرہ ۔ ایودھیا میں مندر کے افتتاح کے قبل اس طرح کی فضا بندی سے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ماحول سازی کا پیمانہ کیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس افتتاح میں کانگریس کی شمولیت کیوں ضروری ہے ؟اور اس کے اس افتتاح میں شامل نہ ہونے سے کون سی آفت آ جائیگی ؟ جو لوگ یہ پرچار کر رہے ہیں کہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن کو بی جے پی نے اپنے سیاسی جال میں ان کو مندر ٹرسٹ کی جانب سے دعوت نامہ بھجوا کر جکڑ لیا ہے ان کو یہ بھی دیکھنا چاہئے اسی انڈیا کے ایک ممبر کمیونسٹ پارٹی نے دعوت نامہ ملتے ہی بغیر کچھ سوچے اور غور کئے ہوئے اس افتتاحی تقریب میں شمولیت سے انکار کر دیا ۔حالانکہ ان کی بھی کیرل میں حکومت ہے لیکن انہیں اس کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اگر وہ اس متنازعہ مندر کے افتتاح میں شامل نہیں ہونگے تو کیرل کی ہنفو کمیونیٹی انہیں ووٹ نہیں دیگی ۔
لیکن یہ کام دوسری پارٹیاں نہیں کر سکتیں ۔کیونکہ ان کا ذہن ہندو مسلم معاملے میں کبھی کلئیر نہیں رہا ورنہ کسی جمہوری ملک میں کسی بھی پارٹی کو جس نے آدھی صدی سے زیادہ ملک پر حکومت کی ہو ،اور آئین کے مطابق جس میں صاف صاف تحریر ہو کہ ہندوستان کی سر کار کا کوئی مذہب نہیں ہے اور اس لئے سرکار کا کوئی بھی نمائندہ کسی بھی مذہبی تقریب میں بطور سرکاری عہدیدار شریک نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کے باوجود کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعت کو یہ لگے کہ وہ بخ جے پی کے جال میں پھنس گئے ہیں تو یہ افسوسناک ہے ۔جہاں تک سوال کانگریس کا ہے تو اس کے زوال کے بہت سارے اسباب میں سب سے اہم یہی ہے کہ اس نے اپنا اسٹینڈ لینا چھوڑ دیا اور بی جے پی کے خوف میں اپنی پالیسی بناتی رہی ۔رام مندر کے افتتاحی پروگرام کی سرکاری تیاری اور اس میں وزیر اعظم سمیت تمام سرکار کا اس لئے شامل ہونا کہ ان سب کا مذہب ہندو ہے قانون شکنی ہے ،آئین کی مخالفت ہے۔اور اس پورے جشن کو سرکار کے ذریعہ اسپانسر کرنا سرکاری خزانہ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔لیکن ان پارٹیوں کو یہ کہنے میں اس لئے بھی اعتراض ہے کہ آنے والے انتخاب میں ملک کا ہندو انہیں ووٹ نہیں دیگا ۔یعنی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ملک کے تمام ہندو بی جے پی کے ووٹر ہیں ۔حالانکہ کانگریس سمیت ان تمام پارٹیوں کو تو آج بھی کروڑوں ہندو ووٹ دیتے ہیں ۔تو کیا اب وہ سب بی جے پی کے بھکت ہو چکے ہیں۔؟در اصل کانگریس کو اسی سیاسی بھنور سے نکلنا ہوگا اور کانگریس کو ہی نہیں بلکہ ان تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی جن کا جمہوری طرز حکومت میں یقین ہے ۔یہ تو وہ موقعہ ہے جب یہ ساری پارٹیاں مل کر بی جے پی کو ایک جمہوریت مخالف کٹر پنتھی سیاسی پارٹی کے طور پر ایکسپوز کر دینا چاہئے تھا ۔کیونکہ عدالت نے جب اس جگہ پر مندر بنانے کی اجازت فی تھی تو اپنے فیصلے میں یہ کہیں نہیں کہا تھا کہ وہ جگہ کبھی مندر کی تھی یا اس جگہ کسی مندر کو توڑکر مسجد کی تعمیر کی گئی تھی ۔بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ گواہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس جگہ نہ کبھی کوئی مندر تھا اور نہ اس کی کوئی شہادت موجود ہے کہ بابر کے وزیر میر باقی نے مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی ۔لیکن چونکہ اس جگہ سے ملک کی اکثریت کی عقیدت جڑی ہے اور اس کا تصفیہ نہ کرنے سے لا اینڈ آرڈر کا بھی مسلہ کھڑا ہو سکتا ہے اس لئے اس جگہ مندر بنانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔یعنی اس فیصلے کے ذریعہ عدالت کو بھی مندر حامیوں سے شر پسندی کی ہی توقع تھی ۔پھر بھی اگر ملک کے شہریوں سمیت سیاسی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنا بھی سہی تھا اور اس جگہ پر مندر کی تعمیر بھی حق بجانب ہے تو اسے اس تقریب میں ضرور شرکت کرنی چاہئے ۔لیکن یہ سوچ کر نہیں کہ وہ ایک جمہوری ملک میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت ہیں بلکہ یہ سوچ کر کہ وہ ہندو ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی جلسے میں شرکت کریں ۔یہ ووٹ اور سیاست ،اصول اور اقدار ،آئین اور اس کے تقاضوں کی بات بالکل فضول ہے ۔
اگر کانگریس میں اتنا دم خم ہوتا کہ وہ مودی بھکت ہندوؤں کو اپنے پالے میں لا سکتی ہے تو کمل ناتھ کا حشر دیکھنا چاہئے ۔
ReplyForward |
شعیب رضا فاطمی
کیا اب یہ مان لیا جائے کہ انڈیا اتحاد لاکھ کو شش کر لے 2024میں نریندر مودی کا حلف لینا اسی طرح طئے ہے جیس طرح ہر صبح سورج کا مشرق سے نکلنا اور شام کو مغرب میں ڈوبنا ۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ رام مندر کے افتتاحی تقریب کی تیاریوں اور سرکار کے ذریعہ اسے بین الریاستی جشن بنا دینا بتایا جا رہا ہے ۔
اس سلسلے میں گودی میڈیا تو اپنا فرض ادا کر ہی رہی ہے لیکن اب کئی سوشل میڈیا والے ایسے لوگ جو دعوی کرتے تھے کہ انہیں صحافت کی لاج بچانی ہے ،وہ بھی اس موضوع پر مباحثہ کروا رہے ہیں کہ انڈیا میں شامل پارٹیاں اور خاص طور پر کانگریس رام مندر کے افتتاحی پروگرام میں شریک ہونگے یا نہیں ؟اور نہیں ہونگے تو کیوں نہیں ہونگے ،کیا رام سے ان کی عقیدت نہیں ہے ؟کیا انہیں اس مندر کی تعمیر سے تکلیف ہے ؟وغیرہ وغیرہ ۔ ایودھیا میں مندر کے افتتاح کے قبل اس طرح کی فضا بندی سے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ماحول سازی کا پیمانہ کیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس افتتاح میں کانگریس کی شمولیت کیوں ضروری ہے ؟اور اس کے اس افتتاح میں شامل نہ ہونے سے کون سی آفت آ جائیگی ؟ جو لوگ یہ پرچار کر رہے ہیں کہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن کو بی جے پی نے اپنے سیاسی جال میں ان کو مندر ٹرسٹ کی جانب سے دعوت نامہ بھجوا کر جکڑ لیا ہے ان کو یہ بھی دیکھنا چاہئے اسی انڈیا کے ایک ممبر کمیونسٹ پارٹی نے دعوت نامہ ملتے ہی بغیر کچھ سوچے اور غور کئے ہوئے اس افتتاحی تقریب میں شمولیت سے انکار کر دیا ۔حالانکہ ان کی بھی کیرل میں حکومت ہے لیکن انہیں اس کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اگر وہ اس متنازعہ مندر کے افتتاح میں شامل نہیں ہونگے تو کیرل کی ہنفو کمیونیٹی انہیں ووٹ نہیں دیگی ۔
لیکن یہ کام دوسری پارٹیاں نہیں کر سکتیں ۔کیونکہ ان کا ذہن ہندو مسلم معاملے میں کبھی کلئیر نہیں رہا ورنہ کسی جمہوری ملک میں کسی بھی پارٹی کو جس نے آدھی صدی سے زیادہ ملک پر حکومت کی ہو ،اور آئین کے مطابق جس میں صاف صاف تحریر ہو کہ ہندوستان کی سر کار کا کوئی مذہب نہیں ہے اور اس لئے سرکار کا کوئی بھی نمائندہ کسی بھی مذہبی تقریب میں بطور سرکاری عہدیدار شریک نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کے باوجود کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعت کو یہ لگے کہ وہ بخ جے پی کے جال میں پھنس گئے ہیں تو یہ افسوسناک ہے ۔جہاں تک سوال کانگریس کا ہے تو اس کے زوال کے بہت سارے اسباب میں سب سے اہم یہی ہے کہ اس نے اپنا اسٹینڈ لینا چھوڑ دیا اور بی جے پی کے خوف میں اپنی پالیسی بناتی رہی ۔رام مندر کے افتتاحی پروگرام کی سرکاری تیاری اور اس میں وزیر اعظم سمیت تمام سرکار کا اس لئے شامل ہونا کہ ان سب کا مذہب ہندو ہے قانون شکنی ہے ،آئین کی مخالفت ہے۔اور اس پورے جشن کو سرکار کے ذریعہ اسپانسر کرنا سرکاری خزانہ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔لیکن ان پارٹیوں کو یہ کہنے میں اس لئے بھی اعتراض ہے کہ آنے والے انتخاب میں ملک کا ہندو انہیں ووٹ نہیں دیگا ۔یعنی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ملک کے تمام ہندو بی جے پی کے ووٹر ہیں ۔حالانکہ کانگریس سمیت ان تمام پارٹیوں کو تو آج بھی کروڑوں ہندو ووٹ دیتے ہیں ۔تو کیا اب وہ سب بی جے پی کے بھکت ہو چکے ہیں۔؟در اصل کانگریس کو اسی سیاسی بھنور سے نکلنا ہوگا اور کانگریس کو ہی نہیں بلکہ ان تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی جن کا جمہوری طرز حکومت میں یقین ہے ۔یہ تو وہ موقعہ ہے جب یہ ساری پارٹیاں مل کر بی جے پی کو ایک جمہوریت مخالف کٹر پنتھی سیاسی پارٹی کے طور پر ایکسپوز کر دینا چاہئے تھا ۔کیونکہ عدالت نے جب اس جگہ پر مندر بنانے کی اجازت فی تھی تو اپنے فیصلے میں یہ کہیں نہیں کہا تھا کہ وہ جگہ کبھی مندر کی تھی یا اس جگہ کسی مندر کو توڑکر مسجد کی تعمیر کی گئی تھی ۔بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ گواہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس جگہ نہ کبھی کوئی مندر تھا اور نہ اس کی کوئی شہادت موجود ہے کہ بابر کے وزیر میر باقی نے مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی ۔لیکن چونکہ اس جگہ سے ملک کی اکثریت کی عقیدت جڑی ہے اور اس کا تصفیہ نہ کرنے سے لا اینڈ آرڈر کا بھی مسلہ کھڑا ہو سکتا ہے اس لئے اس جگہ مندر بنانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔یعنی اس فیصلے کے ذریعہ عدالت کو بھی مندر حامیوں سے شر پسندی کی ہی توقع تھی ۔پھر بھی اگر ملک کے شہریوں سمیت سیاسی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنا بھی سہی تھا اور اس جگہ پر مندر کی تعمیر بھی حق بجانب ہے تو اسے اس تقریب میں ضرور شرکت کرنی چاہئے ۔لیکن یہ سوچ کر نہیں کہ وہ ایک جمہوری ملک میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت ہیں بلکہ یہ سوچ کر کہ وہ ہندو ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی جلسے میں شرکت کریں ۔یہ ووٹ اور سیاست ،اصول اور اقدار ،آئین اور اس کے تقاضوں کی بات بالکل فضول ہے ۔
اگر کانگریس میں اتنا دم خم ہوتا کہ وہ مودی بھکت ہندوؤں کو اپنے پالے میں لا سکتی ہے تو کمل ناتھ کا حشر دیکھنا چاہئے ۔
ReplyForward |












