• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 27, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home قومی خبریں

مندر افتتاح کا دعوت نامہ اور کانگریس کی الجھن

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 29, 2023
0 0
A A
مندر  افتتاح کا دعوت نامہ اور کانگریس کی الجھن
Share on FacebookShare on Twitter

شعیب رضا فاطمی
کیا اب یہ مان لیا جائے کہ انڈیا اتحاد لاکھ کو شش کر  لے 2024میں نریندر مودی کا حلف لینا اسی طرح طئے ہے جیس طرح ہر صبح سورج کا مشرق سے  نکلنا اور شام کو مغرب میں ڈوبنا ۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ رام مندر کے افتتاحی تقریب کی تیاریوں اور سرکار کے ذریعہ اسے بین الریاستی جشن بنا دینا بتایا جا رہا ہے ۔
اس سلسلے میں گودی میڈیا تو اپنا فرض ادا کر ہی رہی ہے لیکن اب کئی سوشل میڈیا والے ایسے لوگ جو دعوی کرتے تھے کہ انہیں صحافت کی لاج بچانی ہے ،وہ بھی اس موضوع پر مباحثہ کروا رہے ہیں کہ انڈیا میں شامل پارٹیاں اور خاص طور پر کانگریس رام مندر کے افتتاحی پروگرام میں شریک ہونگے یا نہیں ؟اور نہیں ہونگے تو کیوں نہیں ہونگے ،کیا رام سے  ان کی عقیدت نہیں ہے ؟کیا انہیں اس مندر کی تعمیر سے تکلیف ہے ؟وغیرہ وغیرہ ۔ ایودھیا میں مندر کے افتتاح  کے قبل اس طرح کی فضا بندی سے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ماحول سازی کا پیمانہ کیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس افتتاح میں کانگریس کی شمولیت کیوں ضروری ہے ؟اور اس کے اس افتتاح میں شامل نہ ہونے سے کون سی آفت آ جائیگی ؟ جو لوگ یہ پرچار کر رہے ہیں کہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن کو بی جے پی نے اپنے سیاسی جال میں ان کو مندر ٹرسٹ کی جانب سے دعوت نامہ بھجوا کر جکڑ لیا ہے  ان کو یہ بھی دیکھنا چاہئے اسی انڈیا کے ایک ممبر کمیونسٹ پارٹی نے دعوت نامہ ملتے ہی بغیر کچھ سوچے اور غور کئے ہوئے اس افتتاحی تقریب میں شمولیت سے انکار کر دیا ۔حالانکہ ان کی بھی کیرل میں حکومت ہے لیکن انہیں اس کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اگر وہ اس متنازعہ مندر کے افتتاح میں شامل نہیں ہونگے تو کیرل کی ہنفو کمیونیٹی انہیں ووٹ نہیں دیگی ۔
لیکن یہ کام دوسری پارٹیاں نہیں کر سکتیں ۔کیونکہ ان کا ذہن ہندو مسلم معاملے میں کبھی کلئیر نہیں رہا ورنہ کسی جمہوری ملک میں کسی بھی پارٹی کو جس نے آدھی صدی سے زیادہ ملک پر حکومت کی ہو ،اور آئین کے مطابق جس میں صاف صاف تحریر ہو کہ ہندوستان کی سر کار کا کوئی مذہب نہیں ہے اور اس لئے سرکار کا کوئی بھی نمائندہ کسی بھی مذہبی تقریب میں بطور سرکاری عہدیدار شریک نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کے باوجود کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعت کو یہ لگے کہ وہ بخ جے پی کے جال میں پھنس گئے ہیں تو یہ افسوسناک ہے ۔جہاں تک سوال کانگریس کا ہے تو اس کے زوال کے بہت سارے اسباب میں سب سے اہم یہی ہے کہ اس نے اپنا اسٹینڈ لینا چھوڑ دیا اور بی جے پی کے خوف میں اپنی پالیسی بناتی رہی ۔رام مندر کے افتتاحی پروگرام کی سرکاری تیاری اور اس میں وزیر اعظم سمیت تمام سرکار کا اس لئے شامل ہونا کہ ان سب کا مذہب ہندو ہے قانون شکنی ہے ،آئین کی مخالفت ہے۔اور اس پورے جشن کو سرکار کے ذریعہ اسپانسر کرنا سرکاری خزانہ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔لیکن ان پارٹیوں کو یہ کہنے میں اس لئے بھی اعتراض ہے کہ آنے والے انتخاب  میں ملک کا ہندو انہیں ووٹ نہیں دیگا ۔یعنی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ملک کے تمام ہندو بی جے پی کے ووٹر ہیں ۔حالانکہ کانگریس سمیت ان تمام پارٹیوں کو تو آج بھی کروڑوں ہندو ووٹ دیتے ہیں ۔تو کیا اب وہ سب بی جے پی کے بھکت ہو چکے ہیں۔؟در اصل کانگریس کو اسی سیاسی بھنور سے نکلنا ہوگا اور کانگریس کو ہی نہیں بلکہ ان تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی جن کا جمہوری طرز حکومت میں یقین ہے ۔یہ تو وہ موقعہ ہے جب یہ ساری پارٹیاں مل کر بی جے پی کو ایک جمہوریت مخالف کٹر پنتھی سیاسی پارٹی کے طور پر ایکسپوز کر دینا چاہئے تھا ۔کیونکہ عدالت نے جب اس جگہ پر مندر بنانے کی اجازت فی تھی تو اپنے فیصلے میں یہ کہیں نہیں کہا تھا کہ وہ جگہ کبھی مندر کی تھی یا اس جگہ کسی مندر کو توڑکر مسجد کی تعمیر کی گئی تھی ۔بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ گواہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس جگہ نہ کبھی کوئی مندر تھا اور نہ اس کی کوئی شہادت موجود ہے کہ بابر کے وزیر میر باقی  نے مندر توڑ کر مسجد  تعمیر کی ۔لیکن چونکہ اس جگہ سے ملک کی اکثریت کی عقیدت جڑی ہے اور اس کا تصفیہ نہ کرنے سے لا اینڈ آرڈر کا بھی مسلہ کھڑا ہو سکتا ہے اس لئے اس جگہ مندر بنانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔یعنی اس فیصلے کے ذریعہ عدالت کو بھی مندر حامیوں سے شر پسندی کی ہی توقع تھی ۔پھر بھی اگر ملک کے شہریوں سمیت سیاسی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنا بھی سہی تھا اور اس جگہ پر مندر کی تعمیر بھی حق بجانب ہے تو اسے اس تقریب میں ضرور شرکت کرنی چاہئے ۔لیکن یہ سوچ کر نہیں کہ وہ ایک جمہوری ملک میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت ہیں بلکہ یہ سوچ کر کہ وہ ہندو ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی جلسے میں شرکت کریں ۔یہ ووٹ اور سیاست ،اصول اور اقدار ،آئین اور اس کے تقاضوں کی بات بالکل فضول ہے ۔
اگر کانگریس میں اتنا دم خم ہوتا کہ وہ مودی بھکت ہندوؤں کو اپنے پالے میں لا سکتی ہے تو کمل ناتھ کا حشر دیکھنا چاہئے ۔

ReplyForward

Add reaction

شعیب رضا فاطمی
کیا اب یہ مان لیا جائے کہ انڈیا اتحاد لاکھ کو شش کر  لے 2024میں نریندر مودی کا حلف لینا اسی طرح طئے ہے جیس طرح ہر صبح سورج کا مشرق سے  نکلنا اور شام کو مغرب میں ڈوبنا ۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ رام مندر کے افتتاحی تقریب کی تیاریوں اور سرکار کے ذریعہ اسے بین الریاستی جشن بنا دینا بتایا جا رہا ہے ۔
اس سلسلے میں گودی میڈیا تو اپنا فرض ادا کر ہی رہی ہے لیکن اب کئی سوشل میڈیا والے ایسے لوگ جو دعوی کرتے تھے کہ انہیں صحافت کی لاج بچانی ہے ،وہ بھی اس موضوع پر مباحثہ کروا رہے ہیں کہ انڈیا میں شامل پارٹیاں اور خاص طور پر کانگریس رام مندر کے افتتاحی پروگرام میں شریک ہونگے یا نہیں ؟اور نہیں ہونگے تو کیوں نہیں ہونگے ،کیا رام سے  ان کی عقیدت نہیں ہے ؟کیا انہیں اس مندر کی تعمیر سے تکلیف ہے ؟وغیرہ وغیرہ ۔ ایودھیا میں مندر کے افتتاح  کے قبل اس طرح کی فضا بندی سے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ماحول سازی کا پیمانہ کیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس افتتاح میں کانگریس کی شمولیت کیوں ضروری ہے ؟اور اس کے اس افتتاح میں شامل نہ ہونے سے کون سی آفت آ جائیگی ؟ جو لوگ یہ پرچار کر رہے ہیں کہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن کو بی جے پی نے اپنے سیاسی جال میں ان کو مندر ٹرسٹ کی جانب سے دعوت نامہ بھجوا کر جکڑ لیا ہے  ان کو یہ بھی دیکھنا چاہئے اسی انڈیا کے ایک ممبر کمیونسٹ پارٹی نے دعوت نامہ ملتے ہی بغیر کچھ سوچے اور غور کئے ہوئے اس افتتاحی تقریب میں شمولیت سے انکار کر دیا ۔حالانکہ ان کی بھی کیرل میں حکومت ہے لیکن انہیں اس کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اگر وہ اس متنازعہ مندر کے افتتاح میں شامل نہیں ہونگے تو کیرل کی ہنفو کمیونیٹی انہیں ووٹ نہیں دیگی ۔
لیکن یہ کام دوسری پارٹیاں نہیں کر سکتیں ۔کیونکہ ان کا ذہن ہندو مسلم معاملے میں کبھی کلئیر نہیں رہا ورنہ کسی جمہوری ملک میں کسی بھی پارٹی کو جس نے آدھی صدی سے زیادہ ملک پر حکومت کی ہو ،اور آئین کے مطابق جس میں صاف صاف تحریر ہو کہ ہندوستان کی سر کار کا کوئی مذہب نہیں ہے اور اس لئے سرکار کا کوئی بھی نمائندہ کسی بھی مذہبی تقریب میں بطور سرکاری عہدیدار شریک نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کے باوجود کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعت کو یہ لگے کہ وہ بخ جے پی کے جال میں پھنس گئے ہیں تو یہ افسوسناک ہے ۔جہاں تک سوال کانگریس کا ہے تو اس کے زوال کے بہت سارے اسباب میں سب سے اہم یہی ہے کہ اس نے اپنا اسٹینڈ لینا چھوڑ دیا اور بی جے پی کے خوف میں اپنی پالیسی بناتی رہی ۔رام مندر کے افتتاحی پروگرام کی سرکاری تیاری اور اس میں وزیر اعظم سمیت تمام سرکار کا اس لئے شامل ہونا کہ ان سب کا مذہب ہندو ہے قانون شکنی ہے ،آئین کی مخالفت ہے۔اور اس پورے جشن کو سرکار کے ذریعہ اسپانسر کرنا سرکاری خزانہ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔لیکن ان پارٹیوں کو یہ کہنے میں اس لئے بھی اعتراض ہے کہ آنے والے انتخاب  میں ملک کا ہندو انہیں ووٹ نہیں دیگا ۔یعنی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ملک کے تمام ہندو بی جے پی کے ووٹر ہیں ۔حالانکہ کانگریس سمیت ان تمام پارٹیوں کو تو آج بھی کروڑوں ہندو ووٹ دیتے ہیں ۔تو کیا اب وہ سب بی جے پی کے بھکت ہو چکے ہیں۔؟در اصل کانگریس کو اسی سیاسی بھنور سے نکلنا ہوگا اور کانگریس کو ہی نہیں بلکہ ان تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی جن کا جمہوری طرز حکومت میں یقین ہے ۔یہ تو وہ موقعہ ہے جب یہ ساری پارٹیاں مل کر بی جے پی کو ایک جمہوریت مخالف کٹر پنتھی سیاسی پارٹی کے طور پر ایکسپوز کر دینا چاہئے تھا ۔کیونکہ عدالت نے جب اس جگہ پر مندر بنانے کی اجازت فی تھی تو اپنے فیصلے میں یہ کہیں نہیں کہا تھا کہ وہ جگہ کبھی مندر کی تھی یا اس جگہ کسی مندر کو توڑکر مسجد کی تعمیر کی گئی تھی ۔بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ گواہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس جگہ نہ کبھی کوئی مندر تھا اور نہ اس کی کوئی شہادت موجود ہے کہ بابر کے وزیر میر باقی  نے مندر توڑ کر مسجد  تعمیر کی ۔لیکن چونکہ اس جگہ سے ملک کی اکثریت کی عقیدت جڑی ہے اور اس کا تصفیہ نہ کرنے سے لا اینڈ آرڈر کا بھی مسلہ کھڑا ہو سکتا ہے اس لئے اس جگہ مندر بنانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔یعنی اس فیصلے کے ذریعہ عدالت کو بھی مندر حامیوں سے شر پسندی کی ہی توقع تھی ۔پھر بھی اگر ملک کے شہریوں سمیت سیاسی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنا بھی سہی تھا اور اس جگہ پر مندر کی تعمیر بھی حق بجانب ہے تو اسے اس تقریب میں ضرور شرکت کرنی چاہئے ۔لیکن یہ سوچ کر نہیں کہ وہ ایک جمہوری ملک میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت ہیں بلکہ یہ سوچ کر کہ وہ ہندو ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی جلسے میں شرکت کریں ۔یہ ووٹ اور سیاست ،اصول اور اقدار ،آئین اور اس کے تقاضوں کی بات بالکل فضول ہے ۔
اگر کانگریس میں اتنا دم خم ہوتا کہ وہ مودی بھکت ہندوؤں کو اپنے پالے میں لا سکتی ہے تو کمل ناتھ کا حشر دیکھنا چاہئے ۔

ReplyForward

Add reaction
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن  گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    مارچ 27, 2026
    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے  خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    مارچ 27, 2026
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist