حقیقت یہ ہیکہ حکمراں اپنے اقتدار کو ایک امانت جانے اور اسکا پورا حق اداکرے، اس کے علاوہ انسانی معاشرے کے لیے عدل وقسط اور ہر ایک آدمی کے ساتھ حق کے مطابق فیصلے ہونے لگے تو پھر وہ معاشرہ حقیقت میں ایک پرسکون و پر وقار معاشرہ کہلاے گا۔ایک حدیث میں ارشاد ہوتاہے:’’جب امانت ضائع کی جانے لگے تو ساعت (قیامت ) کا انتظار کرو۔ کہا گیا یارسول اللہ? امانت ضائع کرنا کسے کہتے ہیں؟ ا?پ نے فرمایا جب امر و حکومت اور سرداری، نااہلوں کو سپرد کی جائے تو تم ساعت (قیامت) کاانتظار کرو۔‘‘ (بخاری۔ روایت ابوہریرہ?) امانت کا یہ تصور انسانی حقوق کی حفاظت اور ان کے احترام کا ایک اہم ذریعہ اور غصب حقوق کی راہ میں بہت بڑ ا مانع (Deterent) ہے۔۳۔ *فرض کی اولیت:*اسلام نے اپنے نظام فکر وعمل میں حقوق کے حصول کی بجائے فرائض کی ادائیگی پر زیادہ زور دیا ہے۔ حق کا مسئلہ فی الحقیقت فرض کے مقابلے میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر فرض ٹھیک ٹھیک ادا ہوتا رہے تو حق کا مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جوں ہی فرض کی ادائیگی معطل ہوتی ہے حق کا سوال ابھر ا?تا ہے۔ جس پر کوئی فرض عائد ہوتا ہے اس کی حیثیت دینے والے (Giver) کی ہے اورجس کا حق بنتا ہے اس کی حیثیت وصول کنندہ (Recipient)کی ہے۔ اب اگر فرض باقاعدگی سے ادا ہورہا ہے تو وصول کنندہ کو دعوی? حق (Claim) کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔مغرب کے سیکولر سیاسی نظام میں چونکہ ریاست خود متقدر اعلیٰ ہے اس لیے اسے مختار ک?ل کی حیثیت حاصل ہے۔ سارے کے سارے اختیارات اس سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ یہ کہیں کمیونسٹ ریاستوں کی صورت میں ایک مرکز پر جمع ہیں، اور کہیں نظر یہ تقسیم اختیارات (Division of Powers) کے تحت امریکہ جیسے ملکوں میں مقننہ، عدلیہ اورانتظامیہ میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ لیکن ا?خری اختیار (Final Authority) بہرحال ریاست ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ شہریوں کی حیثیت مدافعانہ ہوگئی ہے۔ ان کے تحفظ کی فکر نے وہاں حقوق کو غیر معمول اہمیت دے دی ہے۔ اور فرض پر اس لیے زور نہیں دیا گیا کہ اسے ادا کون کرائے گا؟ کونسی بالاتر قوت ہے جو ریاست کو ادائیگی فرض پر مجبور کرسکے؟ ریاست اگر کوئی حق غصب کرلے تو متاثرہ فرد ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اسے زیادہ سے زیادہ عدلیہ کے ذریعہ بحال کرالے گا۔ لیکن ضروری نہیں کہ عدلیہ اسے ہمیشہ بحالی حق میںیہ مدد دے سکے۔ ریاست اپنے ا س ادارے کے اختیارات محدود کرکے فرد کو اس کی پشت پناہی سے محروم کرسکتی ہے اور پھر وہی حق دوبارہ غصب کرکے فرد کو اس سے با?سانی محروم کرسکتی ہے۔اسلام میں چونکہ حقوق دائمی اور ناقابل تغیر ہیں، ریاست، عدلیہ کے اختیارات کم یا محدود کرنے کی قوت سے محروم ہے اور اپنے تمام اختیارات مقتدراعلیٰ کے احکام اوراس کی مقرر کردہ حدود کے مطابق استعمال کرنے کی پابند ہے۔ اس لیے یہاں سارا زور فرض کی ادائیگی پر دیا گیا ہے۔قرا?ن کریم نے بنی نوع انسان کو، مختلف امتوں کو، انبیاء کرام کو، افراد کو، کفار اورمشرکین کو اور اہل ایمان کو جہاں جہاں خطاب کیا، انہیں ان کافرض یاد دلایا ہے۔ اورفرض کی ادائیگی پرہی دنیا وا?خرت میںسرخروئی اور سربلندی کا وعدہ کیاہے۔ پورا قرا?ن اپنی اولین ا?یت سے لے کر ا?خر ی ا?یت تک کہیں بھی مستحقین سے خطاب کرکے انہیں یہ مشورہ اور ترغیب نہیں دیتا کہ اٹھو متحد ہوجائو، جتھ بندی کرو، تنظیم سازی کرو اور بزور اپنا حق حاصل کرلو۔ اس ترغیب کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والوں کو زمام اقتدار سے ہٹا دینے، ان پر تباہی وہلاکت کاعذاب نازل کرنے، انہیں اس دنیا میں ذلیل وخوار کرنے، ان کا نام ونشان صفحہ ہستی سے مٹا دینے اور ا?خرت میں انہیں جہنم کی دہکتی ہوئی ا?گ کے الائو میں پھینک دینے کا کام مقتدر اعلیٰ نے خود اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ پھر اس ترغیب کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ خدا کی نیابتی حکومت دراصل حقداروں ہی کی سرپرست حکومت ہے۔ اس کا اصل کام ہی یہ ہے کہ اقتدار کی قوت فرض کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے کام میں لائے اور حقداروں کو ان کا حق پہنچائے۔ حضرت ابوبکر? کا مانعین زکوٰ? کے خلاف اعلان جنگ اسلامی ریاست کے اسی مزاج وکردار کاا?ئینہ دار ہے۔ ان پر مستحقین زکوٰ? نے نہ تو کوئی دبائو ڈالا تھا کہ ہمارا حق دلوائیے اور نہ اس سلسلہ میں کوئی انفرادی یا اجتماعی شکایت ان کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ وہ اللہ اور اس کے رسول? کی طرف سے مامور ہی اس کام پر تھے کہ جس پر کوئی فرض عائد ہوتا ہے اسے ادائیگی فرض پر مجبور کریں اور جس کا کوئی حق اللہ نے مقرر کردیا ہے وہ اس تک پہنچائیں۔ ا?ج بھی زکوٰ? کے ا?ٹھوں مستحقین میں سے کسی کو یہ قانونی حق حاصل نہیں کہ وہ عدلیہ میں کسی صاحب نصاب پر دعویٰ دائر کرکے اس کے مال میں سے اپنا حصہ وصول کرلے۔ مستحقین اپنا دعویٰ صرف حکومت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المال کی مد زکوٰ? سے ان کا حق ادا کرے یا مالدار لوگوںسے رقم زکوٰ? وصول کرکے مستحقین کو پہنچائے۔ گویا حکومت حقداروں کی قانونی کفیل و سرپرست اور ان کی وکیل و ایجنٹ ہے۔ وہی حقداروں کی طرف سے اصل مدعی ہے۔ اور اس کی ساری قوتیں فرض کی ادائیگی یا حق کی وصولیابی کا ذریعہ ہیں۔امام ابن تیمیہ? فرائض حکومت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ولایات وامارات کا اصل مقصود مخلوق خدا کی خدمت و اصلاح ہے۔ اور جب دین کو لوگ چھوڑ دیں گے تو سخت ترین گھاٹا اٹھائیں گے۔ اور جو دنیوی نعمتیں ان کو دی گئی ہیں وہ قطعاً مفید ونفع بخش ثابت نہ ہوں گی۔ اور دنیا سے ان کو جو دینی اصلاح حاصل ہوتی ہے وہ دو قسم کی ہے۔ ایک یہ کہ مال کو مستحق لوگوں میں تقسیم کیا جائے،u دوسری یہ کہ زیادتی کرنے اور ناحق لینے والوں کو عقوبت وسزا دی جائے۔اندازہ کیجئے جس معاشرے میں عبادات، وعظ وتلقین، تعلیم وتربیت، ذرائع نشر و اشاعت اور حکومت کی مختلف ایجنسیوں، اداروں اور اس کے مجموعی اختیارات و وسائل کی ساری قوتیں مل کر فرض کی ادائیگی پر داخلی اور خارجی دبائو ڈال رہی ہوں وہاں انسان کے بنیادی حقوق کا مسئلہ کس حد تک ابھر سکے گا؟۴۔ نصب العین کی ہم ا?ہنگی:قرا?ن میں اسلامی ریاست کا مقصد وجود یہ بتایا گیا ہے:ترجمہ: ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں قتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰ? دیںگے اور نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔‘‘ (الحج:۴۱)اور عین یہی مقصد وجود امت مسلمہ کا بھی ہے۔ترجمہ: ’’تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کی اصلاح و ہدایت کیلئے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔‘‘ (ا?ل عمران:۰۱۱)گویا مسلمانوں کی انفرادی واجتماعی زندگی اور ان کی حکومت و ریاست کا مقصد ایک ہے۔ نیکی پر خود چلنا، دوسروں کو چلانا اور بدی سے خود رکنا اور دوسروں کو روکنا۔ انفرادی و اجتماعی زندگی میں مقصد کی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام مسلمان ہویا ان کا حکمران، سب ایک ہی راہ کے راہی اورایک ہی منزل کے مسافر ہیں۔ سب کی سمت سفر ایک ہے۔ سب اپنی اپنی حیثیت اور اپنے اپنے وسائل اختیارات کے مطابق ایک ہی کام کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ کسی کو اقتدار کی قوتیں ملی ہیں تو وہ انہیں اسی نصب العین کے حصول میں کھپا رہا ہے۔ اور کسی کو جان وتن کے سوا کچھ میسر نہیں ا?یا تو وہ اسی متاع کو لیے ہوئے اپنے مقصد کی تکمیل میںلگا ہوا ہے۔جہاں مقصد کی یہ ہم ا?ہنگی موجود ہو وہاں فرد و ریاست میں ٹکرائو کس بات پر ہوگا؟ اسلام میں امیر ریاست کی حیثیت حاکم کی نہیں نگراں اور سرپرست کی ہے۔ اور امیر و رعایا کا رشتہ حاکم ومحکوم کا نہیں معاونین کا ہے۔ ارشاد بانی ہے۔’’مومن مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰ? دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول? کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبہ: ۱۷)اب اگر کسی حکمراں کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش اقتدار نے نزاع وتصادم کی کوئی صورت پیدا کی بھی تو شہریوں کیلئے خود مقتدر اعلیٰ کا یہ حکم موجود ہے۔’’نیکی اورتقویٰ میں تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔ (المائدہ: ۲)امیر، گناہ اور زیادہ کی طرف قدم بڑھاتے ہی امت کو عدم تعاون (Non-Cooperation) کا جواز مہیا کردے گا اورحق اطاعت کھو بیٹھے گا۔
نصب العین کی یہ ہم ا?ہنگی تصور حاکمیت کو تصور اخوت میں بدل دیتی ہے۔ اوراس سے انحراف کی یہ سزا کہ امیر، حق اطاعت ہی کھو بیٹھے، بنیادی حقوق کے تحفظ کا ایک بہت موثر ذریعہ بن جاتی ہے۔۵۔ فرد کا احترام:انسان کے بنیادی حقوق کا مسئلہ درحقیقت احترام ا?دمیت کا مسئلہ ہے۔ مسند اقتدار پر بیٹھنے والے اکثر ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ اور اپنے اختیارات ووسائل کی کرشمہ سازیوں کے مظاہر دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی مافوق البشر ہستی ہیں۔ا ور کچھ ایسی اعلیٰ صفات کے حامل ہیں جن کی بنا پر وہ حاکمیت و فرمانروائی کے مستحق بن گئے ہیں۔ اور باقی لوگوں کا کام بس ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے۔ اس طرز فکر نے باقاعدہ نظریوں اور فلسفوں کی صورت اختیار کی ہے۔ اسی فکر نے انسانی ریاست کے ا?غاز کیلئے نظریہ تخلیق ربانی (Theory of Devine origin) گھڑا، اسی سے بادشاہوں کے اختیارات کیلئے ’’حقوق ربانی‘‘ (Divine Rights کی اصطلاح وضع ہوء){اقتباس ومستفاد کتاب بنیادی حقوق}اسلامی تعلیمات آج بھی وہی اثر رکھتی ہیں جو ابتداء اسلام سے چلی آرہی ہیں جسکی شہادت سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں شرط یہ ہیکہ اس پر عمل کیا جاے۔











