• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

تقریب یوم ولادت مرزا اسد اللہ خان غالب

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 18, 2024
0 0
A A
تقریب یوم ولادت مرزا اسد اللہ خان غالب
Share on FacebookShare on Twitter

گزشتہ ماہ ستائیس دسمبر بروز بدھ ابر آلود سرد موسم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نئ دہلی کی تیز رفتار شاہراہ پر غالب اکیڈمی کی جانب گامزن تھی ہر برس یوم ولادت غالب کے مخصوص دن کا بے صبری سے انتظار کرتی  ہوں  کیوں ناں ہو بھئ بلیماران گلی قاسم جان دہلی میں مرزا غالب کی حویلی کے قریب جائے پیدائش ہونے کے باعث بچپن سے آج تک غالب سے گہرا رشتہ ہے۔  میں نے ڈرائیور کو گاڑی کی رفتار قدرے تیز کرنے کو کہا اور پچھلی سیٹ پر ٹیک لگا کر بند آنکھوں سے ماضی کے جھروکوں میں مگن ہو گئ  میرے والد مرحوم سید امیر علی نے اپنےدولت خانہ سید منزل ضلع مظفر نگر اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاوں دتتیانا سے اپنے ادبی شوق کے ساتھ غالب کی حویلی کے قریب سکونت اختیار کی۔ والد مرحوم کو اردو زبان و ادب سے والہانہ محبت تھی۔مرزا غالب اور علامہ اقبال کے گر دیدہ تھے۔ جبکہ با ذوق تعلیم یافتہ والدہ مرحومہ ہمیشہ محاوراتی جملوں کے ساتھ بزم خواتین میں چار چاند لگا دیا کر تی تھیں۔کلام غالب کی چاشنی کا زائقہ والدہ کی گود میں ہی میسر آگیا تھا۔ بچپن سے ہی غالب اکیڈمی کی تقریبات میں حصہ لیا کرتی تھی دور حاضر میں بھی ادبی نشست میں شامل ہو نے کا سہرا والدہ مرحومہ کی کا وش کا ہی نتیجہ ہے ۔ میڈم جی غالب اکیڈمی آگئی میں اپنے ڈرائیور محمود کی آواز پر چونک گئ۔ اوہ !! اچھا !!!! میں نے آنکھیں کھولیں اور پلک جھپکنے ہی وقت سے پہلے غالب آ ڈوٹوریم کی اگلی نشست پر جا بیٹھی۔ دعوت نامہ پر سرسری نظر ڈالی وزارت ٹقا فت حکومت ہند کے مالی تعاون سے مرزا غالب کے 226 ویں یوم ولادت کے موقع پر بعنوان خطبات غالب کی مقبولیت کے اسباب از وہاج الدین علوی اور خطوط غالب کی اہمیت از پروفیسر شہپر رسول کے علاوہ بزم مو سیقی محفل کلام غالب معروف غزل گلو کار ہ سمیٹا دتا شام پانچ بجے منعقد کی گئی۔
پروفیسر وہا ج الدین سخت علا لت کے باعث غیر حاضر رہے ۔ جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو سے سبکدوش پروفیسر شہپر رسول  غالب کے خطوط پر مختلف کتابوں سے نقل شدہ مفصل مقالہ سناتے وقت بہت سے اقتباسات حذف کرنے کے باعث تسلسل برقرار نہ رکھ سکے ۔ لیکن چند دلچسپ خطوط گوش گزار ہوئے تو سا معین کی تالیوں سے فضا گونج اٹھی ۔ حا لانکہ پروفیسر رسول کے مقالہ میں کسی خیال نو کی جھلک نظر نہ آئی وہی فرسودہ انداز، وہی پرانی باتیں جو عہد طفلی سے آج تک سنتے آرہے ہیں۔ تقر یبا پچاس منٹ تک پروفیسر شہپر رسول سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ۔ انھوں نے کہا کہ غالب نے نہ صرف فن شاعری میں طبع آزمائی کی بلکہ ان کے خطوط نے اردو نثر کی تاریخ رقم کر دی غالب نے بے تکلف انداز میں مراسلہ کو مکالمہ میں تبدیل کر دیا ۔  ڈاکٹر گلشن رائے کنول نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ غالب کے خطوط نے اردو زبان و ادب میں ایک نئ روح پھونک دی جبکہ ان کے ایک خط میں ملکہ وکٹوریہ کی شان میں قلم بند قصیدہ اردو ادب میں نا پسند کیا گیا ۔ لیکن ان کے تمام مکتوب میں ہندوستا نی تہذیب کی مختلف اقسام جا بجا نظر آتی ہیں ۔ غالب اکیڈمی کے سیکرٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے فرائض نظامت کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطوط غالب بذات خود اردو زبان وادب کی مکمل داستان ہیں۔ غالب اگر شاعری نہ بھی کرتے تو ان کے خطوط ہی شہرت کے لئے کافی تھے ۔ فارسی زبان کے سبکدوش پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ غالب کی فارسی شاعری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ غالب نے شہر آشوب کا زمانہ دیکھا تھا چنانچہ ان کی شاعری میں ان کے خطوط میں غم و ا ندوہ کی عکاسی نما یاں طور پر نظر آتی ہے ۔
بعد از خطبات بزم مو سیقی کے تحت کلام غالب کی محفل آراستہ کی گئ۔ اردو زبان سے نا آشنا ایک ایسی خاتون نے نظامت کے فرائض انجام دیئے جو غالب کا ایک شعر تک نظامت میں شامل کرنے سے قاصر رہی انگریزی زبان کی بہتات نے محفل موسیقی کو بھدے پن کا رخ دے دیا ۔ اردو زبان کو بالائے طاق رکھ کر خاتون نے ا نگر یزی زبان میں گفتگو کرنے میں فخر محسوس کیا ۔ لیکن  طرہ امتیاز  اردو شاعر متین ا مرو ہوی کے کلام سے سامعین  لطف اندوز ہو ئے جبکہ غزل گلو کارہ سمیٹا دتا نے اپنی دلکش آواز میں سازندوں سلیم احمد، کمال احمد اور سلامت علی کے ساتھ اثر انگیز ، پر سوز عمدہ تلفظ کے ساتھ کلام غالب پیش کیا ۔ اس مختصر سی تقریب میں غالب اکیڈمی میں تعلیم حاصل کر رہے غیر اردو داں طلباء و طالبات کو عربی سر ٹیفیکیٹ ، خطاطی کورس ، اردو ڈپلومہ کورس کی اسناد بھی تقسیم کی گیئں ۔مرزا اسد اللہ خان غالب کی اس تقریب کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو تین گھنٹے کے مختصر اوقات میں غالب کے دو سو چھیالیسویں یوم پیدائش کے موقع پر بین الاقوامی سطح پر شہرہ آفاق با کمال شخصیت کو پا مال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑ ی گئ ۔مواصلاتی ترقی کے دور میں جبکہ خطوط کا نام و نشان باقی نہیں رہا اب محض چند دفتری امور میں حکو متیں اطلاع کے طور پر آن لائن خط و کتابت سے رابطہ کرتی ہیں وگرنہ نسل نو خط و کتابت اور لیٹر بکس ڈاک خانہ جیسی اصطلاحات سے نا آشنا ہے ۔نئ نسل آن لائن گفت و شنید میں مصروف ہے اور بزرگان ادب کشمش میں دانتوں تلے انگلی دبائے تما شہ دیکھ رہے ہیں۔ تیز رفتار برقی ترقی میں غالب کے خطوط چہ معنی؟ قابل فکر امر ہے کہ غالب کے بغیر نہ صرف اردو شاعری نامکمل ہے بلکہ تاریخ ہند میں بھی غالب بحیثیت نقاد، فلسفی ، مہذب لطیفہ گو ، وطن پرست ، مغلیہ تہذیب کے علمبردار نظر آتے ہیں ۔ کیا وجہ رہی کہ شیریں زبان، منکسر المزاج ، صابر خصلت ، شہر آشوب  سے سینہ سپر ہونے والے شاعر پر مضحکہ خیز تقریب کا انعقاد کیوں کیا گیا ؟ دہلی میں موجود بہترین نظامت کار کے قطع نظر بزم مو سیقی کی نظامت کے لئےغیر اردو داں خاتون کو کیوں مقرر  کیا گیا ؟ اردو داں نو جوان نظامت کار کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا ؟ کسی بھی تقریب کی کامیابی کا انحصار نظامت پر ہی ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ غالب کا دم بھرنے والے حضرات ہی مرزا غالب کو مٹانے کی تگ و دو پر عمل پیرا ہیں۔ سیکرٹری  نے غالب اکیڈمی  پر ضرب کاری  کرتے ہوئے کہا کہ  غالب اکیڈمی تو ایک بہت چھو ٹا سا ادارہ ہے لیکن دیگر بڑ ے بڑے ادارے اردو زبان میں بہترین کام کر رہے ہیں
راقم الحروف کے نقطہ نظر سے مرد مجاہد،  ملک و قوم کی فکر کرنے والے دور اندیش حکیم عبد الحمید مرحوم اردو زبان و ادب سے خاص رغبت رکھتے تھے ۔ یہیی وجہ ہے کی نا گفتہ بہہ حالات میں  بھی مرزا غالب کو زندہ رکھنے کے لئے مرحوم عبد الحمید نے نہ صرف غالب کی آخرت کے لئے آراضی خریدی بلکہ ان کے شعری و نثری سرمایہ کو یکجا کرنے کے لئے اکیڈمی کے قیام کو ملحوظ خاطر رکھا۔ مرحوم حکیم عبد الحمید کی بدولت ہی کلام غالب کی چہار سو د ھوم ہے ۔ اردو زبان و ادب کی ترقی میں غالب اکیڈمی نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ نیز حکومت ہند بھی  اردو زبان وادب کی ترقی کے لئے کوشاں ہے ۔یہ دیگر بات ہے کہ اردو کے ٹھیکیدار ہی اردو زبان کی ترقی میں حائل ہیں۔ حالا ت حا ضر کے تناظر میں دیکھا جائے تو اکیڈمی  کے ذمے دار ان کا فرض ہے کہ نئ نسل کو مو قعہ دیا جانا چاہیے ۔ غالب اکیڈمی کے کتب خانہ کی حالت زار پر توجہ دینی چا ہے ۔  غالب میوزیم کو سنوارا جائے نیز اکیڈمی میں ایک پراجیکٹر کا انتظام ہو تاکہ بیرون ممالک کے شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا جاسکے ۔ نوکری سے سبکدوش ہو چکے بزرگ اسا تذ ہ کی جگہ اردو کے بے روزگار طلباء و طالبات کو مقالہ کے لئے مدعو کرنا چاہیے۔  آ ڈیٹوریم میں پنکھے اور برقی بلبوں کو جدید طریقہ سے تبدیل کر نا اشد ضروری ہے ۔ سامعین محفل کے لئے کرسیوں  میں ردو بدل اہم ترین مدعا ہے ۔ غالب کے یوم وفات اور یوم پیدائش کی تقریبات  میں اسکول کے طلباء و طالبات  کے لئے پروگرام منعقد ہونے چاہیے۔ بزم موسیقی میں طلباء و طالبات  کو  موقع ملنا چاہئے۔ غالب کی شخصیت  پر مضمون  نگاری  کا مقابلہ جاتی پروگرام  ہو نا چاہئے  ۔ کلام غالب  پر بیت بازی کا مقابلہ ہونا چاہیے   کالج  کے طلباء و طالبات  کا ایک تقریری  مقابلہ  ہو نا چاہیے  خطاطی کے ذریعہ غالب کی شخصیت کو اجاگر کرنا چاہیے۔ تمام مقابلہ جاتی پروگرام  میں طلباء و طالبات کو نقد انعامات سے سر فراز کرنا چاہئیے تا کہ مرزا غالب کی عظمت کو بلندی پر پہنچا یا جا سکے۔ آئیے اب اپنے مسایہ ملک پاکستان کا رخ کرتے ہیں  جہاں بیشتر آن لائن ادبی گروپ میں مرزا غالب کا یوم ولادت بڑی دھوم دھام سے منایا گیا ۔اس سلسلہ میں  سپیر  ریئر  کالج  سیالکوٹ  کے پروفیسر ، شاعر  و ادیب اوروابستگان غنچہ اردو ادب  گروپ کے بانی پروفیسر  آفتاب شاہ کے خیال میں احساس و جذبہ  کی گہرائیوں میں ڈوب کر جب عقل کی پیچیدہ راہ پر قلم چلتا ہے تو کلام  غالب کی تخلیق ہو تی ہے ۔ پروفیسر آفتاب کو غالب سے اس عمر میں محبت   ہوئی جب پہلا پیار جوان ہو تا ہے لہذا پروفیسر شاہ مرزا غالب کو طا یا ابو کے نام سے پکارتے ہیں۔ کراچی کی معروف شاعرہ انجم عثمان کا خیال ہے کہ غالب تا حال اردو شاعری کا بلا مبالغہ سب سے بڑا شاعر ہے ۔لندن میں  مقیم پاکستانی نژاد باکمال شاعرہ ڈاکٹر فرزانہ فرحت کے مطابق غالب کے اشعار میں  وسعت، نرم و لطیف احساسات و جذبات،  فلسفہ زندگی ، حلاوت و شگفتگی عمدہ انداز میں پیش کی گئ ہے ۔  کراچی کے مشہور دانشور و مفکر سلیم خان نے  خطوط غالب پر گفت و شنید کے دوران کہا کہ غالب کے خطوط اردو نثر کا بہترین شاہکار ہیں تمام  خطوط  میں  ان کی سوانح عمری کے ساتھ ساتھ تاریخ ہند کو بھی خوبصورت انداز میں  قلم بند کیا گیا ہے ۔ اٹلی میں رہائش پذیر پاکستانی شاعر نواز گلیا نہ کے نقطہ نظر سے غالب کی شاعری میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر طبع آزمائی کی  گئ ہے۔  غالب کے کلام میں کہیں  فارسی کے با کمال شاعر کی  جھلک ملتی ہے تو کہیں غم دوراں اور غم جاںاں کی عکاسی کی گئ ہے ۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن  گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    سری لنکائی پارلیمانی وفد نے جل جیون مشن اور سوَچھ بھارت مشن گرامین کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کا دورہ کیا

    مارچ 27, 2026
    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے  خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر جی 7 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے لیے فرانس جائیں گے

    مارچ 27, 2026
    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    خواتین کے ریزرویشن ایکٹ میں ترمیم کی جلدی کیوں؟

    مارچ 27, 2026
    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی  نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    یوپی میں ایل پی جی کا مطلب ’لاپتہ گیس‘، بی جے پی نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کر دیا:اکھلیش یادو

    مارچ 27, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist