اسلام کی آمد کے وقت دنیا کے اندر حلال وحرام کے تعلق سے بے راہ روی موجود تھی جس کو دور کرنے اور حلت وحرمت کی بنیادکھڑی کرنے کے لیے اصول وضوابط مقرر کیے گئے، جس کی بدولت معاشرے سے کج روی کا خاتمہ اور اس کی جگہ اعتدال وتوازن کا معیار قائم ہوا، اور انحراف کی راہ اختیار کرنے والے اور افراط وتفریط میں مبتلا قوموں کے درمیان امت مسلمہ وامت وسط یعنی اعتدال کی راہ پر قائم رہنے والی امت قرار پائی جسے اللہ تعالیٰ نے خیر امت کے لقب سے نوازا (کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ )[آل عمران:۱۱۰]حلت وحرمت سے تعلق اسلام نے بنیادی ضابطہ یہ مقرر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام چیزیں اصلاً مباح ہیں یہاں تک کہ کسی چیز کی حرمت یا ممانعت کے بارے میں کوئی صحیح اور صریح نص وارد نہ ہو جائے، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں محرمات کا دائرہ بہت تنگ جبکہ حلال کا دائرہ بہت وسیع ہے، اقوال وافعال کی صورت میں بندوں سے صادر ہونے والے تصرفات دو طرح کے ہوتے ہیں، عبادات اور عادات۔ ان دونوں میں سے عادات کی ضرورت دنیوی معاملات میں ہوتی ہے جو اصلا غیر ممنوع ہیں، لہٰذا اس قبیل کی صرف وہ چیز یں ممنوع ہوں گی جنہیں اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ یہ ایک جامعہ اصول ہے، جس کے تحت بیع، ہبہ اور اجارہ وغیرہ عادات کے قبیل سے ہیں، جن کی ضرورت سے انسان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطری طور پرایک دوسرے کا ضرورت مند اور محتاج بنایا ۔ تاکہ لوگ اپنی ضروریات زندگی کا تبادلہ بیع وشراء کے ذریعے کرتے ہوئے اپنی زندگی کو استوار اور معاملات کو خوشگوار بناسکیں۔اسلام نے تجارت کے ذریعے مال کو نفع بخش بنانے کو جائز قرار دیا ، لیکن سود کے ذریعے اسے نفع بخش بنانے کے ہر طریقے کو ناجائز قرار دیا جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔ ( وَأَحَلَّ اللّہُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا)[البقرۃ: ۲۷۵)قرآن مجید میں سود کے لیے ’’ربو‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مادہ ’’رب و‘‘ ہے اور اس کے معنی میں اضافہ ،زیادتی، نمو، بڑھوتری اور چڑھائو کا اعتبار کیا گیاہے، اس مادہ سے قرآن مجید میں جہاں جہاں مشتقات آئے ہیں سب جگہ زیادہ علو اور نمو کا مفہوم پایا جاتا ہے۔اصطلاح کے اندر قرض میں دیئے ہوئے رأس المال پر جو زائد رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعیین کے ساتھ لی جائے تو وہ سود ہے۔ (المغنی لابن قدامہ:۴؍۳)اس اصطلاحی تعریف کے تین اجزاء ہیں: ۱۔ راس المال پر اضافہ۲۔ مدت کے لحاظ سے اضافے کی تعیین۳۔ معاملہ میں اضافہ کا مشروط ہونا، اِن تینوں اجزاء ترکیبی سے سود بنتا ہے۔
انسانوں پر اللہ کا یہ عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنی مخلوق پر سود جیسی لعنت کو حرام قرار دیا اور سود کو ترک نہ کرنے والوں سے اعلانِ جنگ کا حکم صادر کردیا(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَذَرُواْ مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ ) [البقرۃ: ۲۷۸-۲۷۹)
سود کھانے والے اور کاتب وشاہد وغیرہ پر لعنت بھیجی گئی ، اور ایسی وعید کسی بھی کبیرہ گناہ کے لیے وارد نہیں ہوئی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سود اکبر کبائر ہے، سود کو حرام قرار دیتے ہوئے صرف اس کی قباحت پر اکتفا نہیں کیا گیابلکہ اس کے بدلے اس سے بہتر چیز کو جائز قرار دیا جو بیع (خرید وفروخت) کہلاتی ہے، اسی طرح زنا کو حرام قراردیا گیا تو نکاح کو نہ صرف مباح کیا بلکہ اس کی ترغیب دلائی۔
اسلام نے تجارت کے ذریعے مال کو نفع بخش بنانا جائز قرار دیا، لیکن سود کے ذریعے مال کو نفع بخش بنانے کے ہر طریقے کو ختم کردیا، چنانچہ سود کی ہر مقدار تھوڑی ہو یا یزادہ حرام قرار دی گئی ہے، چونکہ یہ سماج کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
سود کی حرمت بتدریج وارد ہوئی ہے ، سب سے پہلے مسلمانوں کو ذہنی طور پر اسے ترک کرنے کو کہا گیا، فرمان باری ہے۔ (وَمَا آتَیْْتُم مِّن رِّباً لِّیَرْبُوَ فِیْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ )[روم: ۳۹] یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی ۔اس کے بعد مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد سورہ آل عمران کی یہ آیت (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃً وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ)[آل عمران: ۱۳۰] نازل ہوئی ۔ پھر سود کھانے والوں کو آسیب زدہ اور مخبوط الحواس پاگلوں جیسی باتیں کرنے والا قرار دیا گیا۔ (الَّذِیْنَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إِلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْْطَانُ مِنَ الْمَسِّ )[البقرۃ : ۲۷۵] پھر سود کو ترک نہ کرنے والوں سے اعلان جنگ کا حکم صادر کردیا گیا۔(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَذَرُواْ مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ )[البقرۃ: ۲۷۹-۲۸۰] اس آیت کے نزول کے بعد رسو ل اللہﷺ حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور عرفہ کے دن مسلمانوں کے عظیم اجتماع کو مخاطب کیا جو خطبۂ حجۃ الوداع سے مشہور ہے، اس خطبے کی ایک شق یہ بھی تھی ، ’’وربا الجاہلیۃ موضوع کلمہ‘‘ (صحیح مسلم حدیث نمبر۲۲۱۲)
سنن ابن ماجہ میں ابوہریرہ رضی اللہ کی روایت ہے ’’الربوا سبعون جزء اً أیسرہا أن ینکح الرجل امہ‘‘ (سنن ابن ماجہ ،حدیث نمبر ۲۲۷۱ ) کبیرہ گناہوں میں سے ایک شرک بھی ہے جس کے مرتکب کی بخشائش ممکن نہیں بقیہ جرائم کی سزا کے طور پر حدود وقصاص کے احکام نازل کیے گیے ہیں۔ لیکن جنگ کی تہدید اللہ تعالیٰ نے صرف سود کے متعلق سنایا ہے۔ سود کی شدت حرمت میں انسانوں کے اخلاقی اجتماعی اور اقتصادی مصالح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
سود کی تباہ کاریاں:
مذکورہ باتوں سے سود کی ہولناکی اور خطرناکی کا اندازہ ہوتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا پتہ چلتا ہے جنمیں سے اہم کاذکر ذیل کے سطور میں ہے:
(۱) اللہ تعالیٰ نے مال کو انسانی ضرورت کی تکمیل کے لیے بنایا ہیک، جبکہ سود اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان کا مال بلا عوض حاصل کیا جائے چونکہ ایک روپیہ کو اگر دو روپیہ کے بدلے فرخت کرتا ہے تو اسے بلا عوض ایک روپیہ زیادہ مل جاتا ہے۔
(۲) سود پر بھروسہ کرنے کے نتیجے میں لوگ محنت ومشقت کے ذریعے معاش تلاش کرنے سے جی چرانے لگتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کا مفاد متاثر ہوجایا کرتا ہے۔
(۳) قرض کے لین دین کا جو معروف طریقہ رائج ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور سود کے نتیجے میں انسانی ہمدردی اورا حسان کا خاتمہ ہوجاتا ہے
(۴) سود بخالت ،شقاوت،بے رحمی اور زر پرستی کی صفات کو پیدا کردیتا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان ہمدردی ،غمخواری اور امدادِ باہمی کے تعلقات وجذبات ختم ہوجاتے ہیں۔
(۵)یہ سود انسانی دلوں میں ذاتی مفاد اور خود غرضی کے اوصاف کو پروان چڑھاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے کے اندر دولت کی آزادانہ گردش کی ر اہ میں رکاوٹ کھڑی ہوجاتی ہے۔
(۶) عوام کی دولت سمٹ کر مالدار طبقے کے پاس اکٹھی ہوجاتی ہے، جو معاشرے کے کمزور محتاج انسانوں کی بربادی کا موجب بن جاتا ہے۔
(۷) یہ سود معاشرے کے اندر بدترین خرابیاں پیدا کرتا ہے، سود لینے والا سود دینے والے پر کبھی رحم نہیں کھاتا بلکہ اس کا دل پتھر کے مانند ہوجاتا ہے۔
(۸) جس معاشرے میں سودی کاروبار ہے وہ معاشرہ حقیقی ،مسرت وخوش حالی سے محروم رہتا ہے، ان پر اللہ کی برکتیں کبھی سایہ فگن نہیں ہوتیں، بلکہ وہ معاشرہ ہمیشہ ’’ہل من مزید‘‘کی آگ میں جلتا رہتا ہے، اس معاشرے کا انسان دوسرے کا غمخوارہونے کے بجائے اس کا خون چوسنے اور حق مارنے میں لگا رہتا ہے۔ اور اسی کو وہ اپنی معاشی کا میابی سمجھتا ہے۔
(۹) سودی لین دین اخلاق کو بگاڑتا اور لوگوں کو جرائم کی طرف لے جاتا ہے، جب سود دینے والے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی محنت کا پھل دوسرا لے گیا تو اپنے کام سے اس کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے اس اعتبار سے سودی کاروبار صرف ظلم ہی نہیں بلکہ اس میں اجتماعی معیشت کا بھی بڑا بھاری نقصان ہے۔(۱۰) جس معاشرے میں لوگ ذاتی مفاد کے بغیر کسی کے کام نہ آئیں، اور ایک کی حاجت مندی دوسرے کے لیے نفع اندوزی کا ذریعہ اور موقع بن جائے اور مالداروں کا مفاد غریبوں کے مفاد کی ضد ہوجائے ایسا معاشرہ کبھی مستحکم نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے افراد ہمیشہ انتشار وپراگندگی کی طرف مائل رہیں گے۔
خلاصہ یہ کہ ایک طرف سودی کاروبار خود غرضی ،بخالت ،تنگ دلی،سنگ دلی اور زرپرست جیسے صفات کے زیر اثر جاری رہتا ہے، تودوسری طرف خریدوفروخت ،سخاوت وفیاضی ، ایثار وہمدردی فراخ دلی اعلیٰ ظرفی اور خیر اندیشی جیسے صفات کے زیر اثر واقع ہوتا ہے۔











