سماجوادی پارٹی ، راشٹریہ لوک دل اور کانگریس کوئی بھی فی الحال کچھ بھی بات کرنے سے کر رہا ہے انکار،بھارت جوڑو نیائے یاترا سے پھر انڈیا بلاک کا تنازعہ آیا سامنے
کیا اتر پردیش میں انڈیا اتحاد ہو پائے گا
کیا کانگریس یوپی میں مایاوتی سے چاہتی ہے اتحاد
اکھلیش یادو نے مشورہ کے بغیر سیٹوں کا اعلان کیوں کیا
بھارت جوڑو نیائے یاترا مل کر کیوں نہیں ہو رہی
کیا کانگریس کو مل پائیں گی لوک سبھا کی 15؍سیٹیں
نئ دہلی :عام انتخابات 2024؍کی تاریخوں کا اعلان جاری مہینے کے آخر میں یا مارچ کے شروع میں ہو سکتا ہے۔ بی جے پی ایک بار پھر حکومت سازی کے لیے پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ اجودھیا میں عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کے بعد بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں اور اس نے اب کی بار چار سو کے پار کا نعرہ دیا ہے ۔وہ جوڑ توڑ کی سیاست میں بھی سرگرم ہے لیکن انڈیا اتحاد کی حالت کافی خراب نظر آ رہی ہے ۔ بہار میں جے ڈی یو کے قومی صدر اور وزیر اعلی نتیش کمار کے انڈیا اتحاد چھوڑنے کے بعد سے اس کے وجود پر ہی سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے تاہم اتر پردیش میں اب بھی کچھ امید نظر آ رہی ہے لیکن کانگریس کے رویہ سے یہاں بھی معاملات خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخوں کا اعلان عنقریب ہونے والا ہے لیکن ابھی تک انڈیا اتحاد کی جانب سے سیٹوں کی تقسیم نہیں ہو سکی کہ کون کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑے گا ۔ اس سلسلہ میں جب ہمارا سماج نے کانگریس ، سماجوادی پارٹی اور آر ایل ڈی کے لیڈران سے بات کرنے کی کوشش کی تو کسی نے اس پر بات نہیں کیا۔گویا سب نے خاموشی اختیار کر رکھ ہے البتہ اب جبکہ بھارت جوڑو نیائے یاترا اتر پردیش میں داخل ہونے والی ہے تو ایک بار پھر سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تنازعہ سامنے آ گیا ہے ۔ بہار میں یاترا داخل ہونے سے پہلے ہنگامہ ہوا تھا اور اسی طرح بنگال میں بھی ہوا تھا اور اب یوپی کی حالت بھی وہی ہے جس سے انڈیا اتحاد پر خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی اتر پردیش اکھلیش یادو سے جب سوال کیا گیا کہ کیا آپ بھارت جوڑو نیائے یاترا میں شامل ہوں گے تو انھوں نے کہا کہ بڑے بڑے پروگراموں میں ہمیں نہیں مدعو کیا جاتا ،اس میں بھی شور مچانے پر کیا گیا ۔ گویا اکھلیش یادو نے واضح کر دیا کہ وہ اس یاترا میں شامل نہیں ہوں گے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اکھلیش یادو نے یوپی کی کل 80؍سیٹوں میں سے 11؍سیٹیں کانگریس کو دیے جانے کا اعلان کیا تھا لیکن کانگریس نے اس کو قبول نہیں کیا ۔ کانگریس قریب 15؍سیٹوں کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ اسی طرح آ رایل ڈی کا بھی معاملہ ہے ۔ یہی نہیں بلکہ کانگریس کی نظر اب بھی بی ایس پی پر مرکوز ہے ۔گزشتہ دنوں کانگریس کے ریاستی صدراجے رائے اورانچارج اویناش پانڈے نے ریاستی دفترمیں میٹنگ لی اورکارکنان کوسماجوادی پارٹی کے دباؤ میں نہ آنے کی نصیحت کی۔اویناش پانڈے کے اترپردیش دورے کے دوران انہوں نے دفترپرکانگریس کے لیڈران سے سماجوادی پارٹی سے الائنس کے موضوع میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں انھوں نے کانگریس لیڈران کی رائے بھی معلوم کی۔ اویناش پانڈے نے کانگریس کی طرف سے سبھی سیٹوں کے لئے بنائے گئے آبزرورسے ممکنہ امیدواروں کے نام بھی مانگے۔ اس اہم میٹنگ کے بعد یوپی میں کانگریس پارٹی کے اکیلے لڑنے کی قیاس آرائیاں بھی ہونے لگی ہیں۔اویناش پانڈے نے کارکنان کے درمیان کہا کہ سماجوادی پارٹی نے گٹھ بندھن کا دھرم یعنی الائنس کے ضوابط پرعمل نہیں کیا۔ سماجوادی پارٹی نے 16 سیٹوں پر لوک سبھا امیدواروں کا اعلان کرکے اتحاد کے اصولوں پر عمل نہیں کیا پھر بھی ہم سبھی باتوں پرغوروخوض کرنے اور مثبت نظریے سے آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں۔












