سوشل میڈیا پر لکھا میں اتر پردیش پہنچنے کے لیے ’بھارت جوڑو نیا ئےیاترا‘ کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی لیکن بیماری کی وجہ سے مجھے آج ہی اسپتال میں داخل ہونا پڑا،راہل کو دی مبارکباد
نئی دہلی :عام انتخابات قریب ہیں لیکن کانگریس کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔ایک طرف جہاں بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران انڈیا اتحاد بکھر گیا وہیں دوسری جانب کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی ناراض نظر آ رہی ہیں ۔ بھارت جوڑو نیائے یاترا میں ان کی شرکت کا نہ ہونا کئی سوال کھڑے کر رہا ہے جبکہ اس معاملہ میں کانگریس کے سابق لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم پہلے ہی سوال کھڑے کر چکے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھا یا تھا کہ کیا جنرل سکریٹری وتھ آوٹ پورٹ فولیو ہوتا ہے ؟ پرینکا گاندھی کو ذمہ داری کیوں نہیں دی گئی ؟ پرینکا گاندھی کو وزیر اعظم کا امیدوار کیوں نہیں بنایا گیا ؟ رپورٹ یہ ہے کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائےیاترا جمعہ کو اتر پردیش پہنچ گئی لیکن پرینکا گاندھی نہیں پہنچی ۔ اس پروگرام میںان کی شرکت کا امکان تھالیکن وہ نہیں پہنچ سکیں ۔اس کی وجہ سے چہ می گوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ اب اس معاملے میں پرینکا گاندھی کا رخ سامنے آیا ہے۔ درحقیقت پہلے ہی یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یوپی کے چندولی میں بھارت جوڑو یاترا کے داخل ہونے پر پرینکا گاندھی بھی موجود ہوں گی۔ وارانسی میں پرینکا اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ جب وہ وارانسی نہیں پہنچی تو طرح طرح کے چرچے ہونے لگے۔ اب انہوں نے اپنی بیماری کا حوالہ دے کر تمام بحثوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیماری کی وجہ سے انہیں اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔واضح رہے کہ پرینکا گاندھی واڈرا یوپی انتخابات 2022 کے دوران یوپی کی انچارج تھیں۔ انہوں نے کانگریس کو کامیاب کرانے کی حکمت عملی تیار کی تھی ۔ پرینکا نے 40 فیصد سیٹوں پر خواتین کو امیدوار بنانے کا فارمولا دیاتھا۔ تاہم کانگریس کو انتخابات میں اس کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔ پارٹی کو صرف دو سیٹیں ملی ہیں۔ اس دوران ایک بڑی چیز نظر آئی۔ پرینکا گاندھی انتخابی میدان میں اکیلے ہی مہم چلا رہی تھیں۔ راہل گاندھی اس دوران یوپی سے کٹ گئے تھے۔ وہ بہت کم تشہیر کے لیے آئے تھے۔ اب جب یوپی میں راہل گاندھی کی نیائے یاترا آ رہی ہے تو پرینکا اس میں حصہ لیتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بڑا پیغام بھیجا رہا ہے۔اس معاملے میں اب پرینکا گاندھی کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ میں اتر پردیش پہنچنے کے لیے بھارت جوڑو نیا یاترا کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی لیکن بیماری کی وجہ سے مجھے آج ہی اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ جیسے ہی میں بہتر محسوس کروں گی میں یاترا میں شامل ہو جاؤں گی۔ تب تک، میری خواہش ہے کہ چندولی-بنارس پہنچنے والے تمام یاتریوں اور اتر پردیش کے میرے ساتھیوں کو جو پوری تندہی سے یاترا کی تیاری کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے راہل گاندھی کو پیارے بھائی کہہ کر مبارکباد دی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ اس وضاحت کے باوجود اب بھی سیاسی گلیاروں میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔












