نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سلیم شیروانی نے اتوار کو پارٹی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اکھلیش یادو کی قیادت والی پارٹی اپنے مقاصد پر عمل نہیں کر رہی ہے جس کے لیے وہ عوام کے درمیان الیکشن لڑتی ہے۔ انہوں نے اے این آئی کو بتایا کہ میں نے سوچا کہ ہماری پارٹی ان موضوعات اور مسائل پر بالکل بھی عمل نہیں کر رہی ہے جن پر ہم الیکشن لڑ رہے ہیں، تو ہم پارٹی میں کیوں رہیں؟سلیم شیروانی نے مزید کہا کہ ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ راجیہ سبھا کے امیدوار کے نام کے اعلان کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔سلیم نے آنے والے عام انتخابات میں بی جے پی کی زیرقیادت مرکز سے مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے حزب اختلاف کے دھڑے-انڈیا اتحاد پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ انڈیااتحاد پر کوئی سنجیدہ نہیں، جس مقصد کے لیے یہ اتحاد بنایا گیا وہ پورا نہیں ہو رہا۔سماج وادی پارٹی میں انتشار کا دور جاری ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ یوپی کی سماج وادی پارٹی کے اندر انتشار کا دور جاری ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے چند ماہ قبل پارٹی کے کئی سینئر عہدیداروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفوں کی یہ تازہ لہر ایس پی لیڈر سوامی پرساد موریہ کے پارٹی جنرل سکریٹری کے عہدے سے دستبردار ہونے کے بعد آئی ہے۔بدایوں سے پانچ بار کانگریس کے رکن منتخب ہونے والے شیروانی، صحت اور خاندانی بہبود کے سابق مرکزی وزیر مملکت ہیں اور انہوں نے امور خارجہ کے وزیر مملکت کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ سلیم شیروانی بابری مسجد کے انہدام کے بعد کانگریس پارٹی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ تاہم، وہ 2009 میں ایس پی چھوڑ کر کانگریس میں واپس چلے گئے۔ جب انہیں بدایوں سے مبینہ طور پر ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا گیاتو وہ پھر پارٹی چھوڑ دی تھی ۔دریں اثناءپتا چلا ہے کہ سلیم شروانی کافی عرصہ سے مسلمانوں پر ہورہے ظلم و زیادتی کے خلاف اکھلیش یادو خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے، اس بات سے بھی سلیم شروانی ناراض تھے۔ ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور وہ حد سماجوادی پارٹی نے پار کر دی ہے ۔ مسلمانوں پر مسلسل زیادتی ہوتی رہی اور اکھلیش یادو صرف ووٹ حاصل کرتے رہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انگلی پکڑ کر اکھلیش یادو کو سیاست میں انہوں نے ہی سیاست میں شمولیت اختیار کرائی تھی۔ سلیم شروانی کے ساتھ ان کے چاہنے والوں کی آج بھی میٹنگ ہوئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ حالانکہ اگلے قدم پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔












