(سید مجاہد حسین)
گجرات میں کچھ دنوں قبل پیش آئے موربی پل حادثہ کے بعد اگرچہ حکومت پر کوئی جوں نہ رینگی ہو اور اس کی جانب سے اس معاملے میں معمولی معاضہ کے اعلان کے ساتھ خامیوں کو چھپانے یا لیپاپوتی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہوں لیکن عدالت کی گرفت سے اب وہ اپنی گردن نہیں بچا پارہی ہے ۔ عدالت میں اس کی لتاڑ لگائی جا رہی ہے اور وہ سختی کے ساتھ پیش آرہی ہے ۔لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ گجرات حکومت نے اپنے ناک کان اور منہ بند کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور کچھ اگلنے ہی تیار نہیں ہے! ۔ ہائی کورٹ اس پر سخت موقف اپنائے ہے اور اس نے گجرات حکومت پر سوالات کی بوچھاڑ کر کے اس کی مشکلیں بڑھا دی ہیں! ہائی کورٹ کی ناراضگی بجا ہے ،بلکہ یہ اس کے حکم کی توہین ہی سمجھی جائے یا کچھ اور !کہ اس کے حکم کے باوجود گجرات حکومت کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی ہے بلکہ اس نے ہائی کورٹ کے دو نوٹس کو نظر انداز کر دیا اور ایم ایم سی اسٹیس رپورٹ داخل نہیں کی! ۔ ہائی کورٹ نے اس تعلق سے بدھ کو سختی سے کہا ہے کہ ’آپ اسمارٹ طریقے سے کام کر رہے تھے، اب آپ معاملے کو ہلکے میں لے رہے ہیں۔ اس لیے یا تو آج شام تک اپنا جواب داخل کیجیے، یا ایک لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کیجیے‘۔عدالت کی گجرات حکومت کی گوشمالی اس معاملے میں کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوئی ہے بلکہ اس سے قبل جب یہ معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو اس وقت بھی اس کا رویہ گجرات حکومت کے خلاف کافی سخت تھا۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ موربی حادثہ پر ریاستی حکومت کے لئے بچ نکل کر بھاگنے کے راستے اب بند ہوگئے ہیں ،جس طرح سے وہ اس پر لیپا پوتی کر کے کام چلا رہی تھی اور پورے معاملے میں جونئیر عہدیداروں کو ڈھال بنا کر بڑے افسروں کی گردن بچانے کا کام کر رہی تھی ،یہ کھیل زیادہ دن لوگوں کے سوالات اور غیر جانبدار میڈیا کی نگاہ سے بچ نہیں سکا ۔نتیجتا اب عدالت کو از خود نوٹس لیکر اس پر غور کرنا پڑاہے۔
بلاشبہ گجرات انتظامیہ کی جانب سے جس طرح سیاس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور تمام غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ہوئیں وہ شاید اب زیادہ دن نہیں ٹک پائیں گی ۔اور قصور واروں کو سزا دئے جانے کا راستہ ہموار ہوگا ۔حالانکہ ابھی اس میں کچھ وقت لگے گا ،لیکن امید ہے کہ عدالت کا انصاف متاثرین کے درد کا درماں ثابت ہوگا ۔ عدالت نے اس معاملے پر کل سماعت کرتے ہوئے جس طرح سے گجرات انتظامیہ کو لتاڑ لگائی ہے اوراس میں روز اول سے ہونے والی مبینہ گھپلے بازی اور دھاندلیوں پر انتظامیہ سے سوالا ت کئے ہیں وہ اپنے آپ میں کافی اہم ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے نہ صرف پل کی مرمت کا ٹھیکہ دینے کے طریقہ پر تنقید اور تلخ تبصرے کئے ہیں وہ کافی معنے رکھتے ہیں ۔ چیف جسٹس اروند کمار نے ریاست کے اعلیٰ بیوروکریٹ اور چیف سکریٹری سے سب سے پہلے یہی پوچھا کہ ’’پبلک پل کی مرمت کے کام کا ٹینڈر کیوں نہیں نکالا گیا؟ بولیاں کیوں نہیں بلائی گئیں؟اور اتنے اہم کام کا معاہدہ صرف ڈیڑھ صفحات میں کیسے مکمل ہوا؟ کیا اس پل کا ٹھیکہ اجنتا کمپنی کو بغیر کسی ٹینڈر کے دے دیا گیا؟‘‘۔خیال رہے کہ اس معاملہ کا عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے 6 محکموں سے جواب طلب کیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ پل کی مرمت کے لئے موربی میونسپلٹی نے اوریوا گروپ کو 15 سال کا معاہدہ دیا تھا، جو گھڑیوں کے اجنتا برانڈ کیلئے مشہور ہے۔برطانوی دور میں تعمیر شدہ پل کے گرنے سے 130 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اکتوبر کے اواخر میں پولس نے 9 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں موربی پل کا انتظام کرنے والے اوریوا گروپ کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا’’جواب دہندگان ایک اور دو (چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری) اگلے پیر تک اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں ‘‘۔
بہر کیف ، عدالت کے دخل کے بعد اب لوگوں کو انصاف کا امکان نظر آرہا ہے لیکن سر دست جو سوال منہ پھاڑے کھڑے ہیں ان کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے !۔سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں بڑے افسروں سے کوئی پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی یا ان کے نام ایف آئی آر میں کیوں شامل نہیں کئے گئے ؟ نگر پالیکا کے چیف سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا گیا؟کیا ادھوری شکایت سے اس طرح سے متاثرین کو کوئی انصاف مل پائے گا ،کیا اس سے بڑی مچھلیوں کو بھاگنے اور بچ نکلنے کا موقع نہیں مل جائے گا؟اس لئے تمام پہلوئوں کی نہ صرف جانچ ہو بلکہ جن اصل قصورواروں کو بچایا جارہا ہے انہیں بھی گرفتار کیا جانا زیادہ ضروری ہے ۔موربی پل حادثہ کے زخم آسانی سے مندمل ہونے والے نہیں ہیں ،وہ اپنے آپ میں لاپروائی تھی ،جس میں لوگوں کی جانوں سے کھلواڑ ہوا ۔افسروں نے ایک ڈیڑھ سو سالہ پرانے پل کے رکھ رکھائو میںوہ سنجیدگی نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی بلکہ نچلے درجہ کے عملے کو حادثہ کے لئے ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا! ۔عدالت نے گجرات سرکار کو جس طرح سے پھٹکار لگائی ہے اوراس کا یہ پوچھنا کہ نگر پالیکا کے چیف کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی ، بڑی دھاندلیوں اور کرپشن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی لگتا ہے کہ بڑی مچھلیوں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ گجرات ہائی کورٹ نے موربی حادثہ کے بعد از خود نوٹس لیتے ہوئے گجرات حکومت، موربی میونسپل کارپوریشن سمیت تمام محکموں سے جواب مانگا تھا۔ منگل کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اروند کمار اور جسٹس آشوتوش جے شاستری نے 150 سال پرانے پل کے رکھ رکھائو کیلئے جس طرح سے ٹھیکہ دیا گیا، اس پر سیدھا جواب مانگا تھا۔ایک دن پہلے ہی عدالت نے سخت لہجے میں یہ بھی کہا تھا کہ موربی میونسپل کارپوریشن ہوشیار بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہائی کورٹ نے پوچھا تھا کہ 2016 میں ٹنڈر ختم ہونے کے بعد بھی برج کا ٹنڈر کیوں جاری نہیں کیا گیا؟چیف جسٹس اروند کمار نے سماعت کے دوران ریاست کے سرکردہ نوکرشاہ اور چیف سکریٹری سے کچھ تلخ سوالات کیے تھے۔ پوچھا گیا تھا کہ پبلک پل کی مرمت کے کام کا ٹنڈر کیوں نہیں نکالا گیا؟ بولیاں کیوں طلب نہیں کی گئیں؟ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی سوال کیا تھا کہ اتنے اہم کام کے لیے ایک سمجھوتہ محض ڈیڑھ صفحہ میں کیسے پورا ہو گیا؟ بغیر کسی ٹینڈر کے ٹھیکہ کیسے دے دیا گیا ،اور اس میں بے ضابطگی کیسے پائی گئی ؟
بہر کیف ،گجرات ہائی کورٹ کا قدم لائق تحسین ہے ، قوی امید کی جارہی ہے کہ اس معاملے میں مجرموں کی شناخت کر کے انہیں جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کامیاب ہوگی اور متاثرین کو انصاف ملے گا۔












