• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

آج کے حالات اور ہماری ذمے داریاں

عبدالعزیز

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 25, 2024
0 0
A A
Share on FacebookShare on Twitter

حالات بدلتے رہتے ہیں، ترجیحات اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو حالات کی مناسبت سے بدلتی نہیں ہیں، مثلاً قرآن مجید کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان پر تین ذمے داریاں ہمیشہ رہتی ہیں اور ان تین ذمہ داریوں کو پوری کرنا ان کے فرائض میں داخل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمنوا کو انفسکم اہلیکم ناراً و قودہاالناس والحجارۃ۔ (سورہ تحریم: آیت6) … ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمے داری صرف اپنی ذات کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت میں جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی اپنی حد استطاعت تک ایسی تعلیم اور تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں۔ اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جارہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو اس سے روکنے کی کوشش کرے، اس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوش حال ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہئے کہ وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔
پہلی ذمہ داری اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی دی گئی ہے۔ دوسری بڑی ذمے داری اپنے اہل و عیال کو جہنم کے ایندھن سے بچانے کی ذمہ داری ہے۔ عام طور پر والدین حالات سے اور دیگر خاندانوں سے متاثر ہوکر اپنے بچوں کے لئے جدید تعلیم کے لئے فکرمند ہوتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک ماں باپ جو وراثت میں سب سے بڑی اور اہم چیز اپنے بچوں کو دیتے ہیں وہ حسن ادب ہے۔ یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس پر کافی باتیں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر قوم و مذہب میں بچے کی پرورش پیدائش کے بعد شروع ہوتی ہے لیکن اسلام میں بچے کی پرورش پیدائش سے پہلے ہوتی ہے۔ یہاں موقع نہیں ہے کہ تفصیل سے بچوں کی تعلیم و تربیت پر روشنی ڈالی جائے۔ میرا تجربہ ہے کہ کئی مذاہب کے سربراہ اپنے اپنے مذاہب کے مطابق بچوں کی تعلیم و تربیت کی تفصیل بیان کرتے ہیں تو اسلام کی طرف سے جو تفصیل بیان کی جاتی ہے اس سے سارے مذاہب کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ایک مجلس میں خاکسار کو موقع ملا تھا جہاں ہر مذہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کی روشنی میں بچوں کی تعلیم اور تربیت کا خاکہ پیش کر رہے تھے۔ خاکسار نے بھی پیش کیا۔ یہ جلسہ ’بھارتیہ بھاشا پریشد‘ کلکتہ میں تھا۔ سکھ بھائیوں اور بہنوں کا جلسہ تھا۔ اس میں چنڈی گڑھ کی میئر صاحبہ بھی تشریف لائی تھیں۔ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کی بہن صاحبہ بھی شریک تھیں۔ جلسے کے اختتام کے بعد بیشترعورتوں نے مجھ سے گزارش کی کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اسے ہندی میں ترجمہ کرکے ان کے حوالے کردیں۔کسی اور نمائندے کی طرف شرکاء خواتین نے متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات ہر شعبۂ حیات کے لئے کس قدر اعلیٰ و ارفع ہے۔
ایک مومن کی تیسری ذمہ داری: اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے : کنتم خیر امۃٍ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنہون عن المنکر تؤمنون باللہ۔ ’’اب دنیا میں بہترین جماعت بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔
مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک مومن سب سے پہلے اپنی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کرے اور ایک ایسا صاحب ایمان بنے کہ لوگ اس کے کردار اور گفتار سے متاثر ہوں، اسلام سے قریب آئیں ۔ دوسری کوشش اپنے بال بچوں کی اصلاح اور تعلیم و تربیت کی کرے ۔ بچے گھر کا آئینہ ہوتے ہیں، بچوں کو دیکھ کر گھر کی تہذیب و شائستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
تیسری ذمہ داری ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی بنیاد پر امت مسلمہ کو بہترین امت، بہترین گروہ سے خطاب کیا گیا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ گروہ صرف اپنا اور اپنے بال بچوں کا ہی خیال نہیں کرتا بلکہ اپنے عزیز و اقارب، آس پاس رہنے والے سب کا خیال کرتا ہے۔ لوگوں کو اچھائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ جو لوگ لوگوں کو برائی سے نہیں روکتے، اچھائی کی ترغیب و ترہیب نہیں دیتے وہ دراصل امت مسلمہ کے منصب و تقاضے کو پورے نہیں کرتے۔ اور جب پورے نہیں کرتے تو انھیں خود سوچنا چاہئے کہ کیا اس خیر امت میں شامل ہیں۔ اس لئے کہ خیر امت میں شامل ہونے کے لئے امر بالمعروف نہی عن المنکرکے فرائض کی انجام دہی شرط ہے۔
حالاتِ حاضرہ اور ہماری ذمہ داریاں: جہاں تک حالاتِ حاضرہ کا معاملہ ہے خواہ ملکی ہو یا عالمی ہو بہت حد تک ہم نہ صرف واقف ہیں بلکہ مسلمان ہونے کے ناطے حالاتِ حاضرہ سے، اس کی سنگینی سے، اس کی دشواری سے دوچار ہیں۔ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے قرآن اور حدیث میں اس کی واضح نشاندہی ہے۔ سورہ بقرہ میں یا ایہاالذین اٰمنوا ستعینوا بالصبر والصلوٰۃ (153)سے لے کر اولٓئک ہم المہتدون (157)تک ، ان آیات کا ترجمہ ہے : ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جولوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کاشعور نہیں ہوتا۔ ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ انھیں خوش خبری دے دو کہ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی۔ اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں‘‘۔
قرآن میں ایک جگہ نہیں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں ، مومن بندوں کی آزمائش کی بات کہی ہے۔ اور جو لوگ اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں ان کے لئے اللہ کی طرف سے سچا اور پکا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عنایات کی بارش ہوگی اور اللہ کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوگی۔ ایسے ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے راہ راست پر قرار دیا ہے۔ فلاح پانے والوں میں شامل کیا ہے۔
پیغمبر ہوں یا پیغمبر کے پیروکار ہوں کبھی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا ہے کہ حالات سازگار ہیں اور ان حالات میں تم اللہ کی طرف دنیا والوں کو بلاؤ ، اللہ کی طرف دعوت دو، اسلام سے روشناس کراؤ۔ علامہ اقبالؒ نے کہا ہے ؎
اگرچہ بت ہوں جماعت کی آستینوں میں – تمہیں حکم ہے اذاں لا الٰہ الا اللہ
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند- بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی – ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
Circle of Influence and Circle of Consern:
ہر آدمی کا Circle of Consern (دائرۂ تشویش) اور Circle of Influence and (دائرۂ اثر و رسوخ) ہوتا ہے۔ دنیا کے حالات پر تشویش ظاہر کرنا، تبصرہ آرائی کرنا فطری چیز ہے، لیکن یہ ہمارے دائرۂ اختیار سے باہر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دائرۂ اثر و رسوخ ہمارے اختیار سے باہر نہیں ہوتا ہے۔ ہم اگر اپنے گھر میں ہیں تو اپنا دائرۂ اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔ گھر کو جنت نما بناسکتے ہیں۔ اسی طرح جس ماحول میں ہم رہتے ہیں اس ماحول کے ملنے جلنے والوں سے اپنے اثر و رسوخ سے ان کے حالات بدل سکتے ہیں۔ ان کے فاسد نظریات اور خیالات میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ان کو اپنا ہمنوا بناسکتے ہیں۔ ان کی غلط فہمیاں دور کرسکتے ہیں۔ بدگمانیوں کا ازالہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک خاص فرقہ پرست جماعت جس کو اقتدار کی طاقت اور دولت ملی ہوئی ہے اور میڈیا کی طاقت بھی اس کے ہاتھ میں ہے بغیر کسی شرم و حیا کے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں، نفرت پھیلانے میں حد درجہ رول ادا کررہی ہے۔ اس کی کاٹ کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنا دائرۂ اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کریں۔ تحریری طور پر، تقریری طور پر، بات چیت اور مکالمے کے ذریعے ان سے رابطہ قائم کرکے ، ان کو دعوت و تقریب میں شریک کرکے بہت حد تک ان کے اندر ہم نرمی لاسکتے ہیں۔
سورہ حٓمٓ السجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور اے نبیؐ،… نیکی اور بدی یکساں نہیں ہے، تم بدی کو اس نیکی سے دفاع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیںاور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں‘‘۔ (آیت 34-35)

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    مارچ 28, 2026
    ایک ہولناک عالمی مذاق

    ایک ہولناک عالمی مذاق

    مارچ 28, 2026
    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    مارچ 28, 2026
    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں  بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مارچ 28, 2026
    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    مارچ 28, 2026
    ایک ہولناک عالمی مذاق

    ایک ہولناک عالمی مذاق

    مارچ 28, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist