نئی دہلی، پریس ریلیز،ہمارا سماج:ہر سال 28 فروری کو قومی یوم سائنس منایا جاتا ہے جس کو ہندوستان کے پہلے سائنس دان کے ذریعہ ’رمن اثر‘ کی دریافت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رمن نے 1930 میں ’طبعیات‘ کے شعبے میں نوبل انعام جیتا تھا۔ اس سال کے قومی یوم سائنس کا تھیم *”وکست بھارت کے لیے دیسی ٹیکنالوجیز* مقرر کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ، MoS دفتر وزیر اعظم، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور فلکیات، حکومت ہند نے اعلان کیا۔ جامعہ ہمدرد میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق موضوع پر ممتاز شخصیات کو خطاب کے لیے مدعو کرکے قومی یوم سائنس منانے کی روایت رہی ہے۔ اس سال کا پروگرام 28 فروری 2024 کو یونیورسیٹی کے کنونشن ہال میں منایا گیا۔ نیشنل سائنس ڈے پروگرام کے مہمان خصوصی کے طور پر جناب فیض احمد قدوائی، آئی اے ایس، ایڈیشنل سکریٹری (مارکیٹنگ)، زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت، حکومت ہند اور ڈائریکٹر جنرل، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل مارکیٹنگ (CCS-NIAM) شامل ہوئے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قدیم زمانے سے ہندوستان کی بھرپور سائنسی وراثت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سر سی وی رمن اور دیگر سائنسدانوں مثلاََ ایس این بوس جنکی علم ذرّات کے میدان میں تحقیقات کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے حاضرین کو یہ بھی بتایا کہ موجودہ حکومت سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ جناب قدوائی صاحب نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ فی الحال فزکس اور نیورو سائنس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور سائنس کے بہت سے شعبوں میں خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد کی وجہ سے نظریاتی تبدیلی ہو رہی ہے۔ انہوں نے جامعہ ہمدرد کے بانی جناب حکیم عبدالحمید صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا اور جامعہ ہمدرد کی تعمیر و ترقی میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔مہمان اعزازی ڈاکٹر سری کانتا کے پانی گراہی، ڈائریکٹر جنرل اور ممتاز ریسرچ فیلو، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ (IISD) اور کاربن مائنس انڈیا (CMI)، نئی دہلی نے اپنی قومی یوم سائنس کی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ سائنس کا بہتر استعمال ہی جشن کا حقیقی مفہوم ہے. انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مودی حکومت کے پاس عالمی سطح پر سائنسی قیادت کے لیے پرجوش منصوبہ ہے جیسا کہ ’گگن یان‘ پروجیکٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے محققین پر زور دیا کہ وہ زراعت اور صحت کی دیکھ بھال میں مختص کرنے کے لیے کم لاگت والی ٹیکنالوجیز تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کو سماجی اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار بننا ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زمین پر تمام انسانوں کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اپنے لیکچر میں انہوں نے محققین پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے دوران اخلاقی قدروں کا خیال رکھیں۔ وائس چانسلر جامعہ ہمدرد پروفیسر ایم افشار عالم نے اپنے صدارتی خطبہ میں قومی یوم سائنس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد کو ان کے تحقیقی کارناموں پر مبارکباد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعہ ہمدرد میں ہر سال فیکلٹی ممبران کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اپنے متعلقہ شعبے میں ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں کے طور پر درج ہیں۔ انہوں نے کیمپس میں سائنسی تحقیقات کے کلچر کو پروان چڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پروفیسر عالم نے تمام اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کو ان کی کامیابیوں پر مبارکباد دی۔پروفیسر ایس رئیس الدین، ڈائریکٹر آر اینڈ ڈی سیل نے جامعہ ہمدرد کا تحقیقی پروفائل پیش کیا جس میں تحقیقی ماحولیاتی نظام، درجہ بندی میں اعلیٰ مقام اور تحقیقی اشاعتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، حوالہ جات اور ایچ-انڈیکس کی ضمن میں نمایاں اضافہ شامل ہیں۔فیکلٹی ممبران کی ایک بڑی تعداد کو سال 2023 میں اعلیٰ اثرات کی اشاعتوں، اعلیٰ حوالہ جات، کثیر تحقیقی گرانٹس، ایوارڈز، اعزازات اور دیگر سائنسی کامیابیوں پر مبارکباد دی گئی۔ اس موقع پر جامعہ ہمدرد کے اساتذہ کی 2023 میں تصنیف شدہ/ ترمیم شدہ ایک درجن سے زائد کتابوں کا اجراء بھی کیا گیا- جامعہ ہمدرد کی طرف سے اعلیٰ اثرات اور اعلیٰ درجے کی اشاعتوں کے حامل اساتذہ کو نقد ترغیبی رقم بھی دی جاتی ہے۔












