نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہماراسماج: شعبۂ عربی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ’’عرب دنیا میری نظر میں‘‘ کے موضوع پر توسیعی خطبہ کا انعقادپروفیسر نسیم اختر ندوی صدر شعبۂ عربی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صدارت کیا گیا جس میں نائجیریا، ناروے اور الجیریہ میں ہندوستان کے سفارت خانوں کے سابق سفیر مہیش سچدیوا نے خطیب کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنا خطبہ پیش کیا، اس پروگرام میں شعبہ کے اساتذہ، ریسرش اسکالرز اور طلبہ وطلبات نے شرکت کی۔پروگرام کا آغازبی اے سال دوم شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم عاکف انیس کی تلاوت سے ہو اور اس کے بعد پروگرام کی کوآرڈینٹر ڈاکٹر ہیفا شاکری نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے اس توسیعی خطبہ کے مقرر سابق سفیر مہیش سچدیوا کا تعارف پیش کرتے ہوئے مختلف ملکوں میںان کی سفارتی خدمات کا تذکرہ کیا۔فاضل مقرر نے اپنے خطبہ کے آغاز میںاپنی سفارتی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عربی زبان دمشق میں سیکھی اور عربی ثقافت اور عرب ممالک کی سیاست کا وہیںمطالعہ کیا، موصوف نے عربی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان صرف ۲۲ عرب ملکوں ہی میں نہیں بولی اور سمجھی جاتی ہے بلکہ دوسرے غیر عرب ممالک میں بھی سمجھی اور بولی جاتی ہے جس کے بارے میں انھوں نے عربی زبان میں غیر عرب باشندوںکے ساتھ عربی زبان میں گفتگو کے اپنے تجربات کا تذکرہ کیا، سابق سفیر نے عرب ملکوں کے مابین زبان وثقافت، اور رسم ورواج کے اختلاف پر بھی روشنی ڈالی نیز انھوں نے ہندوستان اور عرب ممالک کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض انگریز سیاحوں کی کتابوں کے حوالہ سے بتایا کہ یہ تعلقات بہت قدیم ہیں اور بعض عرب ملکوں میں ہندوستانی روپیہ بطور کرنسی رائج تھا ، آپ نے آخر میں موجودہ وقت میں ہندوستان اور عرب ممالک کے تعلقات پر بھی گفتگو کی ۔












