نئی دہلی مارچ ،پریس ریلیز،ہمارا سماج ملک کےعازمین حج کو پریشانیوں سے بچانے کےلیے برسوں سے مختلف طریقوں سے جدوجہد کررہی حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے مرکزی اقلیتی فلاح وبہبود وحج وزیر محترمہ اسمرتی ایرانی صاحبہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے عازمین حج کے بڑے مسائل جن سے 2023 میں مالی وجسمانی پریشانیاں لاحق ہوئیں تھیں اسے کسی بھی صورت میں سنجیدگی سے غور کرکے ختم کیاجائے ۔مسٹر اعظمی نے آج یہاں ایک پریس بیان میں محترمہ کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حج 2023 میں حازمین کو ریال دینے کی جو روایت بدلی گئی تھی اس سے ملک کے عازمین حج خاص طور سے دیہی اور قصبہ کے لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اس لیے قدیمی روایت کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ ریال دینے کا نظام واپس کیا جائے جو بہت ہی اچھا تھا کہ عازمین حج کو بینک کےملازمین ایئرپورٹ پر آخری مرحلہ میں انھیں 21 سو ریال کا لفافہ دیتے تھے اس نظام کو پھر سے قائم کیاجائے۔مسٹر اعظمی نے کہا کہ جون 2023 سے ہی اس سلسلے میں وزارت اور انتظام سے جڑی ایجنسیوں کو ہم نے ضروری مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کئی خطوط لکھےتھے محترمہ اسمرتی ایرانی کےذریعہ ۴ مارچ کو وگیان بھون دہلی میں اپنے خطاب کے ذریعہ یہ کہا گیا کہ ہم نے اس بار حج کی تیاری نومبر مہینہ سے ہی شروع کردی ہے یہ قابل ستائش قدم ہے مگر محترمہ کو اور وزارت سے جڑے افسران کو 2023 کی طرح آخری قسط جمع کرنے کےلیے حکم نامہ نہیں جاری کرنا چاہیے بلکہ ہوائی جہاز کا کرایہ 2023 کےمقابل کتنا کم ہوا ہے اس کو بھی ملک کی عوام کےسامنے رکھنا چاہیے یہ خوش آئند بات ہے کہ محترمہ نے جنوری ماہ میں سعودی عرب جدہ اور مدینہ کا دورہ بھی کیاتھا وزیر حج سے میٹنگ بھی ہوئی تھی تو معلم فیس کم کرنے کےلیے برابر مطالبات ہوتے رہےہیں تو اس سلسلے میں محترمہ نے سعودی عرب کے وزیر حج سے معلم فیس کم کرنے کی گذارش کی ہوگی اس سلسلے میں بھی ملک کے عازمین حج کو وزارت کو مطمئن کرنا چاہیے ۔مسٹر اعظمی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ مکہ میں رہائش کے سلسلے میں دو کیٹیگری جو ماضی میں کووڈ کےپہلے ہوا کرتی تھی اسے قائم کرنے کےلیے برابر مطالبات ہوئے ہیں اور اس سلسلےمیں بھی ابھی تک جو پتا چلاہے کہ رہائش لینے کا کام دو ماہ پہلے سے شروع ہے لیکن کس کیٹیگری کے مکان لیے جارہے ہیں اور حج 2023 سےکتنے سستے مکان کم قیمت پر مل رہے ہیں اور یہ چیز بھی محکمہ کی ویب سائٹ پر ہونی چاہیے۔ایک بات قابل توجہ ہے کہ لکھنو سے حج 2023 میں ایک جہاز مدینہ کےلیے روانہ ہوا اور ایئرپورٹ سے ہی حاجیوں کو فرمان جاری ہوا کہ اب انھیں جدہ جانا ہےاس سے حاجیوں کو کئی دقتوںکا سامنا کرنا پڑامسٹر اعظمی نےافسوس کےساتھ کہا کہ اس طرح کی غلطی نہ دہرائی جائے اور مدینہ میں بھی اچھی رہائش کا انتظام کیا جائے اور 2024 عازمین کے لیے آخری قسط جمع کرنے کا بھی اعلان وقت سے کیا جائے تاکہ پیسوں کے انتظام کےلیے انھیں مناسب وقت مل جائے ۔مسٹراعظمی نے وزیر موصوفہ اور وزارت کے ذمہ داران افسران کی اس طرف توجہ دلائی کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے چیفایکز یکیو ٹیو آفیسر کی مستقل تقرری ضروری ہے کیوں کہ وہاں بہت سے مسائل ہوتے ہیں یہ کسی بھی قیمت پہ ایڈیشنل چارج کےذریعہ یہ ذمہ داری اچھی طرح نہیں نبھائی جاسکتی انھوں نےکہا کہ تقریباً 7ماہ سے حج کمیٹی میں اکاونٹ آفیسر بھی نہیں ہیں جن کی تقرری جلد ازجلد ہونی ضروری ہے تاکہ عازمین حج کا کام متاثر نہ ہو انھوں نے امید ظاہر کی کہ ہمارے جو پہلے خطوط اور مشورے انتظامی امور کے ذمہ داروں کو بھیجے گئے ہیں اگر ان پر عملدرآمد کرلیا جائے تو حج 2024 ایک مثالی حج بنے گا جس سے ذمہ داران کو عازمین کی دعائیں بھی ملیں گی اور عالمی سطح پہ حکومت کی شبیہ بھی اچھی ہوگی ۔












