نئی دہلی، 07 مارچ (یو این آئی) صدر دروپدی مرمو نے آج کہا کہ ہندوستانی ثقافت کا ورثہ سنسکرت زبان میں محفوظ ہے اور اس میں دستیاب ثقافتی بیداری کو پھیلانا قوم کی خدمت ہے ۔محترمہ مرمو نے جمعرات کو یہاں سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن میں شرکت کی اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستانی ثقافت کے تئیں فخر کا احساس ہمارے قومی شعور کی بنیاد ہے ۔ اپنے ملک کی بھرپور ثقافت کا ادراک فخر کا احساس بیدار کرتا ہے ۔ ہماری ثقافت کا ورثہ سنسکرت زبان میں محفوظ ہے ۔ لہذا، سنسکرت زبان میں دستیاب ثقافتی بیداری کو پھیلانا قوم کی خدمت ہے ۔محترمہ مرمو نے کہا کہ سنسکرت زبان نے وسیع ملک کے تنوع کو اتحاد کے دھاگے میں باندھا ہے ۔ سنسکرت کے ذخیرہ الفاظ سے بہت سی ہندوستانی زبانیں مضبوط ہوئی ہیں اور وہ زبانیں مختلف خطوں اور ریاستوں میں پھل پھول رہی ہیں۔ یہ نہ صرف ایشور کی زبان ہے بلکہ یہ عام لوگوں کی زبان بھی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ خواتین کی شرکت ا س زبان میں زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے جس میں گارگی، میتری، اپالا اور لوپامدرا جیسی خواتین اسکالرز نے لازوال خدمات انجام دی ہیں۔ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کانووکیشن میں گولڈ میڈل جیتنے والوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً برابر تھی۔ انہوں نے مرکزی سنسکرت یونیورسٹی کی خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کی تعریف کی۔محترمہ مرمو نے کہا کہ سنسکرت زبان میں روحانیت اور اخلاقیات پر ان گنت بہترین کام دستیاب ہیں۔ قدیم زمانے میں آچاریوں کے ذریعہ لوگوں کو دیا جانے والا علم آج بھی اہم ہے اور ہمیشہ مفید رہے گا۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ ان کا عزم یہ ہونا چاہیے کہ وہ سچ بولیں، اخلاق سے پیش آئیں، خود مطالعہ میں غفلت نہ برتیں، فرض سے روگردانی نہ کریں اور اچھے کاموں کا شعور رکھیں۔ ایسا کرنے سے وہ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف کر سکیں گے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں کامیاب ہوں گے ۔












