نئی دہلی، سماج نیوز سروس:یہ خبر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک اردو روزنامہ کے سینئر کمپیوٹر آپریٹر محمداقبال کا ۷؍مارچ کی صبح ممبئی کے ٹاٹا میموریل ہسپتال میں علاج کے دوران انتقال ہو گیا ۔وہ پندرہ روز پہلے وہاں داخل ہوئے تھے اور ڈاکٹران کے لیور میں کینسر کی تحقیق کرنے کے بعد کیمو تھراپی سے علاج کر رہے تھے،لیکن دوسری ڈوز کے دوران ہی ان کا انتقال ہو گیا ۔ مرحوم کا تعلق جھارکھنڈ سے تھا، لیکن ایک طویل عرصہ سے وہ اپنے بچوں کے ساتھ جامعہ رحیمیہ مہندیان میں رہائش پذیر تھے ۔وہ جامعہ رحیمیہ کے سابق آفس انچارج بھی تھے، لیکن اب وہ مستقل وہ ایک اردوروزنامہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے ۔مرحوم کے پسماندگان میںاہلیہ دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔سب سے بڑی بیٹی یاسمین کی عمر بیس سال کے قریب ہوگی جبکہ دونوںبیٹوں اسرار اور عدنان کی عمر بھی ۱۲؍اور ۱۶؍برس جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی اقرأ کی عمر محض دو برس ہے ۔مرحوم اقبال کی تدفین ان کے آبائی گاؤں سرسا ضلع صاحب گنج میں عمل میں آئی۔ مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے جامعہ رحیمیہ مہندیان میں ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا و مفتی عزیز الرحمٰن چمپارنی نے اور نظامت آل آنڈیا ملی علماء بورڈ کے قومی جنرل سکریٹری قاری قمر عالم نے کی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شہر اور اطراف کے احباب نے شرکت کی۔ تعزیتی میٹنگ میں شرکت کرنے والوں میں جامعہ رحیمیہ کے نائب متولی عبد العلی، محمد شاہد،جامعہ کے اساتذہ مولانا محمد صابر علی ظفر قاسمی، مفتی محمدنظر عالم قاسمی، مفتی محمد شمیم محمود قاسمی، قاری جلال الدین ، مولانا محمد مستقیم خان، مولانا مظہر الدین خان، مولانا محمد اسماعیل آزاد،حافظ نور محمد، حافظ محمد اشرف، محمد شکیل، اسعد میاں، شکیل رانجھا، محمدعارف، اشرف خان،شمس الحق، محمد اشتیاق، محمد عمران و دیگر موجود تھے۔ مرکزی جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا عزیر قاسمی کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔












