ہریانہ اسمبلی کی پوزیشن
ہریانہ اسمبلی کے 90 ارکان میں اکثریتی تعداد – 46
*بی جے پی – 41
*بی جے پی کے ساتھ آزاد – 6
*ہریانہ لوکیت پارٹی – 1 (گوپال کنڈا)
٭جے جے پی کی علیحدگی کے بعد *بی جے پی کی حمایت – 48
JJP-10
*آزاد-1 (بلراج کنڈو)
*انڈین نیشنل لوک دل – 1 (ابھے چوٹالہ)
*کانگریس – 30
چنڈی گڑھ/سماج نیوز سروس ۔ہریانہ میں بی جے پی نے ڈرامائی انداز میں قیادت کی تبدیلی کر کے سب کو چونکا دیا ہے ۔ کل ہی این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ہریانہ میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے امکانات ہیں۔ اور یہ خبر اس وقت سچ ثابت ہوئی جب پیر کو وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا اور گورنر نے ان کے استعفی کو قبول بھی کر لیا ۔اور پھر کیوں اور کس لئے جیسے سوالات کے جواب کے پہلے ہی ہریانہ بی جے پی کے صدر نایاب سنگھ سینی نے پانچ وزرا کے ساتھ وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لے لیا ۔نایاب سنگھ سینی غیر جاٹ ہیں اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس طرح بی جے پی پارلیمانی انتخاب سے لے کر اسمبلی انتخاب تک کے معاملات کو صاف کر رہی ہے خبر یہ بھی ہے کہ بی جے پی منوہر لعل کھٹر کو پارلیمانی انتخاب لڑانا چاہتی ہے ۔اور اب جے جے پی سے الگ ہو کر بی جے پی ہریانہ میں اس کے دباؤسے پوری طرح آزاد ہو کر تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر سکتی ہے ۔حالانکہ جے جے پی کو سرکار سے الگ کرنا بی جے پی کے لئے نقصان کا سودا بھی ہو سکتا ہے لیکن اس قسم کا جوکھم اٹھانے کے لئے بی جے پی مشہور ہے ۔خبر کے مطابق یہ سب اسی وجہ سے کیا جارہا ہے تاکہ جے جے پی سے اتحاد ٹوٹ جائے اور نئی کابینہ سے جے جے پی کو پوری طرح الگ کرنے کا اعلان کر کے عوام میں یہ پیغام نشر کیا جائے کہ بی جے پی کا جے جے پی سے کوئی تعلق نہیں ۔اس طرح بی جے پی آزاد امیدواروں کو بھی خوش کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز ہی ہی پی ایم مودی نے کھٹر کی تعریف کی تھی
دوارکا ایکسپریس وے کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ کھٹر کی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہریانہ کا دورہ کرتے تھے اور اس وقت چھوٹی سڑکوں کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ منوہر لال جی اور میں بہت پرانے دوست ہیں۔ جب وہ موٹر سائیکل چلاتے تھے تو میں پیچھے بیٹھا کرتا تھا۔ میں روہتک سے نکل کر گروگرام آتا رہتا تھا۔ ہمارا اکثر ہریانہ کا سفر موٹر سائیکلوں پر ہوا کرتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ اس وقت ہم موٹر سائیکلوں پر گروگرام آتے تھے، سڑکیں چھوٹی تھیں… بہت پریشانی ہوتی تھی۔ پی ایم مودی نے دوارکا ایکسپریس وے کے لیے عوام کو مبارکباد دی تھی۔دریں اثناریاست میں اس بڑی تبدیلی کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جب قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں کروکشیتر کے رکن پارلیمنٹ نایاب سینی کو ہریانہ کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا تب بی جے پی ضلع نوح کے تمام عہدیداروں نے کروکشیتر کے ایم پی نایاب سینی کو چیف منسٹر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔نومنتخب ریاستی صدر سنجے بھاٹیہ اور کابینہ کے وزراء نے مٹھائی اور ڈھول بجا کر جشن منایا اور ضلع صدر بی جے پی نریندر پٹیل نے کہا کہ پوری بھارتیہ جنتا پارٹی نے نایاب سینی کو بطور وزیر اعلیٰ انتخاب پر مٹھائیاں تقسیم کر جشن منایا۔ اور کابینہ کے دیگر وزراء کو بھی مبارکباد دی۔ سابق وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے 9 سالوں میں بہت قابل ستائش کام کیا اور ان کے دور حکومت کو بھی سراہا گیا۔زاہد حسین نے کہا کہ نائب سینی جی بہت ملنسار ہیں، ہر کسی سے عزت کے ساتھ ملتے ہیں، ہنر مند رضاکار، کروکشیتر لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور ریاستی صدر ہیں۔ ان کی قیادت میں ہریانہ مسلسل آگے بڑھے گا۔ اس موقع پر ریاستی اقلیتی مورچہ کے صدر جان محمد، ضلع جنرل سکریٹری شری پال شرما، عالم، ضلع سکریٹری ممتا کوشک، مورچہ صدر سریش بگھیل، رمیش، آئی ٹی سربراہ جتن، ندیم سالبا سوشل میڈیا انچارج اور دیگر کارکنان موجود تھے۔












