جے پور، 15 مارچ (یو این آئی) راجستھان کے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی بانڈ کے اعداد و شمار عام ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے کی گئی لوٹ مار ملک کے سامنے آ گئی ہے ۔مسٹر گہلوت نے جمعہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹورل بانڈز کی معلومات سے ایسا لگتا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) بی جے پی کا بھتہ خوری کا محکمہ بن گیا ہے ۔ جن کمپنیوں پر مرکزی ایجنسیوں نے چھاپے مارے تھے ، انھوں نے بی جے پی کو الیکٹورل بانڈز عطیہ کیے تھے اور ان کے خلاف جاری کارروائی روک دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے سٹے بازی، جوا وغیرہ میں ملوث کمپنیوں سے بھی چندہ لیا ہے ۔ یہ بی جے پی کے کردار کی تصدیق ہے ۔ کانگریس شروع سے کہہ رہی تھی کہ انتخابی بانڈ ملک کا سب سے بڑا گھپلہ ہے ۔ اب یہ بات ملک کے سامنے آ گئی ہے کہ بی جے پی ملک کی سب سے کرپٹ پارٹی ہے جس نے بدعنوانی کو حکومت بنایا ہے ۔ یہ پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ جو کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں وہ بھی بی جے پی کو کروڑوں روپے کا عطیہ دے رہی ہیں۔مسٹر گہلوت نے کہا کہ بی جے پی کے دباؤ کی وجہ سے میڈیا بھی انتخابی بانڈ کے معاملے پر کوئی بحث نہیں دکھا رہا ہے ۔ جمہوریت میں یہ مناسب نہیں کہ عوام کو سچ نہ بتایا جائے اور گمراہ کیا جائے ۔ بی جے پی کی یہ بدعنوانی اب چھپ نہیں سکتی۔












