تل ابیب :اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف ہزاروں مظاہرین کی طرف سے مسلسل تیسری رات بھی اسرائیلی سڑکوں پر احتجاج جاری رہا۔ سات اکتوبر سے پہلے عدلیہ کے حق میں اور نیتن یاہو حکومت کے خلاف طویل عوامی احتجاج کیا جا رہا تھا جس کی یاد پیر کی رات تازہ ہو گئی۔ہزاروں اسرائیلی شہری بڑے عوامی احتجاج کے لیے ہفتے اور اتوار کی طرح پیر کی رات بھی سڑکوں پر نکلے۔ وہ اسرائیل کو بچانے اور نیتن یاہو کی حکومت کو گھر بھجوانے کے نعرے لگا رہے تھے۔
ان مظاہرین میں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب بھی شامل تھے۔ نیتن یاہو کے خلاف گزشتہ برس بھی ہزاروں مظاہرین نے کئی ہفتوں تک سخت احتجاج کیا تھا لیکن حکومت کو گھر بھجوانے میں مظاہرین ناکام رہے تھے۔ کہ احتجاج کی شدت کے دنوں میں ہی سات اکتوبر والی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ پچھلے سال ہفتے اور اتوار کی راتوں کو مظاہرین تل ابیب اور یروشلم میں سڑکوں پر جمع ہو رہے تھے۔ مگر جنگ کی وجہ سے یہ سلسلہ روک دیا گیا۔
اب ایک بار پھر اسی طرح کے بڑے مظاہرے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پیر کی رات یروشلم میں اسرائیل کو بچاؤ اور نیتن یاہو کو نکالو کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پر ہجوم رہا۔چالیس سالہ عینات آونی اپنے خاندان کے ساتھ غزہ کی سرحد کے ساتھ جڑے نیریم کیبوتز سے فرار ہو کر یہاں پہنچا ہے، اس کا کہنا ہے’ یہ صورت حال اسرائیل کے وجود کے لیے ایک بحران کی حیثیت رکھتی ہے۔’ اگر کوئی آئے اور مجھے میرے بستر سے اٹھائے اور میں یہ یقین نہ رکھتا ہوں کہ میری فوج اور میری حکومت مجھے بچا نہیں سکے گی تو میں پھر کیسے یہاں کوئی رہ سکتا ہے۔ ہمارے ساتھ سات اکتوبر کو یہی کچھ ہوا تھا۔’
خیال رہے نیتن یاہو نے ایک عرصے سے یہ استدلال دیا ہے کہ وہ ہی ایک لیڈر ہے جو اسرائیل کو بچا سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ دعویٰ اب حماس کے ہاتھوں بکھر چکا ہے۔ حماس نے اسرائیلی جنگی آلات کو حیران کر دیا ۔ یہ رائے اب اسرائیل کی اکثریت رکھتی ہے۔
65 سالہ جنرل ریوین بینکلر جو ریٹائرمنٹ کے بعد باہر آگئے ہیں ایک ماہ تک لبنانی سرحد پر تعینات رہ چکے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جنگ کی تعریف کرتے ہوئے اس جنگ کو غیر معمولی قرار دیا مگر نیتن یاہو کے بارے کہنے لگے اسرائیلی فوج کی کامیابی کو یہ نالے میں پھینک رہا ہے۔سابق اسرائیلی جنرل نے کہا ‘ ایسی جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی مقصد اور فائدہ نہیں جس کے لیے کوئی ہدف نہ ہو، اس جنگ کا اب صرف مقصد نیتن یاہو کی حکومت کو بچائے رکھنا رہ گیا ہے۔ ‘
مظاہرین اور مظاہروں میں سے بہت ساروں کی قیادت یرغمالیوں کے اہل خانہ کرتے رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ نیتن یاہو حکومت ان کے عزیزوں کو رہائی دلانے کے لیے نہیں ہے بلکہ قوم کو تقسیم کر کے اس پر حکمرانی کے لیے ہے۔ جنرل ریٹائرڈ بینکلر نے مزید کہا ‘ جب تک نیتن یاہو حکومت میں ہیں کوئی امکان نہیں ہے کہ یرغمالی غزہ سے رہا ہو کر واپس آ سکیں گے۔ خیال رہے جنرل بینکلر سپاہیوں کے ایک ایسے گروپ کی قیادت کرتے ہیں جو ‘گنرز فار ڈیموکریسی ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔
یرغمالیوں کے مسلسل قید میں رہنے کی وجہ سے جہاں ان کی زندگی اور صحت کو خطرات بڑھ رہے ہیں وہیں اسرائیل میں عوامی سطح پر اسرائیلی حکومت کے خلاف غم و غصہ اور دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ غزہ میں حماس کی قید میں باقی 130 یرغمالیوں میں سے 30 کی موت اسرائیلی فوج کے حملوں کے دوران ، بیماری سے یا پھر بھوک سے ہو چکی ہے۔ یہ باتیں اسرائیلی عوام اور یرغمالیوں کے اہل خانہ کے لیے سخت تکلیف دہ ہیں۔اس دوران نیتن یاہو کا ایک آرتھو ڈاکس یہودی حامی مظاہرین پر چلانے لگا۔ اس نے چیختے ہوئے کہا ‘ تم لوگ حماس کی مدد کر رہے ہو، تم گھروں کو واپس جاؤ۔ جن مظاہرین پر کٹر یہودی چیخ رہا تھا ان کے ہاتھ میں ایک بینر تھا جس پر اب الیکشن کا مطالبہ درج تھا ور یہ پارلیمنٹ کی طرف جا رہا تھا۔آرتھو ڈاکس یہودی جو عام طور پر اسرائیل میں یہودی مذہب کی تعلیم و تاویل سےوابستہ ہیں انہوں نے اسرائیل میں لازمی فوجی بھرتی سے استثنا لے رکھا ہے۔ مگر اب ان کے استثنا کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اپیل زیر سماعت ہے۔ نیتن یاہو ان کٹر یہودیوں کو امتیازی بنیادوں پر جنگی مصائب سے بچا کر ان کے ووٹ بنک اور ہمدردی سے بہرہ یاب رہنا چاہتے ہیں۔ کہ یہ اسرائیل کی کل آبادی کا 13 فیصد ہیں۔












