تہران :یران کے جنوب مشرقی علاقے میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر پر مسلح افراد نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 11 اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ایران کے شہر راسک اور چاہ بہار میں بیک وقت 2 پولیس ملٹری پوسٹوں کو دہشتگردوں نے حملے کا نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ایرانی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پولیس ملٹری پوسٹس پر حملے میں ملوث 16 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، جبکہ اس دوران 5 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔
ایران کے نائب وزیرِ داخلہ برائے سیکیورٹی و پولیس امور ماجد میر احمدی کا کہنا ہے کہ چابہار اور راسک میں بیک وقت ہوئے جیش العدل کے حملے کو مکمل ناکام بنا دیا گیا ہے۔
حملے میں ملوث تمام دہشت گرد وں کو آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے، جیش العدل کا حملہ ناکام بنانے کے آپریشن میں 5 سیکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ شام میں ایرانی سفارتخانے پر اسرائیلی فضائی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جیش العدل کے عسکریت پسندوں نے رات کے وقت حملے کیے اور انہوں نے صوبہ سیستان اور بلوچستان میں واقع راسک اور چابہار میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران کم از کم آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔جیش العدل ایک انتہا پسند سنی مسلم عسکریت پسند گروپ ہے جو جنوب مشرقی ایران اور مغربی پاکستانی صوبے بلوچستان میں سرگرم ہے۔
جنوری میں ایران نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں شدت پسند تنظیم ’جیش العدل‘ کے ٹھکانوں کو ’میزائل اور ڈرون‘ سے نشانہ بنایا تھا۔
ایران کے حملے کے نتیجے میں دو بچے ہلاک اور تین لڑکیاں زخمی ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے ایران کے اندر علیحدگی پسند عسکریت پسندوں پر جوابی حملے کیے گئے تھے۔
پاکستان نے یہ جوابی حملے ایران کی جانب سے پاکستانی علاقے میں کیے گئے حملے کے دو روز بعد کیے تھے۔
پاکستان نے ایران پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ ’ایران کے اندر ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے۔‘












