نئی دہلی:برطانوی سپریم کورٹ کے سابق ججوں نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کر دی جائے۔ برطانیہ کی سپریم کورٹ کے ان تین سابق ججوں نے بھی برطانیہ کے قانون و عدالت سے وابستہ 600 سے شخصیات کے اس مطالبے کی حمایت کر دی ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روک دی جائے۔مطالبہ کرنے والے قانون دانوں اور ججوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی کا مطلب اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جاری نسل کشی کا حصہ بننا ہے۔ خیال رہے برطانیہ میں اسرائیل کو اسلحہ روکنے کی آواز بلند کرنے والوں کی تعداد میں اضافے اور اپوزیشن جماعتوں کے شامل ہونے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے سابق 3 جج حضرات کا اسی مطالبے کے ساتھ آ ملنا غیرمعمولی بات ہے۔برطانیہ میں قانون کے پیشہ سے وابستہ افراد کا یہ مطالبہ برطانوی بیرسٹرز، سابق جج حضرات اور قانون کے اساتذہ کی طرف سے وزیراعظم رشی سونک سے کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی لائیں۔ بصورت دیگر اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا برطانیہ بھیی حصہ بن جائے گا۔برطانوی وزیراعظم رشی سونک ان دنوں غیرمعمولی طور پر دباؤ کی زد میں ہیں کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل اور فروخت کو روکنے کے اقدامات کریں۔ امدادی کارکن اور برطانوی شہری کی غزہ میں ہلاکت نے اس سیاسی دباؤ کو ایندھن فراہم کیا ہے۔برطانوی اپوزیشن کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت معطل کرنے پر غور کیا جائے۔ لبرل ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی برآمد معطل کی جائے۔ سکاٹش نیشنل پارٹی نے بھی اس تحریک کی حمایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان ایسٹر کے سلسلے میں اپنی چھٹیوں کو منسوخ کر کے اس بحران پر بحث کرے۔ججوں اور قانون دانوں کی طرف سے وزیر اعظم کو 17 صفحات پر مشتمل لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو فوجی مدد اور جنگی آلات کی فراہمی سے اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں برطانیہ کو بھی شامل سمجھا جائے گا۔واضح رہے بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی غلط کام کو کرنے والے کو مدد دینا بجائے خود ایک غلط اقدام سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی سپریم کورٹ کے سابق تین ججوں میں سے ایک جوناتھن سمپشن ہیں۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ میں برطانوی حکومت کے بارے میں فکر مند ہوں کہ کہ اس نے نسل کشی کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔برطانیہ اسرائیل کو بارودی اور دھماکہ خیز اسلحہ فراہم کرتا ہے، نیز بندوقوں کے علاوہ فوجی طیارے بھی دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بعض دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت کم اسلحہ دینے والا ملک ہے۔ اسرائیل کے لیے برطانیہ کی برآمدات تمام دنیا کی مجموعی برآمدات کا صفر اعشاریہ چار فیصد ہیں۔












