(سید مجاہد حسین )
آج 26نومبر ہے ، تاریخ کا یہ دن ہر سال آتا ہے اور گزر جاتاہے ،لیکن اس دن کی اہمیت سے شاید کم ہی لوگ واقف ہیں ۔بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیںکہ اس دن ہمارا آئین مرتب ہوا تھا ،وہی آئین جو کسی ریاست اور ملک کے نظام کو چلانے کیلئے بنایا جائے اور اس پر عوام عمل کریں ،حکومتیں اس کو نافذ کر کے ملک میں امن و استحکام قائم رکھیں۔ ہمارے ملک کے آئین کو 26؍نومبر1949ء کو سات رکنی کمیٹی جس کے چیئر مین ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر تھے اورجس کے رکن محمد سعد اللہ تھے جسے آئین ساز کمیٹی کہا جاتا ہے ،نے مسودہ حکومت کو سونپا۔ جس کے بعد آئین کا نفاذ26جنوری 1950 سے عمل میں آیا۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کے باشندوں میں آئین کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کیلئے اس دن کو یعنی26 نومبرکو ’یومِ آئین بھارت‘کے طور پر منایاجاتاہے۔لیکن ہم نے بد قسمتی ہے کہ اس دن کی اہمیت کھو دی ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے ہم معذور ہیں ۔ آئین کسی مملکت کی وہ اساس ہے جس کے بنیادی نظریات ،تصورات ،اندورنی نظم ونسق کے بنیادی اصولوں اور مختلف شعبوں کے درمیان ا ن کے فرائض اور اختیارات کی حدود متعین کرنا ہوتاہے۔چونکہ شہری ،سیاسی ،اورانسانی حقوق کے تحفظات کے لیے کسی آئین کی ضرورت تھی جو مملکت اور شہریوں کے حقوق کی پاسداری کر سکے اور ایک منظم اور پر سکون نظام زندگی مہیا کرے۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ ملک کے لیے جو بھی قوانین وضع کیے جائیں گے وہ اسی دستوری کی روشنی اوردائرہ میں ہوں گے۔لیکن ملک کی آزادی کے 75سال بعد بھی ہم نہ صرف آئینی تقاضوں کی پائمالی کررہے ہیں بلکہ اس کے بنیادی تقاضوں تک سے نابلد ہیں۔ہم جانتے نہیں کہ اائین نے ملک کے شہریوں کو جس طرح کے حقوق دئے ہیں ان سے کس طر ح رو گردانی کی جارہی ہے ،حکمراں جماعتیں آئینی اصلولوں سے ہٹ کرکام کرنے میں خوش ہیں،بلکہ اس کی عظمت کو پیروں تلے روندا جارہا ہے ۔اگر آئینی اداروں پر نگاہ دوڑائی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس پر کتنا حاوی ہیں اور وہ اپنی آزادی کھوتے جارہے ہیں۔ملک کے سماجی اور سیاسی اور معاشی نظام آئین سے دور جا چکا ہے اور اس کی قدروں کو سمجھنے سے معذور ہیں۔ اس لئے بعض اوقات عدالتوں کو دخل دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ۔حال ہی میں انتخابات سے قبل چیف الیکشن کمیشن کی تقرری پر عدالت عظمیٰ نے حکومت سے سوال کئے اور اپنے سخت تبصرے سے اس کو کم نہیں لتاڑاگیا۔ابھی یہ ایک مثال ہے ،اس کے علاوہ بہت سے ایسے کام ہو چکے ہیں جن پر حکومت کی جواب دہی بنی ، عدالت نے اس سے باز پرس کی اور اپنے سخت تبصرے کئے۔لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ عدالت کے تبصرے ہوں یا اس کے سخت فیصلے ،موجودہ حکومت پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا ہے ۔ پچھلے آٹھ برسوں کے اند ر جو حالات گزرے اور جس طرح سے دو طبقات میں دراڑ پیدا کر کے حکمرانی کی داغ بیل ڈالی گئی وہ بھی آئینی اور جمہوری تقاضوں کو نظر انداز کر نے کا نتیجہ تھا۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے آئین میں انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں کافی گنجائش رکھی گئی ہے۔ چونکہ انسانی حقوق کو آج آفاقی حیثیت حاصل ہے اس کے باوجود بڑے پیمانے پر انسانی بنیادی حقوق کی پائمالی ہمارے ملک میں ہور ہی ہے ،کہیں بولنے پر پابندی ہے تو کہیں کھانے اور لباس پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ توکبھی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کاہوّا کھڑا کیاجارہاہے۔ہم بڑے بڑے دعوے کر کے خود کو تسلی تو دے لیتے ہیں لیکن اس پر عمل آوری کے معاملے میں تہی دامن ہیں ۔لیکن ہمارا جمہوری ملک بھارت جہاں مختلف انواع و اقسام،رنگ و نسل،مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ جمہوری اقدار کی پائمالی کی جائے اور من مانے ڈھنگ سے ملک کا نظام چلایا جائے۔دو رائے نہیں کہ اپوزیشن پارٹیوں نے موجودہ حکومت پر آئین کو نظر انداز کرنے اور منمانی کرنے کے سنگین الزامات لگائے اور اسے جمہوری اقدار کو کچلنے والا بتایا ۔اس سنگین الزام کے داغ کو دھونے کی ضرورت ہے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب عوام کے حقوق کے ساتھ جمہوری تقاضوں کی پاسداری ہو اور حکومتی اداروں کوآئین کے مطابق چلا یا جائے،بد عنوانی اور منمانی کے دروازے بند کیئے جائیں ۔کیا ہم اس کا عہد کریں گے کہ ہم آئین کی حفاظت اور پاسداری میں اتنے ہی ایماندار رہیں گے جتنا ہم دعویٰ کرتے ہیں ۔کیا ہم انسانی حقوق کی حفاظت اور تمام عوام کو یکساں حقوق فراہم کرنے میں اپنا اہم رول ادا کریں گے ۔یہ جذبہ سبھی حکومتوں کے اندر ہونا چاہئے کسی مخصوص کی بات نہیں ہے ۔












