بیدر، سماج نیوز سروس : کل(29؍مئی کی) دوپہر ایک بج کر 40منٹ پر بیدر کے گرونانک دیو انجینئرنگ کالج کے مسلم اور غیر مسلم طلبہ کے دوگروپوں میں اس وقت مارپیٹ شروع ہوگئی جب ای۔ فیسٹ کی تیاری کے لئے مبینہ طورپر ریہرسل کی جارہی تھی۔ذرائع کے بموجب اس ریہرسل کے دوران کالج کی جانب سے جنسیات اور مذہبیات سے متعلق گانے لگانے(اور گائے جانے) پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن چند طلبہ نے گانے لگانے والے فرد کو وہاں سے ہٹاکر ’’جے شری رام ‘‘ نامی نعروں والا مذہبی گیت لگادیا۔جس پر اقلیتی طلبہ بھڑک گئے اورطلبہ کے دوگروپوں کے درمیان مارپیٹ شروع ہوگئی۔ جس کی بناپر ایک آدھ طلبہ زخمی ہوگئے۔ جن کی جانب سے 17اقلیتی طلبہ پر مقدمہ درج کئے جانے کی اطلاع ہے۔ایس پی بیدر چن بسونا ایس ایل کے مطابق 30اور 31مئی کو گرونانک دیوانجینئرنگ کالج بیدر میں سالانہ ٹیکنو کلچرل فیسٹ ای۔ بز تقریب تھی ۔ دھرم گیت پر کچھ طلبہ ناچ رہے تھے ۔ جس پر چند طلبہ نے مخالفت شروع کردی ۔ کالج پرنسپل نے گاندھی گنج پولیس افسران کو فون کیا۔ جائے حادثہ پر پولیس نے پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا۔ اس موقع پر دوطلبہ زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال لے جاکر علاج کرایاگیا۔ شکایت کنندہ کی شکایت پر 17اور دیگر طلبہ کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔ شکایت وصولی کاسلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ دوسری طرف دونوں گروپوں میں شانتی بنائے رکھنے سی آرپی سی دفعہ کے تحت اقدامات کئے جارہے ہیں۔ کالج انتظامیہ نے 30اور 31؍مئی کوہونے والا ثقافتی پروگرام منسوخ کردیاہے۔ عوام اور طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امن بنائے رکھیں۔ جی این ڈی کالج کے پاس پولیس بندوبست کیاگیاہے تاکہ امن کو بحال کرنے میں مدد مل سکے۔ مگر ایس پی بیدر کی اس اپیل کاکوئی اثر دیکھنے کونہیں ملاہے۔ آج آرایس ایس کی طلبہ تنظیم اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے ایک ریلی نکال کر ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم دینا اور اس موقع پر ایس پی کا موجود
رہنا، یہ بتاتاہے کہ پولیس کی گرفت چند طبقات پر کس قدر مضبوط اور چند طبقات پر کس قدر کمزور ہے۔ سنا ہے کہ کل شب شہر کے چند بااثر مسلمانوں کو محکمہ پولیس کی جانب سے مدعو کیاگیاتھا۔ وہاں کیابات ہوئی ، کیاکہاگیااس کی کوئی اطلاع ہمیں نہیں ہے۔ ایف آئی آر درج کرانے والے کانام نٹراج ولد راج کمار ہالے ہے۔ جس نے17مسلم طلبہ بشیر خان ، غفران ، انیس ، شیخ پاشاہ ، بلال ، منیب ، سرفراز، رضوان، فیضان ، عبدالعزیز ، عثمان ، سیف قریشی ، حسین قادری ، مرزا علی بشیر ، فرقان ذبیح اور دیگر 15افرادکے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ ایف آئی آرکانمبر 86/2024 ہے۔حیرت اس بات پر بھی ہے کہ جن کے خلاف کیس کیاگیاہے ان طلبہ کو بالغ بتایاگیاہے اور 22سال کا ایک غیرمسلم طالب علم ہے جس کو نابالغ Minor لکھاگیاہے۔اسی طرح ایک اور غیرمسلم طالب علم (22سالہ) کو بالغ لکھاگیاہے اور نہ ہی نابالغ ۔ خانہ ایسے ہی چھوڑ دیاگیاہے۔ غالباً یہ دونوں طالب علم زخمی ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ طلبہ کے دوگروپ کی لڑائی میں بی جے پی سٹی صدر ششی ہوسلی شامل ہوچکے ہیں اور اسی طرح اے بی وی پی کے آج کے احتجاج میںسینئر لیڈراور ماہر تعلیم جناب ریون سدپا جلادھے اور دیگر لوگ شامل نظر آئے۔ اب جواباً NSUI ، SFI، دلت ودیارتھی پریشد، ایس آئی اواور دیگر طلبہ تنظیمیں کیااقدام کریں گی اس کابیدر کی عوام اور خصوصاً گرونانک دیو انجینئرنگ کالج کے طلبہ کو انتظار ہے۔واضح رہے کہ بیدر کے
رکن اسمبلی 4دفعہ کے انتخاب جیت چکے رحیم خان ہیں، اور اتفاق سے وہ فی الحال وزیر بلدیہ اور حج بھی ہیں۔ ان کاہمیشہ سے کہنارہاہے کہ انھیں انتخابات میں غیرمسلم بھا ئی کامیاب بناتے ہیں۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ غیرمسلم بھائی چوں کہ انھیں سیاسی کامیابی دلاتے ہیں اسلئے مسلمان طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کادرج ہونا ضروری ہوجاتاہے۔ جبکہ بیدر کامسلمان معاشرہ اس بات کو لے کرسخت ناراض ہے کہ بیدر اسمبلی حلقہ کا ایم ایل اے ایک مینارٹی مسلمان ہے اور اتفاق سے وزیر بھی ہے اوروہ مسلمان طلبہ کے تحفظ میں ناکام ہوجاتا ہے۔ اگر FIRکامعاملہ آگے بڑھتاہے (جیساکہ آگے بڑھتانظر آرہاہے) تو اس سے طلبہ کی تعلیم پر اثر ہوگا۔دوسری جانب چند سنجیدہ افرا دکامانناہے کہ ایس پی بیدر چن بسونا ایس ایل کسی بھی قسم کے معاملے کو نمٹانے کے لئے ہردم تیاررہتے ہیں، یہ معاملہ بھی بحسن وخوبی حل کرلیاجائے گااو ردونوں طرف کے طلبہ بھائی بھائی کی طرح کالج میںرہ کر پڑھائی کریں گے۔ مرکزی وزیر اور بید رکے بھاجپا رکن پارلیمان بھگونت کھوبا کا آج بیان آیاہے جوریاست کی کانگریس حکومت اور مسلم طلبہ کے خلاف ہے اور طلبہ کو کالج سے نکالنے کو کہاگیاہے۔ اب دیکھنایہ ہے کہ معاملہ تھم جاتاہے یاآگے بڑھتے ہوئے ضلع انچارج وزیر ایشور کھنڈرے، وزیر بلدی نظم ونسق رحیم خان اور ضلع انتظامیہ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتاہے۔












