سرینگر،سماج نیوز سروس: ملک کی بیشتر ریاستوں میں گرمی کی لہر 50ڈگری سے اوپر چلا جانے کے بعد سیاحوں کی بڑھی تعداد وارد کشمیر ہو رہی ہے اور امسال ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی ریکارڈ تعداد وادی وارد ہونے کا امکان ہے۔آئے روز سیاحوں کے بڑھتے رش کے نتیجے میں شعبہ سیاحت سے وابستہ افراد بھی کافی مطمئن نظر آ رہے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی کئی ریاستوں میں گرمی کی لہر میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں سیاحوں کی بڑی تعداد کشمیر سیر کیلئے وارد ہو رہی ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں سے سیاحوں کی بڑھتی تعداد ان دنوں کشمیر وارد ہو رہے ہیں اور وہ قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ باہر کی ریاستوں سے سیاحوں کی بڑی تعداد وارد کشمیر ہو رہی ہے اور وہ پہلگام ، گلمرگ ، سونہ مرگ اور دیگر سیاحتی مقامات کی جانب رخ کرکے وہاں گرمی کی لہر سے نجات حاصل کرتے ہیں ۔ مختلف ممالک اور ریاستوں سے سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد ان دنوں کشمیر کی جانب رواں دواں ہے ۔ وادی کشمیر کے سیاحتی مقام خاص طور پر پہلگام ، گلمرگ ، سونہ مرگ اور نشاط وشالیمار علاقوں میں ہوٹلوں کی پہلے سے ہی بوکنگ ہو گئی ہے اورپہاڑی اسٹیشنوں ودور دراز کے مقامات پر رہائش کیلئے پوچھ گچھ اور بکنگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، کیونکہ بہت سے ہندوستانی پیشہ ور پہاڑی مقامات پر قیام کے دوران کام کو تفریح کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ملک کی سرکردہ ٹریول ایجنسیوں کے مطابق، گاہکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پہاڑی اسٹیشنوں کے پرسکون ماحول کے درمیان دور دراز کے کام کے مواقع کا انتخاب کر رہی ہے۔پہاڑی مقامات میں سے، کشمیر اہم مقامات میں سے ایک ہے، جو اس موسم میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ایک ٹرول ایجنٹ کے مطابق ’’جیسے جیسے دہلی، ممبئی، اور جنوبی ہندوستان جیسے میٹروپولیٹن مرکزوں سمیت ہندوستان کے مختلف حصوں میں پارہ معمول سے اوپر کی سطح تک بڑھ رہا ہے، پیشہ ور افراد تیزی سے ٹھنڈے موسموں میں عارضی طور پر منتقل ہونے کا انتخاب کر رہے ہیں‘‘۔ ایک ٹریول ایجنٹ محمد آصف بٹ نے کہا کہ اس تبدیلی نے کشمیر میں آنے والوں میں ایک قابل ذکر اضافہ دیکھا ہے، جو نہ صرف اس کی قدرتی خوبصورتی بلکہ دور دراز کے کام کیلئے سازگار ماحول کے وعدے سے بھی متاثر ہوا ہے۔ٹریول ایجنٹوں کے مطابق سیاح غیر معروف کشمیر کی سیر کیلئے تیزی سے کشمیر کے غیر معروف مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ اوسطاً 8000 سے زیادہ مسافر ہوائی اڈے پر آتے ہیں۔ مسافروں کی ایک بڑی تعداد سیاحوں پر مشتمل ہے۔












