عبدالغفار صدیقی
امت مسلمہ کو قرآن مجید میں’امت وسط‘ کہا گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتدال کی روش کی تحسین کی ہے۔ آپ نے فرمایا:’خیر الامور اوسطہا‘ یعنی جملہ امور میں اعتدال کا راستہ بہتر ہے۔امت مسلمہ آج زندگی کے ہر شعبہ میں افراط وتفریط کا شکار ہے، خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے۔ شادی بیاہ کے رسم ورواج کے تعلق سے بھی وہ افراط وتفریط میں مبتلا ہے۔ یا تو یہ کوشش کی جانی ہے کہ جملہ رسوم بہ یک جنبش قلم ختم کردی جائیں یا یہ رویہ اپنایا جاتا ہے کہ ہررسم کو اعلیٰ پیمانے پر انجام دیا جائے۔ ہمارے واعظین بھی جب اسٹیج پر خطابت کے جوہر دکھاتے ہیں تو منگنی ، بارات، جہیز وغیرہ کو مشرکانہ وکافرانہ عمل قرار دیتے ہیں لیکن پھریہی واعظین ایسی تمام شادیوں میں شرکت بھی فرماتے ہیں، جن میں یہ تمام کام انجام دیے جاتے ہیں بلکہ علماءکی اکثریت خود ان جملہ رسوم کو انجام دیتی ہے۔یہ درست ہے کہ موجودہ دور میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بہت سی ایسی رسوم کو شامل کرلیا گیاہے جن کا تعلق اسلام سے نہیں ہے، بلکہ وہ ہندوستانی تہذیب کی علامت ہیں، لیکن سیکڑوں برس سے یہ رسمیں چلی آرہی ہیں۔’ماالفینا علیہ آبائنا‘ ہم نے اپنے اسلاف کو یہی کرتے دیکھا ہے۔ اس لیے یہ کوشش کہ جملہ رسمیں فوراً ختم ہوجائیں، نہ صرف ناممکن ہے، بلکہ اصلاح کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اعتدال کی روش اختیار کی جائے۔ بعض رسوم کو ختم کردیا جائے، مثلاً جوتا چرائی، پان کھلائی، چوٹی سہرا وغیرہ ، بعض کی اصلاح کردی جائے ، مثلاً منگنی، بارات وغیرہ اور بعض رسموں مثلاً جہیز، بھات وغیرہ کو اس وقت تک گوارا کرلیا جائے جب تک ملت کا اجتماع مزاج تبدیل نہ ہوجائے۔اسلام انسانوں کے لیے رحمت ہے۔اس نے اپنے متبعین کو وہی ہدایات واحکام دیے ہیں جن میں خیر اور بھلائی ہے۔ اگر اس نے جہیز کے مطالبے کو حرام قرار دیا ہے تو اس کا نعم البدل وراثت کی شکل میں عطا کیا ہے۔ ایک طرف سودی کاروبار کوحرام قرار دیا تو دوسری طرف امت کے اجتماعی مزاج میں انفاق اور تعاون باہمی کی فضا پیدا کی۔ اسلامی حکومت کو پابند کیا کہ وہ غیر سودی قرض فراہم کرے اور لوگوں کی ضروریات پوری کی جائیں۔ آج مسجد کے منبر سے سود کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر کردیا جاتا ہے،(راقم بھی سود کو حرام سمجھتا ہے) لیکن اس کا متبادل فراہم نہیں کیا جاتا، اس لیے ہزاروں تقریروں اور سمیناروں کے باوجود امت اس لعنت سے چھٹکارا نہیں پاسکی ہے۔ ذیل میں شادی بیاہ کی چند رسوم کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
منگنیسگائی:اس رسم کا مطلب ہے رشتہ مانگنا، رشتہ طے ہوجانے کا اقرار واعلان کرنا۔ معنیٰ ومفہوم کے لحاظ سے اس رسم میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے۔ ظاہر ہے ،آ پ جس سے رشتہ کرنا چاہیں گے تو اس کے گھر جائیں گے، وہ لوگ آپ کے گھر آئیں گے، باہم گفتگو ہوگی، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت حاصل کی جائے گی، اس آنے جانے میںآپ کے ساتھ آ پ کے قریبی اعزہ مثلاً چچا، تایا، بھائی وغیرہ ہوں گے۔ خواتین بھی ہوں گی ، تاکہ گھر آنگن دیکھ لیں۔یہ آنا جانا ایک سے زائد بار بھی ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر طرفین ضیافت بھی کریں گے۔ رشتہ پسند آجانے کی صورت میں طرفین کے رشتہ دار جمع ہوکر اس بات کا اعلان کردیں گے کہ یہ رشتہ طے پاگیا ہے اور فلاںمہینہ کی فلاں تاریخ کو نکاح ہوگا۔ نبیﷺ نے تو یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ لڑکا اپنی منگیتر کو دیکھ لے۔اس حد تک یہ رسم درست ہے، البتہ اس موقع پر قیمتی جوڑے دینا، یا استطاعت سے بڑھ کر ضیافت کرنا یا قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ایک جم غفیر اکٹھا کرلینااسراف اور تبذیر ہے۔ اب کوئی کہے کہ منگنی حرام ہے اور قطعاً نہیں ہونا چاہیے تو وہ ایک ایسی بات کہتا ہے جو ناقابل عمل ہے۔ ہمیں اس رسم میں اسراف سے گریز کرنا چاہیے۔
تاریخ بھیجنا:اس کو بعض علاقوں میں نشانی یا جوڑا بھیجنا بھی کہتے ہیں۔ عام طور پر اس رسم میں ایک لال خط پر لڑکی والوں کی جانب سے لڑکے والوں کو دیا جاتا ہے جس میں نکاح کے لیے متعینہ تاریخ ودن پر لڑکے والوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ لڑکی والا اپنے گھر دوچار افراد جمع کرکے یہ خط تحریر کراتا ہے اور کسی عزیز کے ذریعہ اسے بھیجتا ہے۔ لڑکے والا بھی اپنے گھر چند افراد کو جمع کرتا ہے اور وہ خط پڑھ کر سناتا ہے۔ اس حد تک اس رسم میں کوئی قباحت نہیںہے، البتہ اس موقع پر لڑکی والے کی طرف سے مختلف تحائف ، سونے کی انگوٹھی وغیر بھیجنا فضول خرچی کے دائرے میںآتا ہے۔
بارات:دولہا کے ساتھ اس کے رشتہ دار، احباب اور اہل محلہ کی ایک بڑی تعداد جاتی ہے۔اسے بارات کہتے ہیں۔ اس ضمن میں بعض افراد کا موقف یہ ہے کہ صرف دوچار افراد ہی جائیں اور نکاح کرکے آجائیں جب کہ دیگر لوگوں کے یہاں یہ تعداد سینکڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔شریعت میں نکاح علی الاعلان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی نکاح مجلس عام میں ہو،تاکہ سب لوگ گواہ بھی رہیں اور دعا گو بھی ہوں۔ یہ افراد صرف لڑکی والوں کی جانب سے ہوں یا دونوں اطراف سے ، اس تعلق سے واضح ہدایات ورہ نمائی نہیں ملتی۔کہا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں بارات کا تصور نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ نبی کا پورا زمانہ بلکہ خلافت راشدہ تک مسلمان حالت جنگ میں رہے اور حالت جنگ میں خوشی کے مواقع پر بھی شادیانے نہیں بجائے جاتے، نبی کے زمانہ میں جو شادیاں بھی ہوئیں وہ ایک ہی بستی میں ہوئیں۔ فتح مکہ سے پہلے تک مسلمانوں کی بڑی تعداد مدینہ میں آباد تھی اور پورا مدینہ مختصر سے علاقے میں بسا ہوا تھا۔ ایک بستی میں دونوں فریقوں کے موجود ہونے اور حالت جنگ میں رہنے کے باعث کسی بارات کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود نکاح عام طور پر مسجد نبوی میں ہوتا اور بیشتر صحابہ کرامؓ اس موقع پر موجود رہتے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آبادی بھی کم تھی اور رشتہ داریاں محدود تھیں۔ رشتہ داروں کی ایک بڑی تعداد کے حالت کفر میں ہونے کے سبب ان سے رشتہ داریاں ختم ہوچکی تھیں۔ آج جب کہ آبادی بڑھ گئی، حالت جنگ بھی نہیں ہے، نکاح بھی سیکڑوں میل دور سے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں یہ مطالبہ کرنا کہ صرف دو آدمی ہی نکاح کرنے جائیں کسی طرح بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اعتدال کا راستہ یہ ہے کہ بہت قریبی اعزہ مثلاً دولہا کے والد، دادا، نانا، چچا، تایا، ماموں، خالہ، پھوپھا وغیرہ اس کے ساتھ جاسکتے ہیں۔ یہ تعداد چالیس پچاس تک ہوسکتی ہے۔ دور کے رشتہ دار، دوست اور اہل محلہ کو نہ لے جایا جائے۔
لڑکی والوں کے یہاں کھانا:لڑکی والوں پر دولہا اور اس کے اعزہ کو کھانا کھلانا شریعت نے ضروری قرار نہیں دیا ہے، لیکن نہ کھلانے کا بھی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ ایک بستی سے دوسری بستی میں نکاح کے لیے لوگ جائیں، خواہ ان کی تعداد دس ہو یا پچاس اور فاصلہ بھی اتنا ہو کہ کھانے کا وقت درمیان میں آتا ہو۔ اب دوشکلیں ہوں گی۔ ایک شکل یہ کہ لڑکے والا اپنے گھر سے کھانا بنواکر لے جائے یا کسی ہوٹل میں انتظام کرے یا ہر فرد اپنے کھانے کا نظم خود کرے۔ دوسری شکل یہ ہوگی کہ یہ افراد لڑکی والے کے مہمان ہوں گے اور وہ ان کی حسب استطاعت میزبانی کرے گا، کیونکہ رشتہ ہو جانے کی صورت میں یہ سب لوگ اس کے بھی اعزہ ہوں گے۔ کیا اسلام نے اعزہ کی میزبانی کو حرام قرار دیا ہے؟ عام طور پر کسی کی موت پر تعزیت کے لیے آنے والوں کو بھی کھانا کھلایا جاتا ہے اور یہ تو خوشی اور مسرت کا موقع ہے۔ البتہ اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا اور کھانا ضائع کرنا، صرف نام ونمود کے لیے اتنی اقسام کے کھانے پکوانا کہ کھانے والوں کو انتخاب میں بھی پریشانی ہوجائے یا مہمانوں کی طرف سے کسی خاص قسم کے کھانوں کا مطالبہ کسی طرح درست نہیں۔
جہیز:شادی کے وقت لڑکی والا اپنی بیٹی کو جو سامان دیتا ہے وہ جہیز کہلاتا ہے۔ بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کرنا تفریط ہے اور زندگی گزارنے کے لیے جملہ سامان لازماً دینا افراط ہے۔ نبی کا معمول تھا کہ جب آپ کی بیٹیاں آ پ کے پاس آتیں تو آپ انہیں تحفہ دیتے۔ ایک بار آپ کی دودھ شریک بہن شیما تشریف لائیں، ان کی واپسی کے وقت آپ نے انہیں خچر بھر کر سامان عنایت فرمایا۔اسلام نے وراثت کا حق مقرر کیا ہے۔ اگر سماج میں وہ حق دیا جانے لگے تو جہیز کی رسم خود ختم ہوجائی گی، لیکن جب تک وراثت قائم نہیں ہوتی اس وقت تک جہیز نہ دینے پر اصرار گویا لڑکی کا حق مارنا اور اسے بے یارومددگار چھوڑنا ہے۔ ہمارے واعظین جس قدر زور جہیز کے ختم ہونے پر صرف کررہے ہیں انہیں چاہیے کہ اتنا زور وراثت کو قائم کرنے پر لگائیں۔ اس طرح ایک معروف قائم ہوگا اور ایک منکر ختم جائے گا۔ لیکن دیکھا یہ گیاہے کہ بہت سے دین دار افراد بھی وراثت میں بیٹی اور بہن کا حق نہیں دیتے۔ اس وقت میں اگر آپ جہیز کو بھی یکسر ختم کردیں گے تو لڑکی کا مالی خسارہ ہوگا۔ اس پر’بھات‘ کی رسم کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔’بھات‘ بھائیوں کی طرف سے وہ رقم یا سامان ہے جو وہ اپنی بہنوں کو ان کے بچوں کی شادی کے موقع پر دیتے ہیں۔ اگر وراثت دے دی جائے تو بھات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور نہ بہنوں کی طرف سے اس کا مطالبہ ہوگا۔
سلامی:شادی بیاہ کے موقع پر انجام دی جانے والی رسموں میں سے ایک رسم’سلامی ‘ہے۔ دولہا کو نکاح کے بعد گھر میں بلایا جاتا ہے، رشتہ دار خواتین اسے تحفہ دیتی ہیں اور وہ ان کو سلام کرتا ہے۔ اس رسم میں بظاہر کوئی برائی نہیں ہے، البتہ اس موقع پر جو ان لڑکے لڑکیاں بے شرمی وبے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو قابل اصلاح ہے۔ اس رسم کو ’باہمی تعارف‘ کا نام دینا چاہیے۔ شادی کے موقع پر اعزہ جمع ہوتے ہیں، اس بات کی ضرورت تو بہر حال محسوس ہوتی ہے کہ دولہا کا ان اعزہ سے تعارف ہوجائے، ممکن ہے پھر ملاقات نہ ہو اور اس موقع پر تحفہ وغیرہ دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ لیکن وقار اور سنجیدگی لازم ہے اور بے پردگی سے گریز کرنا چاہیے۔
ایک مختصر تحریر میں جملہ رسموں کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے۔ نکاح کا موقع مسرت وخوشی کا موقع ہوتا ہے۔ جب کہ کسی کی موت کے موقع پر غم اور رنج کی فضا طاری رہتی ہے۔ دونوں مواقع میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اس لیے یہ فطرت کے خلاف ہے کہ ہم دونوں مواقع کو یکساں کردیں۔ خوشی کے موقع پر حدود کے اندر رہ کر خوش ہونے، فضول خرچی وریاکاری سے اجتناب کرتے ہوئے تحفے تحائف دینے اور حسب استطاقت خوش ذائقہ کھانا کھلانے میں کوئی حرج یا گناہ نہیں ہے۔ بلکہ گناہ یہ ہے کہ انسان خوشی کے موقع پر حدود سے تجاوز کرے۔ بے حیائی، بے شرمی اور بے پردگی کے مظاہرے ہوں، تحفوں کے نام پر اسباب زندگی دیے جائیں، کھانے میں اسراف سے کام لیا جائے اور بہت سا کھانا برباد ہو۔واعظین، مقررین اور ناصحین سے میری گزارش ہے کہ وہ رفتہ رفتہ اصلاح کی طرف بڑھیں اور ’حرام‘ سے روکنے سے پہلے ’حلال‘ متبادل فراہم کریں۔ اسلام کا نظام دراصل ایک گھڑی کی طرح ہے۔ گھڑی کے سارے پرزے ٹھیک ہوں گے تو وہ صحیح وقت بتائے گی اور اگر اس کا چھوٹے سے چھوٹا پرزہ بھی خراب ہوگا تو وہ وقت غلط بتائے گی یا بند ہوجائے گی۔ لہٰذا اسلامی نظام قائم ہوئے بغیر کلّی طور پر اسلام کی معاشرت کا قیام غیر ممکن ہے۔












