نئی دہلی (یو این آئی)دنیا کے خطرناک ترین باکسرز میں سے ایک مائیک ٹائسن جنہیں دنیا کے عظیم ہیوی ویٹ باکسرز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، امریکہ کے سابق پیشہ ور باکسر ہیں۔ ٹائسن نے صرف 18 برس کی عمر میں پروفیشنل باکسنگ شروع کر دی تھی۔ مائیک ٹائسن کی زندگی بھلے ہی تنازعات سے بھری ہو لیکن انہوں نے باکسنگ کی دنیا میں ہمیشہ اپنا دبدبہ قائم رکھا۔ 20 برس کی عمر میں ہیوی ویٹ چیمپئن بننے کا کارنامہ انجام دیا۔ امریکہ کے لیجنڈری باکسر مائیک ٹائسن جن کا شمار دنیا کے عظیم باکسرز میں ہوتا ہے۔ باکسنگ رنگ میں بڑے بڑے باکسرز بھی ان کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے۔ مائیک ٹائسن کا باکسنگ کیرئیر بہت شاندار رہا ۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں تقریباً 58 فائٹ لڑیں جن میں سے انہوں نے 50 فائٹ پر فتح حاصل کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان 50 میچوں میں سے ٹائسن نے 44 میچوں میں ناک آؤٹ سے کامیابی حاصل کی ۔ مائیک ٹائسن نے اپنی پہلی فائٹ 1985 میں ہیکٹر مرسڈیز کو شکست دے کر جیتی۔مائیک نے 1985 سے 2005 تک باکسنگ مقابلوں میں حصہ لیا۔ ٹائسن نے اپنی باکسنگ کی مہارت کے لیے ‘آئرن مائیک، ‘کڈ ڈائنامائٹ اور ‘دی بیڈسٹ مین آن دی پلینیٹ جیسے خطابات حاصل کیے ۔ انہیں عظیم ہیوی ویٹ باکسرز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ٹائسن کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔ ان کی والدہ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ 10 برس کے تھے۔غربت اور مجرمانہ علاقے میں رہنے کی وجہ سے ٹائسن کو بار بار چھوٹے چھوٹے جرائم کرتے ہوئے پکڑا گیا۔یہ ٹائسن کی بدقسمتی یا ناسازگار حالات کا نتیجہ ہی کہیں گے کہ 13 برس کی عمر تک ٹائسن کو 38 بار گرفتار کیا گیا ۔ ان کی باکسنگ کی صلاحیتوں کو بابی اسٹیورٹ نے جانا ۔ڈی اماتو نے ٹائسن کو چھپنے اور ڈھونڈنے والا باکسنگ کا انداز سکھایا، جس میں وہ اپنے ہاتھ اپنے گالوں کے قریب رکھتے اور باکسنگ رنگ میں مسلسل گھومتے رہتے، جس سے ان کا دفاع تقریباً ناقابل تسخیر ہوتا۔ 5 فٹ 11 انچ یعنی1.8 میٹر لمبے اور تقریباً99 کلوگرام وزنی ٹائسن کا جسم کلاسک ہیوی ویٹ باکسر جیسا نہیں تھا، لیکن رنگ میں ان کی حیران کن چستی اور جارحیت نے ا ن کے حریفوں کو ہمیشہ زیر کیا۔ انہیں باکسنگ کی مہارت کے لیے ‘آئرن مائیک، ‘کڈ ڈائنامائٹ اور ‘دی بیڈسٹ مین آن دی پلینیٹ جیسے خطابات بھی ملے۔ انہیں اب تک کے سب سے بڑے ہیوی ویٹ باکسرز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ مائیک نے اپنی پہلی بیلٹ 20 سال کی عمر میں جیتی اور وہ ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتنے والے سب سے کم عمر باکسر بھی ہیں۔ 1987 سے 1990 تک ٹائسن نے عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن کے بادشاہ رہے۔ٹائسن نے اپنے پہلے 19 پیشہ ورانہ مقابلے ناک آؤٹ کے ذریعے جیتے، ان میں سے 12 پہلے راؤنڈ میں ہوئے تھے۔ 20 سال، چار ماہ اور 22 دن کی عمر میں پہلی بیلٹ جیتنے والے ٹائسن نے ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتا۔ اس طرح انہوں نے ہیوی ویٹ جیتنے والے کم عمر ترین باکسر کا ریکارڈ قائم کیا۔ وہ پہلے ہیوی ویٹ باکسر تھے جنہوں نے بیک وقت ڈبلیو بی اے، ڈبلیو بی سی اور آئی بی ایف ٹائٹل اپنے نام کیے، اور یہ ٹائٹل لگاتار اپنے نام کرنے والے واحد ہیوی ویٹ تھے۔ اگلے سال ٹائسن اس وقت لائنل چیمپئن بن گئے جب انہوں نے پہلے راؤنڈ کے 91 سیکنڈ میں مائیکل اسپنکس کو ناک آؤٹ کیا۔سال 1990 میں، ٹائسن کو انڈر ڈاگ بسٹر ڈگلس نے تاریخ کے سب سے بڑے اپ سیٹ میں ناک آؤٹ کر دیا۔مائیک ٹائسن کو اب تک کے بہترین ہیوی ویٹوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، وہ اس وقت کے تمام 100 سب سے بڑے باکسرز کی فہرست میں نمبر ایک تھے۔ ہیوی ویٹ ہسٹری میں سب سے مشکل ہٹرز کی فہرست میں نمبر ایک تھے۔ یا اگر یوں کہا جائے کہ پیشہ ورانہ رنگ میں قدم رکھنے والا سب سے زیادہ وحشیانہ لڑاکا” ٹائسن ہے تو غلط نہ ہوگا ۔انہیں انٹرنیشنل باکسنگ ہال آف فیم اور ورلڈ باکسنگ ہال آف فیم میں شامل کیا جاچکا ہے۔ مائیک ٹائسن 22نومبر 1986 کو تاریخ کےسب سے کم عمر ہیوی ویٹ چیمپئن بنے، جس نے ٹریور بربک کو دوسرے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کرکے ورلڈ باکسنگ کونسل کا تاج اپنے نام کیا۔ 7 مارچ 1987 کو اس نے جیمز اسمتھ کو شکست دے کر ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن بیلٹ پر قبضہ کیا۔ یکم اگست 1987 کو ٹونی ٹکر کو شکست دینے کے بعد، ٹائیسن کو تینوں منظوری دینے والی اور انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن نے متفقہ طور پر چیمپئن تسلیم کیا۔11فروری 1990 کو، باکسنگ کی تاریخ کے سب سے بڑے اپ سیٹ میں، ٹائسن نے چیمپئن شپ کو ہلکے سے سمجھے جانے والے باکسر جیمز ڈگلس سے شکست کھائی، جس نے 10ویں راؤنڈ میں تکنیکی ناک آؤٹ اسکور کیا تھا۔ ٹائسن نے لگاتار چار میچ جیت کر ہار سے واپسی کی۔مائیک کی پیشہ ورانہ زندگی ان کی ذاتی زندگی کی طرح مشہور ہے۔ مائیک نے تین بار شادی کی ہے۔ ٹائسن نے سال 2003 میں اپنے آخری پیشہ ورانہ مقابلہ کے پہلے راؤنڈ میں 49 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کرکےفتح حاصل کی۔ٹائسن 2004 اور 2005 کے مقابلے ہار گئے، اس کے بعد انہوں نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ۔مائیک ٹائسن باکسنگ کو لے کر ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہے ۔سال 1992 میں ٹائسن عصمت دری کے مجرم پائے گئے۔ جس کے لئے انہیں چھ برس کی سزا سنائی گئی ۔پھر 1997 میں باکسنگ کے دوران ہی انہوں نے اپنے حریف ایونڈر ہولی فیلڈ کا کان کاٹ لیا جس پر بہت تنازعہ ہوا۔ٹائیسن کو بالآخر دوبارہ لائسنس دیا گیا، اور وہ 16 جنوری 1999 کو رنگ میں واپس آئے، جب انہوں نے پانچویں راؤنڈ میں فرانز بوتھا کو ناک آؤٹ کیا۔ تاہم، 6 فروری کو، ٹائسن کو ایک سال قید، دو سال کی پروبیشن اور 200 گھنٹے کی کمیونٹی سروس کی سزا سنائی گئی، اور 1998 میں ایک آٹوموبائل حادثے کے بعد دو بوڑھے لوگوں پر حملہ کرنے کے جرم میں 2500 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ ٹائسن کو اپنی ایک سال کی سزا کے صرف چند ماہ گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ٹائسن باکسنگ رنگ کے اندر اور باہر اپنے سفاکانہ اور ڈرانے والے باکسنگ انداز اور متنازعہ رویے کے لیے جانے جاتے ہیں۔نیویارک شہر کے پیشہ ور باکسر مائیکل جیرارڈ ٹائسن”سیارے پر بد ترین آدمی” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس بات کا انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ باکسر رنگ میں اپنے حریف کھلاڑی کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوا۔ دمدار مکے، وحشیانہ حملہ، چستی کے ساتھ تابڑ توڑ حملے اس با ت کا ثبوت ہے۔ ٹائسن نے بیک وقت ڈبلیو بی اے، ڈبلیو بی سی اور آئی بی ایف ٹائٹل اپنے نام کیے۔ ٹائسن بھی پہلے راؤنڈ کے 91 سیکنڈ میں مائیکل سپنکس کو ناک آؤٹ کرکے لائنل چیمپئن بنے۔ انہوں نے 1987 سے 1990 تک غیر متنازعہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن کے طور پر حکومت کی۔ ٹائسن نے اپنی پہلی 19 پیشہ ورانہ لڑائیاں ناک آؤٹ کے ذریعے جیتی ہیں۔مائیک ٹائسن کو باکسنگ کی دنیا کا بیڈ مین کہا جاتا ہے۔ مائیک ٹائسن ہمیشہ اپنے جارحانہ انداز کے لیے مشہور رہے ہیں۔ مائیک ٹائسن کی ذاتی زندگی ان کے باکسنگ کیریئر کی طرح کامیاب نہیں رہی۔سال 1985 میں رنگ میگزین پراسپیکٹ آف دی ایئر کا ایوارڈ دیا گیا۔ سال 1986 اور 1988 میں رنگ میگزین فائٹر آف دی ایئر کا خطاب جیتا۔ سال 1987 اور 1989 میں شوگر رے رابنسن ایوارڈ دیا گیا۔ پھر سال 1989 میں بی بی سی اسپورٹس پرسنالٹی آف دی ایئر اوورسیز پرسنالٹی کے خطاب سے نوازا گیا ۔ سال 2011 میں انٹرنیشنل باکسنگ ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔












