نئی دہلی، پریس ریلیز،ہمارا سماج:ربانی عالم دین در حقیقت وہ علماء ہیں جوانبیاء کے حقیقی وارث ہیں اورانبیاء کے بعد اپنی اپنی قوم میں انبیاء کے خلیفہ اورنائب ہیں، یہ بلند مرتبہ کے علما ء ہیں جن کی نسبت اللہ رب العالمین کی جانب اوردین اسلام کی تعلیمات پر امت اسلامیہ کی تربیت کی جانب ہے، یہ علم کے مطابق عمل کرتے ہیں اوراللہ کے مشن کی تکمیل میں لگے رہتے ہیں ۔ مدارس اسلامیہ کے طلبہ، اساتذہ اورعلماء کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ آج کے پرفتن دور میں اپنے آپ کو مضبوطی کے ساتھ علم کے ہتھیار سے لیس کریں اور قرآن وسنت کو فہم سلف کے مطابق سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں نیز اپنے اندر ربانی عالم ہونے کی صفات کوبیدار کریں ، اپنی شخصیت کوہلکا اور بے وزن نہ ہونے دیں بلکہ بھاری بھرکم اور وزن دار شخصیت کے مالک بنیں اگر طالبان علوم نبوت اورمدرسین وعلماء نے اپنی شخصیت کوکمزور کرلیا تو پوری امت کمزور پڑجائے گی اورایسے کرنے والے علماء سے آخرت میں باز پرس ہوگی۔ ایک عالم ربانی کی یہ صفت ہر گز نہیں ہوسکتی کہ وہ نمازوں میں کاہلی کرے ، سوشل میڈیا ،کیمرہ اورچمک دمک کا بندہ بن کررہ جائے ، ہر شخص کی طرح اچھے برے اورجھوٹ اورسچ کی تحقیق کے بغیر اس کا ساتھ دے یا اسے پھیلائے ، اتہام تراشی اورجھوٹ سے کام لے ، کسی کوبے جابدنام کرے اور گالی گلوچ کرے ۔ اپنے قلم یا اپنی زبان کا غلط استعمال کرے وغیرہ ۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر عمومی مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کے اعلیٰ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کی جامع مسجد عمر بن الخطاب میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔مولانا علماء اور طالبان علوم نبوت کوایک عالم ربانی کی صفت سے متصف رہنے کی اہمیت اور مسئولیت پر خطاب فرمارہے تھے ۔ مولانا نے ایک عالم ربانی کی بعض اہم صفات پرگفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک عالم دین کو مکمل امانت داری کا ثبوت دیتے ہوئے اللہ کی جانب نسبت کرکے اپنے آپ کو ربانی عالم کی حیثیت سے د نیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ہر عالم دین کی مسئولیت و ذمہ داری ہے اور اس سے متعلق تمام علماء سے آخرت میں سوال کیا جائے گا ۔












