لکھنؤ، (یو این آئی) وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اگلے تین برسوں میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ کرگل وجے دیوس کے موقع پر جمعہ کو کینٹ کے علاقے میں منعقدہ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ تیسری معیشت بننے کا مطلب ہے کہ ہندوستان خوشحالی کی نئی سطح قائم کرکے خود انحصاری کے ہدف کو حاصل کرنے کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں ڈیفنس کوریڈور کے چھ نوڈ پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے ۔ یہاں ہندوستانی اور غیر ملکی دفاعی شعبے کی کمپنیاں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کر رہی ہیں، جو دفاعی شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کی ایک نئی مثال پیش کر رہی ہیں۔ یوگی نے کہا کہ 1999 میں ہونے والی کارگل جنگ کو پاکستان نے ڈھکے چھپے انداز میں ہندستان پر مسلط کیا تھا جس کا ہمارے بہادر سپاہیوں نے منہ توڑ جواب دیا اور پاکستان کو شکست دی۔ اس وقت ہندوستان نے کارگل فتح کا اعلان کرکے پوری دنیا کو اپنی بہادری اور شجاعت کا لوہا منوایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک پرامن ملک ہے ، جو جمہوری اقدار اور نظریات پر یقین رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک آزادی کے امرت کال میں داخل ہو چکا ہے ۔ اس کے پیش نظر ہمیں خود سے اوپر اٹھ کر ترقی یافتہ ہندوستان کے تصورات کو پورا کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ میرا اور تیرا کے جذبات کو ختم کرتے ہوئے ہمیں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج ملک میں پرامن اور ہم آہنگی کا ماحول ہے اور جب کسی ملک میں ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس سے ملک کی خوشحالی کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔ سی ایم یوگی نے ملک کی سرحد کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کی یادوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پوری ریاست کو کارگل وجے دیوس کی مبارکباد دی۔ پروگرام سے پہلے یوگی نے کارگل میموریل گارڈن میں نصب شہید میجر رتیش شرما، کیپٹن منوج پانڈے ، کیپٹن منوج مشرا، لانس نائک کیواڈا نند دویدی اور رائفل مین سنیل جنگ کے مجسموں پر گلہائے عقیدت پیش کرکے سلام کیا۔ پروگرام میں یوگی کے ساتھ شہری ترقی اور توانائی کے وزیر اے کے شرما، میئر سشما کھرکوال، ایم ایل سی ڈاکٹر مہندر سنگھ، مکیش شرما، رام چندر پردھان، پون کمار چوہان، انجینئر اونیش کمار سنگھ، سومیش ترویدی، ایم ایل اے نیرج بورا اور دیگر معززین بھی موجود تھے ۔












