واشنگٹن (یو این آئی) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس سے ملاقاتیں کیں جس میں غزہ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر اور امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بات چیت کے لیے ایک وفد کو روم بھیجیں گے۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا ’یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہم معاہدہ کرنے کے کتنے قریب ہیں، تاہم حماس پر فوجی دباؤ بڑھنے کی وجہ سے پیش رفت ہوئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر چند تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جس میں سابق امریکی صدر نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ کا اپنے فلوریڈا ریزورٹ میں استقبال کرررہے ہیں۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے نیتن یاہو کے ہاتھ میں ایک کیپ ہے جس پر ’ٹوٹل وکٹری‘ لکھا ہوا ہے، یعنی وہ حماس پر مکمل فتح حاصل کرنے کی نیتن یاہو کے بیان کردہ اہداف کی طرف اشارہ کررہے ہیں، حالانکہ اسرائیل کے سرکاری حلقوں کی جانب سے مختصر مدت میں عملی طور پر اس پر شک کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس سے قبل، اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر جوبائیڈن، ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جس میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کی تجویز پر بات چیت ہوئی۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 39 ہزار 175 فلسطینی شہید اور 90 ہزار 403 زخمی ہوچکے ہیں۔












