اسرائیل:اسرائیل کے زیر قبضہ شامی علاقے گولان میں گاؤں مجدل شمس کو نشانہ بنانے والی بمباری پر اسرائیل ے رد عمل کی توقع کے درمیان حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر حملے کئے جارہے ہیں۔
حزب اللہ نے منگل کی صبح قصبہ بیت لیو پر اسرائیلی بمباری میں اپنے ایک رکن کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا۔ اسرائیلی فوج نے منگل کے روز کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں 7 الگ الگ مقامات پر حزب اللہ کے 10 ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے پریس آفس سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ رات کے وقت زمینی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔
پیر کی شام اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اصبع الجلیل کے علاقے کی طرف 20 راکٹ فائر کیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں لانچ پیڈ کو تباہ کر دیا اور حزب اللہ کے ارکان کو ختم کر دیا۔ حزب اللہ نے جواب میں 3 اسرائیلی مقامات کو نشانہ بنایا۔
فوج نے ”ایکس““پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے فوجی طیارے نے پیر کے روز جنوبی لبنان میں کفر حمام کے علاقے (قضا حاصبیا) میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے مقبوضہ علاقے کی طرف راکٹ داغے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میس الجبل کے علاقے میں کام کرنے والے حزب اللہ کے ایک سیل پر بھی حملہ کیا اور اسے ختم کر دیا۔
یاد رہے ہفتے کے روز شام کے گولان کی پہاڑیوں کے قصبے مجدل شمس میں فٹ بال کے میدان پر گرنے والے راکٹ کے نتیجے میں 12 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق دروز برادری سے تھا۔ اسرائیل نے حملے کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا تھا۔ حزب اللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اسرائیل لبنان پر حملے کا جواز بنانے کے لیے الزام تراشی کر رہا ہے۔ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ ہفتہ کے اس حملے کی حزب اللہ کو قیمت چکانا ہوگی۔
دریں اثنا لبنان میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کے خلاف اسرائیل کے اندر سے مضبوط آواز بلند ہو گئی ہے۔ اسرائیل جس دروز کمیونٹی کو 12 نوعمر بچوں کی لاشوں کو لبنان میں انتقام کے لیے سیڑھی بنانا چاہتا تھا، اس میں ایک بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے اور دروز کمیونٹی کے زعما نے مطالبہ کیا ہے ہماری بچوں کے خون کو نئی جنگ کا بہانہ نہ بنایا جائے۔
منگل کے روز اسی دروز کمیونٹی کے نمائندوں نے نہ صرف اپنے عقائد کے مطابق کسی انتقامی قتل یا جنگ کو مسترد کر دیا ہے بلکہ گولان کی پہاڑیوں کو بھی مقبوضہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھی اسرائیلی قبضے میں آچکی شامی سرزمین کے شامی باشندے ہیں۔ دروز کمیونٹی کے زعما نے خود کو حزب اللہ کے خلاف لبنان میں ایک نئی ممکنہ اسرائیلی جنگ سے دور کر لیا ہے۔
واضح رہے اسرائیلی قبضے میں شام کی گولان کی پہاڑیوں سے متصل مجدل شمس کے علاقے میں دروز کمیونٹی آباد ہے۔ یہ عرب شناخت رکھتے ہیں اور مذہبی اعتبار سے بھی خود کو شیعہ مسلمان کہتے ہیں۔ تاہم یہ ہر حوالے سے شامی اثرات لیے ہوئے ہیں نہ کہ ایرانی اثرات رکھنے والے ہیں۔ مجدل شمس پر میزائل حملے کے بعد نہ صرف یہ کہ نیتن یاہو نے مجدل شمس میں فوری طور پر فون کر کے دروز کمیونٹی کے ساتھ 12 افراد کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کیا ۔












