پیرس؍اسلام آباد ( آئی این ایس انڈیا )
پیرس اولمپکس میں مینز جیولین تھرو ایونٹ کے فائنل میں ارشد ندیم نے92.97 میٹر کی تھرو کرکے نیا اولمپک ریکارڈ بناتے ہوئے پاکستان کو گولڈ میڈل جتوادیا۔پیرس اولمپکس میں مینز جیولین تھرو ایونٹ کے فائنل میں پوری قوم کی نظریں ارشد ندیم پر تھیں جو پاکستان کو 32 سال بعد اولمپکس میں کوئی میڈل دلانے کی واحد امید تھے۔خیال رہے کہ پاکستان نے آخری مرتبہ 8 اگست 1992 کو اولمپکس میڈل پوڈیم پر قدم رکھا تھا، جب قومی ہاکی ٹیم نے بارسلونا اولمپکس میں نیدرلینڈز کو تین کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا ،جب کہ پاکستان نے آخری مرتبہ 1984 میں اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا جوکہ ہاکی ٹیم نے ہی دلوایا تھا۔آج ہونے والے فائنل مقابلے میں ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹیباگو کیکیشور ن نے پہلی تھرو 86.16 کی کی جب کہ پاکستان کے ارشد ندیم پہلی تھرو نہ کرسکے۔ جرمنی کے جیولین ویبر بھی پہلی تھرو نہ کرسکے۔فن لینڈ کے لاسی نے 78.81 کی پہلی تھرو کی، انڈیاکے نیرج چوپڑا کی پہلی تھرو ضائع ہوگئی۔فن لینڈ کے اولیور ہیلینڈر نے پہلی تھرو 80.92 کی کی۔جمہوریہ چیک کے جیکب ویلیج نے دوسری تھرو 84.52 کی کردی۔جیولین تھرو کے فائنل مقابلے میں بھارت نے چاندی اور گریناڈا نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ان کے بعد پاکستان کے ارشد ندیم نے اپنی دوسری تھرو 92.97 میٹر کی کرکے نیا اولمپک ریکارڈ بنا دیا۔ ارشد ندیم کی یہ اس مقابلے کی اب تک سب سے بہترین تھرو ہے۔اس سے قبل اولمپک ریکارڈ 90 اعشاریہ 57 میٹر کا تھا جو کہ ناروے کے اینڈریاس تھورکلڈیسن نے 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں بنایا تھا۔جرمنی کے جیولین ویبر نے اپنی دوسری تھرو 87.33 کی کردی۔ بھارت کے نیرج چوپڑا نے اپنی دوسری تھرو 89.45 کی کردی۔پیرس اولمپکس میں مینز جیولین تھرو فائنل کے دوسرے راؤنڈ میں فن لینڈ کے ایٹیلاٹو نے دوسرے راؤنڈ کی پہلی تھرو 82.02 میٹر کی۔
دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے پیرس اولمپکس میں جیولین تھرو مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے کھلاڑی نیرج چوپڑا سے فون پر بات کی اور انہیں مبارکباد دی۔
اس دوران مسٹر مودی نے خیریت دریافت کی اور ایڈکٹر کا مسئلہ بھی دریافت کیا۔ وزیر اعظم نے نیرج کی ماں کے کھیل کے جذبے کی تعریف کی۔ مودی نے فون پر چوپڑا کی کامیابی اور لگن کی تعریف کی۔
اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ “نیرج چوپڑا ایک عظیم انسان ہیں، انہوں نے بار بار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہندوستان بہت خوش ہے کہ وہ ایک اور اولمپک کامیابی کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔ چاندی کا تمغہ جیتنے پر انہیں مبارکباد۔ وہ لاتعداد ایتھلیٹس کو ان کے خوابوں کو پورا کرنے اور ہمارے ملک کا سر فخر سے بلند کرنے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔












