نئی دہلی (یو این آئی) ہندستانی بلے بازوں نے دنیا میں جس طرح اپنا نام روشن کیا اسی طرح گیند بازوں نے بھی کچھ ایسے ہی کارنامے انجام دیئے ہیں جن کو کبھی فرامو ش نہیں کیا جاسکتا ۔ ہندستان کے کچھ ہی ایسے گیند باز ہیں جن کی شہرت کی کہانی پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان ہی نامور کھلاڑیوں میں سےایک کھلاڑی ہیں جواگل سری ناتھ، جن کا شمار ان گیند بازوں میں ہوتا ہے جن کی گیندیں حریف بلے بازوں کے لئے آگ اگلتی تھیں۔ جواگل سری ناتھ ہندوستان کی کرکٹ تاریخ کا ایک انمٹ نام ہے۔ جواگل سری ناتھ کا بولنگ ایکشن انتہائی خطرناک تھا۔ کرناٹک کے میسور میں 31 اگست 1969 کو پیدائش ہوئی۔ سری ناتھ کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا۔ انہوں نے مریمالپا ہائی اسکول سے بنیادی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے انجینئرنگ کی ڈگری جیاچماراجیندر کالج آف انجینئرنگ میسور سے حاصل کی۔ انجینئرنگ کرنے کے بعد امریکہ میں ملازمت حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے اس شریف النفس کھلاڑی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ کرکٹ کی دنیا میں اتنی شہرت حاصل کرے گا۔ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن میں کئی فاسٹ بولرز تکنیکی طور پر تیار کیے گئے تھے۔ اس اکیڈمی کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب میسور ایکسپریس جاواگل سری ناتھ دنیا کے سامنے ابھرے۔ سری ناتھ کی کامیابی سے اس اکیڈمی نے نام اور کامیابی دونوں حاصل کیں۔ سری ناتھ کی ایسی شخصیت، قابلیت اور پرفارمینس ہے کہ 2002 میں کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں اس وقت کے کپتان سورو گنگولی نے 2003 کا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے مدعو کیا تھا۔ سری ناتھ نے اپنے آخری ورلڈ کپ میں ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ 16 وکٹ لیے تھے۔ سری ناتھ جس زمانے میں کرکٹ میچ کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔ اسی زمانے میں ریاستی ٹیم کے سلیکٹر گونڈپا وشواناتھ کی نظر ان پر پڑی۔ انہوں نے سری ناتھ کو تربیت دی اور انہی کی زیر تربیت سری ناتھ نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ کرناٹک کی جانب سے سال1989 میں حیدرا ٓباد کے خلاف کھیلا۔ اس میچ میں انہوں پہلی اننگز میں ہیٹ ٹرک بنائی ۔ سری ناتھ نے 6 میچوں کی سیریز میں 25 وکٹ لئے۔ اس کےبعد انہوں نے مہاراشٹر کے خلاف کھیلتے ہوئے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 93 رن دے کر 7 بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔سری ناتھ اپنے ٹیسٹ کریئر کی شروعات 29 نومبر 1991 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی جبکہ اپنا آخری ٹسٹ 30 اکتوبر 2002 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔وہیں انہوں نے اپنا پہلا بین الاقوامی ایک روزہ میچ 18 اکتوبر 1991 کو پاکستان کے خلاف کھیلا اور آخری ایک روزہ میچ 23 مارچ 2003 کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔کپل دیو کی سوئنگ کند ہوجانے کے بعد ہندستان کے پیس اٹیک سنبھالنے اور اسے زندہ رکھنے والے بالر صرف سری ناتھ ہی تھے۔ انکے پاس گیند کو اندر کی طرف سوئنگ کرانے ، ان کٹر کرانے کا اتنا ہنر تھا کہ بلے باز ان کی گیندوں کو سمجھ نہیں پاتے تھا۔ کپل دیو کے ریٹائرمنٹ کے بعد سری ناتھ نے اپنا پہلا ہوم ٹسٹ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔ انہوں نے اس میچ میں پانچ وکٹ لئے۔ دوسری طرف انہوں نے دوسری اننگز میں بلے بازی کے بھی جوہر دکھائے۔ انہوں نے شاندار 60 رن بناکر ہندستان کو 96 رنوں سے جیت دلائی۔ اس میچ میں انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔واضح رہے کہ سری ناتھ ہندستان کی جانب سے 300 وکٹ لینے والے پہلے تیز گیند باز بھی ہیں۔ ٹیم انڈیا کی جانب سے کھیلتے ہوئے سری ناتھ نے 229 میچوں کی 227 اننگز میں 315 وکٹ لئے ہیں۔ ان میں تین مرتبہ ایسا موقع بھی آیا ہے جب سری ناتھ نے ایک اننگز میں پانچ سے زائد وکٹ لے کر حریف ٹیم کی کمر توڑ دی۔ سری ناتھ نے 1991 میں شارجہ میں ولز ٹرافی میں اپنا ایک روزہ بین الاقوامی آغاز کیا۔ وہ 34 میچوں میں 44 وکٹوں کے ساتھ ورلڈ کپ میں ہندوستان کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر بھی ہیں۔سری ناتھ کا شمار ہندستان کے ایسے گیند بازوں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے بہت کفایتی اندازمیں گیند بازی کی ۔ 67 ٹسٹ میچوں کی 121 اننگز میں سری ناتھ 236 وکٹ لئے۔ جس میں پانچ مرتبہ پانچ سے زائد وکٹ بھی لئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایک اننگ میں پوری ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کا شرف بھی سری ناتھ کو حاصل ہے۔اپنے وقت کے ملک کے سب سے تیز گیند باز جواگل سری ناتھ نے ہندوستانی تیز گیند بازی کے لیے ایک نئی شروعات کی۔ سری ناتھ واقعی ایک تیز گیند باز تھے اور 1995 سے مارچ 1997 کے درمیانی عرصے میں سری ناتھ کی رفتار بعض اوقات خوفزدہ کر دیتی تھی۔ وہ کھیل کے تیز ترین گیند بازوں میں سے ایک تھے۔ سری ناتھ 1995 میں کپل دیو کی ریٹائرمنٹ کے بعد اہم گیند باز بن گئے ۔ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے تیز ترین گیند بازوں میں سے ایک، سری ناتھ اپنے کرکٹ کریئر میں بہت کچھ مزید حاصل کر سکتے تھے اگر انہیں اپنے کھیل کے دوران کئی زخموں کا مقابلہ نہ کرنا پڑتا۔ چوٹ سری ناتھ کی ترقی میں ہمیشہ رکاوٹ بنتی رہی۔گابا میں اپنا ڈیبیو کرتے ہوئے، سری ناتھ نے تیز رفتار سے گیند کو تیز کرنے اور کسی بھی سطح سے اچھالنے کی اپنی صلاحیت سے سب کو متاثر کیا۔ کپل دیو اور منوج پربھاکر کے ساتھ ساتھ، سری ناتھ کو اکثر ہندوستانی باؤلنگ اٹیک میں تیسرے تیز گیند باز کے طور پر شامل کیا جاتا تھا ۔ درحقیقت انہوں نے کپل دیو کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1994 کے آخر میں اقتدار سنبھالا تھا۔سری ناتھ نے 500 سے زیادہ فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کی ہیں۔ کرناٹک کے لیے کھیلتے ہوئے انھوں نے 24.06 کی اوسط سے 96 وکٹس لیے۔ 1995 میں، انہوں نے گلوسٹر شائر میں شمولیت اختیار کی اور اپنے واحد سیزن میں 87 وکٹیں حاصل کیں، جن میں گلیمورگن کے خلاف 9-76 شامل ہیں۔ وہ لیسٹر شائر اور ڈرہم کے ساتھ انگلش کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیل چکے ہیں۔سری ناتھ ہندستان کے ایسے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں سب سے زیادہ عالمی کپ میں ہندستانی ٹیم میں شرکت کی۔سری ناتھ چار عالمی کپوں 1992، 1996، 1999، 2003کے عالمی کپ میں شرکت کرچکے ہیں۔ ان چار عالمی کپوں میں انہوں نے اپنی شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 44 وکٹ بھی لئے۔ اتنا قابل گیند باز اور ہنر مند کھلاڑی ہمیشہ ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کرتے ہوئے چلتا ہے۔ لیکن بعض کھلاڑی ایسے بھی ہیں جو اپنے کریئر کے بعد بھی ٹیم کی خدمت گار رہتے ہیں۔ ان میں ایک نام سری ناتھ کا بھی ہے جنہوں نے اپنےکامیاب کیرئیر کے بعد ٹیم ریفری کا عہدہ بھی سنبھالا۔ 2006 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل( آئی سی سی) نے انہیں میچ ریفری منتخب کیا۔ انہوں نے 24 ٹسٹ میچ، 122 ایک روزہ میچ، اور 25 ٹی -20 میچوں کی ریفری کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہیں سال 1999 میں ارجن ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ چار ورلڈ کپ میں نظر آنے والا واحد ہندوستانی تیز گیند باز جواگل سری ناتھ کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کی لگن، محنت اور ان کے خاندان کا تعاون رہا، جس کی وجہ سے وہ آج اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔












