علی گڑھ،سماج نیوز سروس:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارسی نے شاہ جہاں کے دور میں فارسی ادبیات کی تخلیق کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو میں تاریخ کے پروفیسر ایمریٹس پروفیسر عرفان حبیب نے کہا کہ یہ شاہ جہاں کے دور میں ہی تھا کہ دبستانِ مذاہب جیسی کتاب سن 1652 میں ایک پارسی فرقے کے سربراہ خسرو اسفندیار نے مرتب کی جس کی سترہویں صدی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد تصنیف ہے جس میں مختلف مذاہب بشمول یہودیت، عیسائیت، بدھ مت، زرتشت اور اسلام کا تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس عہد کی ایک خاص بات شاہ جہاں کے بیٹے دارا شکوہ کی جانب سے 52 اپنشدوں کا ترجمہ تھا جس نے یورپی دانشور وں کو اپنے منفرد فلسفیانہ تصورات سے حیران کر دیا۔پروفیسر عرفان حبیب نے شاہ جہاں اور اس کے پردادا اکبر کے درمیان نظریاتی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ شاہجہاں اپنے پردادا کا بہت احترام کرتا تھا، لیکن دونوں کا نقطہ نظر بہت مختلف تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان اختلافات کی جھلک دو اکبر ناموں اور پادشاہ نامہ کی سرکاری تاریخ نویسی میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔مہمان خصوصی پروفیسر انور خیری (یونیورسٹی آف کابل) نے کہا کہ جب بھی شاہ جہاں نے وسطی ایشیائی فوجی مہمات کی نگرانی کے لیے افغانستان کا دورہ کیا تو اس نے متعدد یادگاروں، مساجد اور باغات کی بنیاد رکھی جو آج بھی جدید افغانستان کے منظر نامے پر موجود ہیں اور اس خطے کی ثقافتی زندگی کو تقویت بخشتے ہیں۔اپنے خطبہ استقبالیہ میں شعبہ فارسی کی صدر اور بین الاقوامی سیمینار کی کوآرڈینیٹر پروفیسر رعنا خورشید نے کہا کہ مغل بادشاہ فنون، فن تعمیر اور ادب کی کثیر جہتی سرپرستی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ بابر جو ایک مہذب تیموری شہزادہ تھا باغات اور کتابوں سے محبت کرتا تھا اور اسکالرز، مصنفین، معماروں اور خطاطوں کی بھرپور سرپرستی کرتا تھا ۔ اس نے اپنی ایک عمدہ سوانح عمری لکھی جو بابرنامہ کے نام سے معروف ہے۔ ہندوستان کے دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کی کتابوں، شاعری، علم نجوم، فلکیات اور مصوری سے لگاؤ کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے بیٹے اور جانشین اکبر نے صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتی سے متاثر ہوکر فتح پور سیکری کی تعمیر کرائی جو اس کے دورِ حکومت کی سب سے پائیدار تعمیراتی میراث ہے۔ انھوں نے اپنے جانشینوں کو ایک مستحکم انتظامی ڈھانچہ فراہم کیا۔ اپنے والد اکبر کی طرح شہنشاہ محمد نورالدین جہانگیر ادب، آرائشی فنون، فن تعمیر اور مصوری کا سرپرست تھا۔ ان کی اور ان کے والد کے دربارکی سرپرستی میں مغلیہ اسکول آف پینٹنگ کا عروج ہوا جو ہندوستانی اور اسلامی مصوری کی تاریخ کا سب سے دلچسپ اسکول ہے۔پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان، فارسی ثقافتی خطے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ مغلیہ دور میں فارسی زبان و ادب میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، خاص طور پر سبکِ ہندی کا ظہور ہوا جو عظیم شاعر مرزا بیدل کی شاعری میں نظر آتا ہے۔مہمان اعزازی اور ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر عارف نذیر نے سنسکرت کی متعدد شعری تخلیقات کا حوالہ دیتے ہوئے معاصر سنسکرت ادبی روایات میں شاہ جہاں کی تصویرکشی پر روشنی ڈالی۔سیمینار میں ہندوستان سمیت ترکی، ایران، بنگلہ دیش اور تاجکستان اور دیگر ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔اس موقع پر ایک بلیٹن اور دو کیٹلاگ کا اجراء بھی کیا گیا جنہیں پروفیسر گلفشاں خان نے اسسٹنٹ پروفیسرمسٹر آفتاب احمد اور سینئر کیوریٹر مسٹر سلیم احمدکے ساتھ مرتب کیاہے۔ ان میں بلیٹن آف آرکیالوجی، کیٹلاگ آف آرکیالوجی آف جکھیڑا: دی ارلیسٹ اربن سنٹر آف گنگا ویلی اور کیٹلاگ آف علی گڑھ اینٹی کوئیٹیز شامل ہیں اور انھیں سنٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شعبہ تاریخ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرکیالوجی سیکشن کے زیر اہتمام شائع کیا گیا ہے۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر ایم قمر عالم نے کی جبکہ ڈاکٹر ایم قیصر نے شکریہ ادا کیا۔












