سید پرویز قیصر
اولی پوپ نے ایک بلے باز کے طور پر کھیلتے ہوئے تو46 ٹسٹ میچوں میں چھ سنچریاں اسکور کی تھیں مگر ایک کپتان کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے وہ پہلے دو ٹسٹ میچوں میں کوئی سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ کپتان کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے سری لنکا کے خلاف مانچسٹر میں کھیلے گئے پہلے ٹسٹ میچ کی دونوں اننگوں میں چھ ۔چھ رن بنائے تھے۔ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹسٹ کی پہلی اننگ میں انہوں نے ایک اور دوسری اننگ میں 17رن بنائے تھے۔ اوول میں جاری سریز کے تیسرے اور آخری ٹسٹ کے پہلے دن انہوں نے کپتان کی حیثیت سے اپنی پہلی سنچری بنائی تھی اور ٹسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی جانب سے ان33 کپتانوں میں شامل ہوگئے جنہوں نے ایک کپتان کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے سنچری بنائی ہیں۔ ٹسٹ کے دوسرے دن وہ156 بالوں پر19 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے154 رن بناکر آوٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی جانب سے جن34 کپتانوں نے ٹسٹ کرکٹ میں سنچریاں اسکور کی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ سنچر یاں جو روٹ نے بنائی ہیں۔ جو روٹ نے2017 اور2022 کے درمیان جن64 ٹسٹ میچوں میں انگلینڈ کی قیادت کی تھی انکی118 اننگوں میں 46.44 کی اوسط54.35 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ14 سنچریوں اور26 نصف سنچریوں کی مدد سے5295 رن بنائے تھے۔ وہ آٹھ مرتبہ اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور228 رن رہا تھا جو انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہملٹن میں نومبر2019 میں636 منٹ میں441 بالوں پر22 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنایا تھا۔ یہ ٹسٹ کی فیصلہ کے بغیر ختم ہوا تھا۔
الیسٹیرکک نے2010 اور2016 کے درمیان جن59 ٹسٹ میچوں میں انگلینڈ کی کپتانی کی انکی111 اننگوں میں46.57 کی اوسط اور 46.37کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ12 سنچریوں اور24 نصف سنچریوں کی مدد سے4844 رن بنائے تھے۔ وہ تین مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور263 رن رہا تھا جو انہوں نے پاکستان کے خلاف ابوظبہی میں اکتوبر 2015 کو ہوئے میچ میں836 منٹ میں528 بالوں پر18 چوکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ یہ ٹسٹ کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوا تھا۔
انگلینڈ کے جس کپتان نے تیسری سب سے زیادہ سنچریاں بنائی ہیں وہ گراہم گوچ ہیں۔ گراہم گوچ نے جن34 ٹسٹ میچوں میں انگلینڈ کی قیادت کی ہے انکی63 اننگوں میں 58.72 کی اوسط اور50.46 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ گیارہ سنچریوں اور16 نصف سنچریوں کی مدد سے3582 رن بنائے تھے۔ وہ ایک مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور333 رن رہا تھا جو انہوں نے ہندوستان کے خلاف لارڈز میں جولائی1990 میں628 منٹ میں485 بالوں پر43 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ کی دوسری اننگ میں بھی وہ150 منٹ میں113 بالوں پر13 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے123 رن بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ انگلینڈ نے اس میچ میں247 رن سے جیت اپنے نام کی تھی۔
پیٹر مے نے 1955 اور1961 کے درمیان41 ٹسٹ میچوں ک میں انگلینڈ کی قیادت کی تھی جن کی65 اننگوں میں وہ54.03 کی اوسط کے ساتھ دس سنچریوں اور 15 نصف سنچریوں کی مدد سے3080 رن بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ پانچ مرتبہ اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر285 رن رہا تھا جو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاون میں مئی 1957 میں600 منٹ میں25 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ یہ ٹسٹ کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوا تھا۔












