دیوبند (سماج نیوز سروس) وقف جائیدادوں کے خلاف مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے بل کے متعلق بنائی گئی جے پی سی(پارلیمانی جوائنٹ کمیٹی) کو رائے بھیجنے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر ملی تنظیموں کے ذریعہ شروع کی گئی مہم پر بڑی تعداد میں لوگوںنے ای میل بھیج کراپنی مخالفت درج کرائی۔ آج آخری دن نماز جمعہ کے بعد ہزاروں نمازیوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیۃ علماء ہند کی اپیل پر جامع مسجد کلاں سہارنپور ،جامع مسجد دیوبند سمیت سیکڑوں مساجد کے مین دروازے کے باہر کیو آر کوڈ اسکین کر کے وقف ترمیمی بل 2024ء کے خلاف اپنی آراء بھیجی۔اس موقع پر جامع مسجد کلاں سہارنپور میں قومی اتحاد کمیٹی سہارنپور کے عہدیداران اور کارکنان نے جامع مسجد کے منیجر مولانا فرید مظاہری کی جانب سے نماز کے بعد مسجد کے تینوں گیٹ پر بار کوڈ اسکین کے پمفلٹ تقسیم کیے ، نماز کے بعد ہلکی بوندا باندی کے درمیان آج آخری دن نمازیوںنے نوجوانوں کی مدد سے پورے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنی راے بھیجی ۔بار کوڈ اسکین کرنے والوں کا کہنا تھا کہ سرکار وقف املاک پر قبضہ کرنے کے لئے ترمیمی بل کو پاس کرانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ترمیمی بل کی مخالفت جمہوری انداز میں ڈٹ کر کرینگے۔ اس موقع پر قومی اتحاد کمیٹی کے ذمہ دار مولانا فرید مظاہری، حاجی ایم شاہد زبیری دیگر اراکین کے علاوہ حاجی اکبر خان ،ماسٹر محمود ،حاجی شمشیر ،ندیم انصاری کونسلر، نعیم پیرزادہ ،سیف علی ،محمد عظیم، علی احمد ،محمد کاشف ،روش انصاری وغیرہ نے بار کوڈ مہم کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ بعد نماز جمعہ جامع مسجد کلاں کے دفتر میں وقف املاک مدارس خانقاہوں اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لیے مولانا فرید مظاہری نے خصوصی کرائی۔وہیں دیوبند کی جامع مسجد ،مسجد رشید و مسجد قدیم کے اطراف اورپرانی جامع مسجد پٹھانپورہ سمیت شہر کے متعدد مساجد میں نوجوانوں کی مدد سے کیو آرکوڈ اسکین کرکے لوگوں نے ای میل کے ذریعہ وقف بل کی مخالف میں جے پی سی کو اپنی رائے بھیجی ۔












