کانپور، سماج نیوز سروس:جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوتؐ کانپور کی جانب سے جاری رحمت عالمؐمہینہ کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں گنگاپار، شجاعت گنج، سنجے نگر اور شکلا گنج میں جلسہ رحمت عالمؐ و اصلاحِ معاشرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علمائے کرام کے بیانات ہوئے۔مدرسہ بیت العلوم سنجے نگر میں خطاب کرتے ہوئے مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پہ شفقت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ حضورؐ کے اس فرمان کی روشنی م یں ہم اپنا جائزہ لیں۔ ہمارے بچے کو تکلیف ہو تو ہم پریشان ہوتے ہیں لیکن دوسرے کے بچوں کی تکلیف کو احساس نہیں کرتے۔ ہمارا بچہ شرارت کرے تو پیار سے سمجھاتے ہیں اور دوسروں کے بچوں سے سختی سے پیش آتے ہیں۔ بطور خاص اسکول و مدارس کے اساتذۂ کرام کو اس حوالہ سے اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ اسی طرح حضورؐ سب کیلئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ چنانچہ ہمیں بھی اپنی ذات کو ہر کسی کیلئے رحمت بنانا چاہئے۔بہرائچ سے تشریف لائے مولانا محمد امین صاحب نے اصلاحِ معاشرہ پہ گفتگو کرتے ہوئے ماہِ ربیع الاول میں ہونے والی بے جا رسومات و خرافات کی قباحت اور سنت پر چلنے کی اہمیت کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنت کہتے ہیں حضورؐ سے محبت حضورؐ کی پسند کے مطابق اور بدعت کہتے ہیں حضورؐ سے محبت اپنی پسند کے مطابق۔ لہذا ہمیں عشق میں بھی حضورؐ کی پسند کا خیال رکھنا چاہئے۔مسجد اولیاء گنگاپار میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبداللہ قاسمی امام مسجد طیبہ سریاں نے سیرت کی روشنی میں تعلیم کی اہمیت کو بیان کیا۔ انہوں نے بتلایاکہ شریعت میں علم کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی اقرأ نازل ہوئی جس میں پڑھنے کا تذکرہ ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس سے شریعت میں علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔مسجد ابراہیم شجاعت گنج میں خطاب کرتے ہوئے مولانا امیر حمزہ قاسمی نے عقائد خصوصا عقیدۂ توحید، رسالت اور آخرت نیز قرب قیامت کی علامات اور حضورؐ کی ہدایات پر روشنی ڈالی نیز جھوٹے مہدی و مسیح کے دعوے داروں سے بچنے کی تلقین کی۔مدرسہ رشید العلوم شکلا گنج میں خطاب کرتے ہوئے مولانا حذیفہ قاسمی نے کہا کہ حضورؐ کا خاص وصف خدمت خلق تھا۔ آپؐ نے بلا تفریق مذہب تمام انسانوں کی مدد اور خیر خواہی کی تلقین فرمائی ہے۔ مسلمانوں کا امتیاز ہے کہ وہ جہاں رہتے ہیں آس پڑوس کے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ سیرتؐ کا اہم پیغام ہے۔سنجے نگر میں حافظ نورالہدی جامعی، مولانا محمد ناصر جامعی، مولانا عیسی قاسمی، قاری عبدالمعید چودھری، مفتی اظہار مکرم قاسمی، گنگا پار میںمولانا عثمان قاسمی، مولانا کوثر جامعی، شجاعت گنج میں مفتی شعیب ندوی، مولانا محمد ارشد قاسمی اور شکلا گنج میں مولانا محمد عاقب جامعی، مولانا محمد زید حنفی سمیت اہم ذمہ داران شریک رہے۔












