نئی دہلی،18دسمبر،پریس ریلیز،ہمارا سماج: پروگرام کی شروعات قرآن کی سور حم ٓ سجدہ کی آیات کی تلاوت سے کی گئی۔گیارھویں جماعت کے زید احمد نے ان آیات کی تلاوت کی۔ سابق نائب وزیراعلیٰ حکومت دہلی منیش سسودیہ نے بطور مہمان خصوصی پروگرام میں شرکت کی اورکھیلوں کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے مشعل روشن کی۔ انہوں نے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں میں حصہ لینا بہت ضروری ہے خواہ آپ زندگی کے کسی شعبے میں جائیں مگر کھیل آپ کو نظم و ضبط میں رہنا سکھاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ نے کہا کہ طلبا ملک و قوم کی امانت ہیں اس لیے ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ طلبا نے اسکول ترانہ پیش کرتے ہوئے اسکول کے تئیں اپنی محبت اور عزائم کا اظہار کیا، طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے گیت پیش کیے گئے۔ مارچ پاسٹ کے ذریعے طلبا نے سابق نائب وزیراعلیٰ کو سلامی دی۔کھیل کود کی اہمیت بتانے کے ساتھ طلبا نے رنگا رنگ پروگرام پیش کیے گئے جن میں پوم پوم ڈرل، نرسری ، کے جی جماعت کے طلبا نے پیش کی۔ پہلی سے پانچویں جماعت تک کے طلبا نے اپنے جوش و خروش اور دلی جذبات کو بیان کرنے کے ساتھ ملک سے محبت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی ڈرل پیش کیے گئے۔ پروگرام کو مزید کامیاب بنانے کے لیے پہلی سے بارھویں جماعت تک مختلف طرح کی دوڑوں کے مقابلے کرائے گئے۔ جیت حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سرٹیفکیٹ دیئے گئے اور انعامات سے نوازا گیا۔
پروگرام میں والدین کی حصہ داری ظاہر کرنے کے لیے بھی دوڑ کے مختلف مقابلے رکھے گئے۔ کریسنٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے جنرل سکریٹری اخلاص احمد شفیع نے مہمان خصوصی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ان کا آنا ہمارے لیے باعث مسرت ہے اور ان کی خوش مزاجی اور تعلیم کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ پروگرام کے اختتام پر اسکول کے منیجر ڈاکٹر شمیم احمد نے مہمان خصوصی کی آمد کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس پروگرام میں شریک ہوکر طلبا کے حوصلوں کو ایک نئی اڑان دی ہے اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک نیا جوش ملا ہے۔ پروگرام میں دلی کے سابق ڈپٹی میئر آل محمد اقبال ، محمد ثاقب، کریسنٹ اسکول موجپور کے منیجر نذیر احمد اور انور شاہد نے شرکت کی۔ پروگرام کی تیاری اسکول کے پی ٹی آئی مسٹر وپن تیاگی، اکمل خاں او رسنینا مرزا کے ساتھ ساتھ اسکول کی پرنسپل فوزیہ ممتاز اور سینیر اساتذہ ڈاکٹر نکہت پروین، ریجی تھامس، سنجیو رنجن، شاہد عباسی کے زیرِ نگرانی ہوئی۔ پروگرام کی نظامت شاذفر خالد ، یسریٰ، مدیحہ اور ندا نے کی۔












