ممبئی 27؍ دسمبر،پریس ریلیز ،ہماراسماج: علم دین کا سیکھنا ہر مؤمن کے ذمہ فرضِ عین ہے کہ جس سے اسے اللہ کی پہچان ہو، اسی طرح اتنا علم سیکھنا ہر مؤمن کے ذمہ فرضِ عین ہے جو اس کو حرام حلال کی تمیز کرادے،اوریہ علم حاصل کرنابھی ضروری ہے جس سے اُسے پاکی ناپاکی کا ادراک ہوجائے۔ اسی طرح وہ شخص جس شعبہ میں کام کررہا ہے یا جس شعبہ کا آدمی ہے، اُس شعبہ سے متعلق اُسے ضروری اسلامی تعلیمات کا علم ہو۔ اسی طرح تمام فرائض اور ضروریاتِ زندگی سے متعلق ضروری مسائل سے آشنا ہو۔ نیز نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج وغیرہ جیسے دین کے بنیادی اعمال کی معلومات اور ان سے متعلق ضروری مسائل کا علم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی درست خوانی کا اہتمام کرتا رہے اور کم از کم اس حد تک قرآنِ کریم کی سورتیں یاد کرلے جس سے نماز صحیح ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب ( مبلغ دار العلوم دیو بند ) نے جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام مسجد عاشقان رسول شیواجی نگر گوونڈی میں منعقدہ جلسہ سیرۃ النبیﷺ واصلاح معاشرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا عرفان قاسمی صاحب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام علم والادین ہے،اسی لیے اسلام نے ہر مسلمان مردوعورت پر علم دین حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے، کیونکہ علم کے بغیر کوئی بھی انسان نہ رب کی عبادت کرسکتا ہے اور نہ ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔ اسلام نے علم کو کیا اہمیت دی ہے اور اس دینی علم کی ہمیں کتنی ضرورت ہے اور علم سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔کھانا پینا انسان کی بنیادی ضرورت ہے، جس سے وہ زندہ رہتا ہے، لیکن دینی علم سے انسان کی روح کو زندگی ملتی ہے،جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے ویسے ہی دینی علم سے انسان کی روح اور اس کا دل زندہ ہوجاتا ہے۔اجلاس کا آغاز مولانا زاہد قاسمی صاحب ( نائب مہتمم جامعہ معراج العلوم چیتا کیمپ ) کی تلاوت قرآن کریم اور نعتیہ کلام سے ہوا ،مفتی محمد عمران قاسمی صاحب ( امام و خطیب مسجد عاشقان رسول شیواجی نگر گوونڈی) نظامت کا فریضہ انجام دیا ، واضح رہے کہ گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ممبئی و مضافات میں صوبائی صدر مولاناحافظ محمد ندیم صدیقی صاحب (صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) کی ہدایت کے مطابق سیرت النبیﷺ اور اصلاح معاشرہ کے پروگرام کامیاب پیمانےپر منعقد کئے جا رہے ہیںاور اس میں علماء کرام کے قیمتی خطاب ہو رہے ہیں ،اس پروگرام میں مولانا اشفاق قاسمی صاحب ،مفتی عامر قاسمی صاحب ،مولانا بدر الدجی قاسمی صاحب و دیگر شریک تھے ۔












