ممبئی ،پریس ریلیز ،ہماراسماج: اس وقت دین وایمان اور عقیدہ کی حفاظت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے،ارتداد تیزی کے ساتھ پھیلتا جارہاہے،ارتداد نئی نسل میں منتقل ہورہاہے، اس نازک صورتحال میں ہمیں ان مسلمانوں کے بھی دین وایمان کی فکر کرنا ہے،جہاں پچانوے فیصد برادران وطن رہتے ہیں اور صرف پندرہ فیصد مسلمان ہیں، ہمیں اپنے نسلوں کے ایمان کی فکر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مفتی محمد روشن شاہ قاسمی صاحب نے مکتب دارلعلوم سونوری تعلقہ مرتضٰی پور ضلع آکولہ میں منعقدمشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔انہوں نے دینی تعلیم بورڈ کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ گذشتہ یکم جنوری سے حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) کی ہدایت پر پورے صوبہ مہاراشٹر میں دینی تعلیمی بیداری مہم چلائی جارہی ہےاس مہم کا بنیادی مقصد آنے والی نسلوں کو ارتداد سے بچانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی تعلیم پر خوب محنت کریں اپنی اولاد کو دین سے دور نہ رکھیںورنہ یہی اولاد ہمارے لئے وبال جان بن جائے گی ،اس لئے انکی تعلیم کی فکر کریں اور انہیں اچھی سے اچھی تعلیم دیںا مکتب کا ہر اعتبار سے ساتھ دیں تاکہ تمام طلبہ وطالبات منظم طریقہ سے تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس مشاورتی اجلاس کا آغاز حافظہ ام کلثوم سلمہا کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ، اشفیہ انجم سلمہا نے نعت پاک پیش کی، حافظ اشفاق صاحب صدر مکتب دارلعلوم سونوری نے مکتب کے بچوں کی تعلیمی لائن سے پرنس کے سامنے سال بھر کی تعلیمی کارکردگی پیش کی جس میں وہ بچوں کی بھی ہمت افزائی کی گئی ہے جنہوں نے سال میں ایک بھی غیر حاضری نہیں کی 21 طلبہ ہے دو طلبہ اسے ہے جنہوں نے حفظ قران مکمل کیا ۔مکتب کے مدرسین حافظ محمد مصیب صاحب مکتب دارلعلوم سونوری حافظ محمد عمران صاحب مکتب دارلعلوم سونوری نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ،اس پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے ۔












