غزہ:اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے آج جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ "غزہ میں اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے”۔دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا ہے کہ یرغمالیوں کو آزاد کرنے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسیروں کے استقبال کی تیاری کی جائے جو سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں یرغمال ہیں۔
یرغمال اسیروں کے گھر والوں کو معاہدہ دستخط ہونے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔
اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کا اجلاس آج جمعے کے روز ہو رہا ہے جس کے بعد سمجھوتے کی توثیق کے لیے حکومت کا اجلاس ہو گا۔
ا خبر اسرائیلی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کا مذاکراتی وفد قطر کے دار الحکومت سے تل ابیب کے لیے روانہ ہو گیا۔ معاہدے پر ووٹنگ سے قبل وزراء اس کی تفصیلات جانیں گے۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔
نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کے تمام مقاصد کے حصول اور تمام اسیروں کی واپسی یقینی بنانے پر کاربند ہے۔ ان کا اشارہ دائیں بازو کے بعض شدت پسند وزراء کو مطمئن کرنے کی جانب تھا جو مستعفی ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان میں سر فہرست قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئر اور وزیر مالیات بتسلیل سموٹرچ ہیں۔
اگر وساطت کار مداخلت نہ کرتے تو مذکورہ معاہدہ گذشتہ گھنٹوں کے دوران میں ختم ہونے کے قریب تھا۔ بالخصوص نیتن یاہو کی جانب سے کل جمعرات کے روز حماس پر نئے مطالبات بڑھانے کے الزام کے بعد جب کہ تنظیم نے اس الزام کی یکسر تردید کر دی۔
بعد ازاں العربیہ کے ذرائع نے بتایا کہ معاہدے میں حتمی ترامیم کر دی گئیں جس کے بعد تمام فریقوں نے اس پر دستخط کر دیے۔
یاد رہے کہ غزہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو گا اور اس پر عمل درآمد 3 مراحل میں ہو گا۔پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ اس کے دوران میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا ہو گا۔ اسی طرح 33 اسرائیلیوں کو آزاد کیا جائے گا جن میں خواتین، بچے اور پچاس سال سے زیادہ کے افراد شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ دو امریکی کیتھ سیگل اور سیجوے ڈیکل چن بھی ہیں۔
دوسرے مرحلے میں بقیہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، مستقل فائر بندی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور اس کے مقابل ایک ہزار سے زیادہ فلسیطنی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔
تیسرے مرحلے میں تمام بقیہ میتیں واپس کی جائیں گی اور مصر، قطر اور امریکا کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شروع ہو گی۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی حکومتی توثیق کو ملتوی کرنے اور حماس پر اس کی بعض شقوں سے انکار کا الزام لگائے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے معاہدے کے نفاذ کے وقت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ غزہ معاہدے پر عمل درآمد اتوار سے شروع ہو جائے گا۔ غزہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 15 ماہ کی تکالیف کے بعد غزہ پر ایک معاہدہ کیا۔












