يمن:میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ روکے جانے کے بعد بحیرہ احمر میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے میزائل حملے بھی روک دیے جائیں گے۔ جیسا کہ ان کا ماضی میں اعلان بھی رہا ہے۔ میری ٹائم کے ماہرین کے حوالے سے ‘رائٹرز نے رپورٹ کرتے ہوئے یہ نشاندہی کر رہے ہیں کہ یمنی حوثیون نے بھی ایسے اشارے دیے ہیں۔ حوثیوں نے اپنی سیکیورٹی بریفنگ روک دی ہے۔ نیز حوثی لیڈر عبدالمالک الحوثی نے جمعرات کے بعد ایک خطاب کا بھی ارادہ کیے ہوئے ہیں۔امکان ہے کہ اپنے اس خطاب میں وہ بحری جہازوں پر حملے روکنے کا اعلان کر دیں تاہم ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے ان اطلاعات اور توقعات کے بارے میں ابھی تک کسی بھی تبصرے سے گریز کیا ہے۔
اس حوثی گروپ نے نومبر 2023 سے بحیرہ احمر کو عبور کرنے والے بحری جہازوں پر 100 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے بارے میں ان کا موقف رہا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہ حملے کر رہے ہیں۔یاد رہے حوثیون نے اب تک دو کشتیوں کو حملہ کر کے سمندر میں ڈبو دیا ہے، ایک کو پکڑ لیا ہے اور کم از کم چار بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔ان کے حملوں سے علاقے میں بحری جہازو ں کی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے۔ اب حوثیوں نے اسرائیل کے اندر تک حملے شروع کر دیے ہیں۔
اس دوران جنوری 2024 سے امریکہ برطانیہ کی مشترکہ بمباری کا بھی حوثی مراکز یمن میں نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اسرائیل نے بھی حملے یمن میں حوثیوں کو نشانہ بنانے کے نام پر حملوں میں انفراسٹرکچر کو تباہ کیا ہے۔ بجلی گھروں اور بندر گاہوں کے علاوہ تیل ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو اسرائیل نے بمباری سے ہدف بنایا گیا ہے۔












