فاروق تانترے
سرینگر ،سماج نیوز سروس:مہارت اور علم کو لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنانے میں طلبا کا کرداد کلید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس اور ٹکنالوجی میں مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہمیں اپنے تدریسی رہنمائی کے نظام پر ایک نئی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر وکست بھارت کے سفر پر پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ویشنو دیوی یونیورسٹی (ایس ایم وی ڈی یو) کے کانووکیشن تقریب سے خطاب کیا۔لیفٹنٹ گورنر نے یونیورسٹی کے 10ویں کانووکیشن میں ایس ایم وی ڈی یو کے فارغ التحصیل طلباء کیلئے نیک خواہشیات کیلئے نائب صدر ہند جگدیپ دھنکر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا لمحہ طلباء کی یادوں میں تاحیات نقش رہے گا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی کو آگے بڑھائیں اور اسے دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنائیں۔ہماری قوم کی طاقت کا تعین اقدار، اختراعات اور علم سے ہوگا اور مجھے پختہ یقین ہے کہ اس امرت کال میں فارغ التحصیل نوجوان مرد اور خواتین ہماری قوم کی تقدیر کو تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’آج ہمارے نوجوان خاص علم اور ہنر سے آراستہ ہیں جنہیں دیہی علاقوں کی تبدیلی کے لیے صحیح طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشن لگن اور عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کرہمارے نوجوانوں کو قدیم ثقافت سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں اور ہماری ثقافت کی حکمت پر بھروسہ ہونا چاہیے‘‘۔لیفٹنٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ مہارت اور علم کو لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے‘‘۔لیفٹنٹ گورنر نے مزید کہا کہ سائنس اور ٹکنالوجی میں مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہمیں اپنے تدریسی رہنمائی کے نظام پر ایک نئی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر وکست بھارت کے سفر پر پڑے گا۔لیفٹنٹ گورنر نے تدریسی برادری سے کہا کہ وہ اپنے طلباء کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر توجہ دیں اور تعلیمی اداروں کو ایک خوشحال ہندوستان کی تعمیر کیلئے سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار میں تبدیل کریں۔ہمارے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختراعی تعلیمی پروگرام شروع کریں اور تجسس کو پروان چڑھائیں، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں، اختراعات کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو اپنی زندگی کے تجربے کو طالب علموں کو تاحیات سیکھنے کے ہنر کی ترغیب دینا چاہیے جو مستقبل کی تشکیل کرے گی۔












